آپ کا خیال دُکھی دلوں کا آسرا ہے ،
تھکے ماندے ، اندر سے ٹوٹے ، زمانے سے ہارے شکستہ اور مضمحل حوصلوں کےلئے راحت کا سرور بھرا خیمہ ہے ،اپنے مجروح احساس پر کالی چادر اوڑھ کر
آپ کے وسیع صحن کے مہربان ستونوں سے ٹیک لگا کر بیٹھنے کی جرات کرنے والے
آنسوؤں کے شفاف عرق سے جسم کے گلے سڑے زخم دھو کر
دل کو آبِ زم زم بنانے کی سعی کرتے ہیں۔
تو آپ کی رحمت سے جاری نور کی بارش وجود میں رکھے ہر
ہر عیب، ضعف اور کثافت کو مٹا دیتی ہے
آپ کی شفقت کا سایہ
بے آب و گیاہ صحرا میں سسکتی خلقت پر
ٹھنڈی چھاؤں کے احساس جیسا ہے۔
آپ کی دہلیز پر کرم کے وہ بادل دھرے ہیں جو دل کے روگ اور نفس کی آگ مٹا سکتے ہیں۔
ربِّ جبار و قہار نے
غرور اور وحشت سے بوجھل دنیا کو امن اور محبت سے مہکا باغ بنانے کے لیے
آپ کو بھیجا۔
آپ کی ذات سراپا حلم، جمال اور شفقت ہے،
آپ کا تصور جلتی دھوپ میں
پھلوں اور خوشبوؤں سے لدے درخت کی مانند ہے۔
آپ کی نظرِ کرم
نفس کی بارودی سرنگوں سے نکلنے کا اِذن عطا کرتی ہے،
آپ کے نام کی طاقت اندھیرے راستوں میں چراغ بن کر
منزل تک رسائی دیتی ہے ،
آپ کی رحمت کی سرحدوں میں
انسان ہی نہیں، چرند پرند بھی چین پاتے ہیں۔
آپ بے سہاروں کا سہارا ہو،
غریبوں اور مجبوروں کے مددگار۔
آپ کے دل میں محبت اور نور کے سرچشمے ہیں
آپ کی نظر میں ہر انسان برتر ہے
آپ وہ طبیب ہیں جو جسم ہی نہیں، دلوں اور روحوں کے زخم بھی بھرتے ہو
جو دشمن پتھر پھینکتا ہے،
آپ اُس کے لیے بددعا نہیں ، دعا کرنے والے ہو
کہ وہ ہدایت کی راہ پہچان لے۔
جب ظلم کا طوفان حد سے بڑھتا ہے،
تو آپ خلقتِ کی خیر اور بھلے کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت اختیار کر لیتے ہو،
آپ کا دین سلامتی کا ضابطہ ہے،
صلحِ حدیبیہ میں امن کے لیے
آپ کعبہ کی زیارت چھوڑ کر واپس پلٹ آئے۔
قحط کے دنوں میں دشمنوں کے لیےبھی
رزق کا سامان کیا۔
آپ کی شان ہے درگزر کرنا اور آگے بڑھ جانا،
مکہ کی فتح پر عام معافی کا اعلان کیا،
پرانے کینے اور رنجشیں مٹا کر
نئے رشتے قائم کیے۔
آپ وہ پیام بر ہو جنہوں نے رب کے ہر کلام کی رمز اور پیغام کی تفسیر اپنے عمل سے کر کے دکھائی اور سمجھائی ،
آپ کی انگلی کے اشارے پر چاند دو ٹکڑے ہو گیا،
سورج پلٹ آیا،
مگر آپ نے جبر اور طاقت کی بجائے شفقت اور محبت کو سند بنایا۔
ساری زمین کو مسجد کی طرح محترم ٹھہرا کر
سب انسانوں کو یکساں عزت کا حقدار بتایا ،
آپ کی مسجد میں مختلف ناموں اور کتابوں والے بھی آ سکتے تھے۔
آپ انسانی جان کی حرمت کے امین ہو،
ہر اک جان کو پوری انسانیت کی حیات کے برابر ٹھہرا کر دنیا کو انسان کے لئے خیر کا مسکن بنایا ،
آپ نے آخری حج کے موقع پر
انسان کا خون، مال اور عزت
ایک دوسرے پر حرام قرار دے کر فساد سے پرہیز کی تلقین کی،
معراج کے پرکیف لمحوں میں بھی اپنے لئے کچھ مانگنے کی جائے اپنی امت کی
بخشش طلب کی،
آپ نے عورت کو زندگی اجالنے کا ہر حق دے کر عزت بخشی،
آپ کی پوری حیات اقرا کی تفسیر اور تجسیم بنی۔
آپ نے جنگ کے میدان میں بھی
انسانی قدروں کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا،
آپ کے ہر قول اور فعل حکمت کا سرچشمہ ہے،
غزوۂ بدر میں قیدیوں کی رہائی کو
تعلیم کے ساتھ وابستہ کر کے
علم کی عظمت پر مہر ثبت کی
آپ نے امن، محبت ،رواداری اور شفقت کا پرچار کیا ، معاف کیا ، مگر میرے دیس میں لوگ اب معاف نہیں کرتے ۔
وحشت سے بھرے لہجوں کی پھنکار سے دل دہلتے ہیں،
نفرت کے کچھ ٹھیکے دار، انسان کی تذلیل اور تقسیم میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ گلشن میں پرندوں کی چہکار پر موت کا خوف قابض ہے ۔
جلال کو جمال میں ڈھالنے والے،
سختی کو نرمی اور خیر کے تابع کرنے والے،
اختیار کو بے اختیاری کے گڑھے میں گرنے سے بچانے والے،
میرے لوگوں کو عقل اور وجدان کی بصیرت عطا کر،
آنکھوں پر بندھی حرص کی پٹیاں ہٹانے میں ہماری مدد کر
، ھمارے وجودوں کو اپنے ہی جبر
کے شکنجے سے نکلنے کی ہمت دے،
204