الخدمت خیمہ بستی: سیلاب متاثرہ خاندانوں نے اپنے بچوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کر دیا
سیلاب کے بے رحم بہاؤ نے جب دو خاندانوں کی چھتیں، گھروندے اور جمع پونجی سب ساتھ بہا دی، تو قسمت نے انہیں خیموں کے اسی عارضی نگر میں لا بٹھایا۔


دکھ کے اس پڑاؤ پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ زندگی کو روکنا نہیں، اسے پھر سے بسانا ہے۔ انہوں نے رشتۂ ازدواج میں بندھنے کا عزم کیا تو الخدمت فاؤنڈیشن نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر قبول کیا۔

چوہنگ کی خیمہ بستی میں ایک سادہ مگر باوقار تقریب سجائی گئی۔ نہ شہر کی چمک دمک، نہ ساز و سامان کا دکھاوا… مگر خلوص ایسا کہ دیواروں کے بغیر بھی دل آباد لگے۔ شادی کے تمام انتظامات سے لے کر نئے کپڑوں، جوتوں، شادی باکس اور تحائف تک سب کچھ الخدمت نے فراہم کیا۔
خیموں میں رہنے والی عورتیں رسمیں نبھانے اور اس خوشی میں شریک ہونے آئیں تو یوں محسوس ہوا جیسے اداسیوں پر زندگی نے دوبارہ دستک دی ہو۔ چہروں پر ہلکی ہلکی رونق اور آنکھوں میں امید کی نمی، اس بات کی گواہ تھی کہ انسانی دل جب چاہے، ویرانے میں بھی بہار اُگا لیتا ہے۔
یہ شادی صرف دو افراد کا ملاپ نہیں تھی، یہ ایک اعلان تھا کہ زندگی تھمتی نہیں،چلتی رہتی ہے۔ ہم. نے یہی پیغام دینے کی کوشش کی کہ یہ جو ہم نے شادی کو ضرورت سے زیادہ مشکل بنا دیا ہے، حالانکہ اصل خوبصورتی سادگی اور وقار میں ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں، اگر ارادہ زندہ ہو تو آغازِ نو کے لیے ایک خیمہ بھی کسی محل سے کم نہیں ہوتا۔