ہم انسان بھی عجب مخلوق ہیں۔ ہمارے اندر جذبوں کی ایک پوری کہکشاں آباد ہے، اور ہم ان جذبوں کو بڑی سہولت سے ایک پیمانے سے دوسرے پیمانے میں منتقل کرتے رہتے ہیں۔ کبھی الفت کے پیالے میں خلوص انڈیلتے ہیں، تو کبھی بےوفائی کے جام میں بےحسی گھول دیتے ہیں۔ مگر خود کو ہمیشہ “محبت کرنے والا” ہی سمجھتے ہیں — جیسے محبت ایک جواز ہو، ہر ہجرت، ہر جدائی کا۔
رشتے، جنہیں ہم تقدیس کے سب سے بلند میناروں پر بٹھاتے ہیں، وہی رشتے ہماری کمزور وفاداریوں کے بوجھ تلے کراہنے لگتے ہیں۔ زندگی کی کاروان سرائے میں ہم نئے پڑاؤ کی تلاش میں پرانے چاہنے والوں کو روتا ہوا چھوڑ آتے ہیں۔ مگر شاید سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ہم اس منظر کو “فطری” سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، جیسے محبت میں ہجرت کرنا بھی ایک فطری ضرورت ہو۔
یہ محبت بھی کتنی خودغرض چیز ہے۔ جب تک ہم خود کو محبوب محسوس کرتے ہیں، تب تک دنیا رنگین لگتی ہے۔ مگر جیسے ہی ہمیں کوئی نئی “منزل” دکھائی دیتی ہے، ہم اپنے پرانے خیمے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔ پیچھے رہ جانے والے دلوں کی ویرانی ہمیں نظر ہی نہیں آتی۔ اُن آنکھوں کی نمی جنہیں ہم نے خوابوں سے بھرا تھا، ہمیں بوجھ لگنے لگتی ہے۔
عمر کے ساتھ یہ زنجیر — جو محبت اور مہاجرت دونوں سے بنی ہے — لمبی ہوتی جاتی ہے۔ ہم کئی بار محبت کرتے ہیں، کئی بار ہجرت کرتے ہیں، اور ہر بار اس دھوکے میں رہتے ہیں کہ یہ آخری بار ہے۔ مگر یہ زنجیر کبھی ٹوٹتی نہیں۔ شاید محبت اور مہاجرت دونوں کی فطرت میں تسلسل ہے، اور انسان کی فطرت میں بھاگنا — خود سے، دوسروں سے، اور کبھی کبھی اُن جذبات سے بھی جو سچے تھے۔
رشتوں کی اس دنیا میں جہاں لوگ محبتوں کو چھاؤں کی طرح بدلتے ہیں، کچھ دل ایسے بھی ہیں جو مہاجرت کی زنجیر کو گلے میں ڈال کر عمر بھر ایک ہی یاد کے حصار میں مقید رہتے ہیں۔ اُن کے لیے ہر نیا پڑاؤ ایک اور زخم ہوتا ہے، ہر نئی ہجرت ایک اور ماتم۔
محبت، اگر واقعی محبت ہو، تو وہ ایک جگہ ٹھہری رہتی ہے۔ وہ مہاجر نہیں ہوتی۔ مگر ہم انسان — ہم محبت کو بھی مسافر بنا دیتے ہیں۔ یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔محبت آج ایک مستقل مہاجرت کا نام ہے۔ نہ خیمے مستقل ہیں، نہ مکین۔ ہم جذبات کی سرزمین میں اتنی بار کوچ کرتے ہیں کہ آخرکار ہمارا دل خود ایک خالی سرائے بن جاتا ہے — جہاں کبھی کوئی قافلہ ٹھہرتا نہیں، صرف گرد اڑتی ہے، اور در و دیوار پر تنہائی کی دیمک رینگتی ہے۔
عجیب تضاد ہے: ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں چاہا جائے، بنا کسی شرط، بنا کسی وقت کی قید کے۔ مگر جب خود پر محبت کا وقت آتا ہے، تو ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا، احساس نہیں ہوتا، اور اگر ہو بھی تو حوصلہ نہیں ہوتا کہ ٹھہر کر نبھایا جائے۔ ہم ایک اور پڑاؤ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں — جیسے محبت کسی آوارہ کبوتر کی طرح ہو، جو ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر جا بیٹھتا ہے۔
محبت کو ہم نے “پہچان” کے بجائے “تسکین” کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ فلسفہ تو یہ ہے کہ محبت روح کو جلا بخشتی ہے، مگر ہمارا عمل یہ ہے کہ محبت کو جسم، مفاد، یا وقت گزارنے کی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ ہم رشتے نہیں بناتے، ہم تنہائی کی وقتی ادویات استعمال کرتے ہیں۔ اور جب ایک “خوراک” بےاثر ہونے لگتی ہے، ہم دوسری کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔
پھر جب یہی محبت، کسی روز، ہمارے دروازے پر دستک دیتی ہے — سچی، مکمل، وفا سے لبریز — تو ہمیں گھبراہٹ ہوتی ہے۔ سچائی ہمیں بےلباس کر دیتی ہے، اور ہم عادتاً بھاگتے ہیں۔ ہم محبت کے متلاشی نہیں، اس کے بھگوڑے ہیں۔
عمر کے ساتھ یہ مہاجرت بڑھتی جاتی ہے۔ ہر نئے تعلق میں ہم تھوڑے کم سچے، تھوڑے زیادہ خالی ہوتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ آخرکار ایک ایسا وقت آتا ہے جب ہمارے پاس دینے کو کچھ نہیں بچتا۔ بس یادیں رہ جاتی ہیں — اور اُن یادوں میں کچھ ایسے چہرے جو ہمیں آج بھی آنکھوں میں نمی دے جاتے ہیں، اور کچھ ایسے جنہیں ہم نے روتا چھوڑا تھا، صرف اس لیے کہ ہمیں “نیا پڑاؤ” زیادہ روشن لگا تھا۔
محبت کا یہ استحصال، یہ مسلسل مہاجرت، دراصل ہمارے اندر کی کھوکھلی پن کا اعلان ہے۔ جس دل میں ایک جگہ بھی مستقل نہ ہو، وہ محبت نہیں کر سکتا۔ وہ صرف ہجرت کرتا ہے، اور ہر ہجرت ایک نئی لاش چھوڑ جاتی ہے — جذبات کی، خلوص کی، یا شاید خود اپنے ضمیر کی۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے پوچھیں:
کیا ہم واقعی محبت کے قابل ہیں؟
یا ہم صرف محبت کے دعوے دار ہیں — عارضی قیام کرنے والے مسافر، جو ہر دل کو عارضی سرائے سمجھتے ہیں، اور ہر یاد کو ماضی کے ملبے میں دفن کر کے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں؟
محبت مہاجرت نہیں۔
محبت مزار ہے — وہ مزار جہاں دل سجدہ کرتا ہے، اور خود کو فنا کر دیتا ہے۔
اور ہم؟ ہم تو بس مسافر ہیں، جو سجدے سے پہلے ہی بھاگ نکلتے ہیں۔
159