ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں سچ بولنا نہ صرف مشکل، بلکہ بعض اوقات جرم بن چکا ہے۔ جو جتنا زیادہ جھوٹ بولتا ہے، جو جتنی زیادہ چالاکی سے سچ کو موڑ سکتا ہے، وہی کامیاب، مقبول اور بااثر سمجھا جاتا ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ جھوٹ بولنے والے بڑھ گئے ہیں، المیہ یہ ہے کہ سچ بولنے والوں کو تنہا کر دیا گیا ہے۔ ہم نے معاشرتی کامیابی کا پیمانہ دیانت نہیں، بلکہ مکاری اور منافقت کو بنا دیا ہے۔ یہی وہ زوال ہے جو فرد سے قوم تک ہر سطح پر دکھائی دیتا ہے۔
اب جھوٹ صرف ایک فرد کی کمزوری نہیں رہا، بلکہ یہ اجتماعی رویّے کا روپ دھار چکا ہے۔ دفاتر سے لے کر عدالتوں، میڈیا، سیاست، اور یہاں تک کہ مذہب کے نام پر بھی جھوٹ کی ایسی ملمع کاری ہو رہی ہے کہ حقیقت کہیں دھند میں کھو گئی ہے۔ ایسے ماحول میں سچ بولنا کسی بغاوت سے کم نہیں۔ سچ بولنے والا شخص یا تو پاگل قرار دے دیا جاتا ہے، یا “غیر حقیقت پسند”۔
یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہم خود کو ایک مہذب اور ترقی یافتہ قوم کہلانا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا ترقی کا مطلب صرف مادی وسائل ہیں؟ اگر ہماری اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں تو ہم کتنے بھی فلک بوس عمارتیں کھڑی کر لیں، اندر سے ہم کھنڈر ہی رہیں گے۔
جھوٹ نے ہمارے رشتوں کو، اداروں کو، اعتماد کو، اور سب سے بڑھ کر انسانیت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اب وعدہ نبھانے والے کو بیوقوف سمجھا جاتا ہے، اور وعدہ توڑنے والے کو “سیانا”۔ ہم اپنی اولاد کو سچائی کا سبق دیتے ہیں، لیکن عملاً جھوٹ کی کامیاب مثالیں اُن کے سامنے رکھتے ہیں۔ یہ تضاد آنے والی نسلوں کو کنفیوز کر رہا ہے۔
ایک معروف تعلیمی ادارے میں ایک طالبعلم نے ایک مضمون مقابلے میں شرکت کے لیے سچ پر مبنی تحریر لکھی۔ اس کی تحریر کو مقابلے میں شامل ہی نہیں کیا گیا کیونکہ اسے “غیر حقیقت پسندانہ” اور “کڑوا” قرار دیا گیا۔ اسی ادارے میں ایک اور طالبعلم نے روایتی تعریفوں اور خوشامد پر مبنی مضمون لکھا، اور پہلا انعام جیت لیا۔ یہ واقعہ اس المیے کی ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ ہم کس طرح سچ کو دبانے اور جھوٹ کو انعام دینے کی عادت بنا چکے ہیں۔
اسی طرح ایک سرکاری دفتر میں ایک ایماندار افسر نے فائلوں کی جانچ پڑتال میں خردبرد کو رپورٹ کیا۔ اس کے نتیجے میں اسے “ناخوشگوار رویہ” رکھنے والے ملازم کے طور پر نشان زد کر دیا گیا، تبادلہ کیا گیا، اور بالآخر خود ہی استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گیا۔ دوسری طرف جو لوگ نظام کا حصہ بن گئے، وہ ترقی پاتے گئے۔
سماج میں جب سچ کا خسارہ اور جھوٹ کی اجارہ داری قائم ہو جائے تو پھر انصاف، دیانت، محبت، اور اخلاص جیسے الفاظ محض لغت میں باقی رہ جاتے ہیں۔ ایسی فضا میں تبدیلی صرف قانون سے نہیں آئے گی، بلکہ انفرادی سطح پر خود احتسابی اور اصلاح سے ممکن ہو گی۔ ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا کہ ہم اپنے روزمرہ میں کتنی بار جھوٹ بولتے ہیں، اور کیوں؟
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سچ بولنے کا حوصلہ بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے، لیکن یہی لوگ وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی کی امید بن سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچ پر قائم رہنے، سچ بولنے، اور سچ کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے معاشرے کو سچائی، دیانت اور اخلاص کی طرف لوٹنے والا بنائے۔
جو جتنا زیادہ جھوٹ بولتا ہے دنیا اسی کی ہو جاتی ہے ـــ لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں رہتا ـــ
اللہ مجھے اور آپ سب کو دین اسلام پہ چلنے اور سچ بولنے کی توفیق عطا کرے ـ