زندگی کے سفر میں کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو بکھیرنے کے بجائے سنبھال دیتے ہیں۔ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو دل کو زخمی کر دیتے ہیں مگر روح کو زندہ رکھ دیتے ہیں۔ ’’مجھے زخمی دل منظور ہے، کٹے ہوئے پر نہیں‘‘ یہ صرف ایک فقرہ نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔
زخمی دل اُس انسان کا استعارہ ہے جو محبت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، رشتوں کو نبھاتا ہے اور وقت کے وار سہہ کر بھی زندہ رہتا ہے۔ زخمی دل دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ انسان نے جینا سیکھا ہے، چاہا ہے، اور اپنی راہوں میں دکھ جھیل کر بھی اپنی پرواز باقی رکھی ہے۔
اس کے برعکس ’’کٹے ہوئے پر‘‘ ہار کی علامت ہے، شکست کی، بے بسی کی۔ وہ شخص جو اپنے پر کٹوا دے، جو حالات کے سامنے جھک جائے، اُس کے لیے اڑان ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ جبکہ زخمی دل والا شخص گرنے کے باوجود چلتا رہتا ہے، پر پھڑپھڑاتا رہتا ہے، خواب دیکھتا رہتا ہے۔
یہ فقرہ ہمیں ایک گہرا سبق دیتا ہے:
تکلیف اور جدوجہد سے بھاگنا کمزوری ہے۔ درد سہنا، مگر اپنے وجود، اپنے خوابوں اور اپنی آزادی کو زندہ رکھنا اصل بہادری ہے۔ زخمی دل والے لوگ شاید دنیا کی نظر میں کمزور دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل وہی اصل فاتح ہیں کیونکہ وہ جمود سے نہیں ڈرتے۔
زخمی دل ایک جیتے جاگتے انسان کا ثبوت ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اس نے زندگی کو محسوس کیا ہے، چاہا ہے، جیا ہے۔ اس کا درد ایک زیور ہے جو اسے دوسروں سے منفرد بناتا ہے۔
سو، اگر زندگی میں آپ کے دل پر زخم آئے ہیں، تو یہ آپ کی کمزوری نہیں، آپ کی طاقت ہیں۔ اصل شکست تو تب ہے جب آپ کے پر کٹ جائیں اور آپ اڑنا چھوڑ دیں۔ زخمی دل ہو تو بھی اُڑان باقی رہتی ہے، خواب باقی رہتے ہیں، امید باقی رہتی ہے۔
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو مٹا نہیں سکتے، بلکہ بنا دیتے ہیں۔ وہ دل جو زخمی ہوتا ہے، وہی اصل میں جیتا ہے۔
بند آنکھوں سے خواب دیکھنے والے تو بہت ہوتے ہیں، مگر کھلی آنکھوں سے درد سہنے والے کم۔ اور شاید اسی لیے میں کہتی ہوں:
“مجھے زخمی دل منظور ہے، کٹے ہوئے پر نہیں۔”
زخم دل پر ہو تو تڑپ باقی رہتی ہے، زندگی کا لمس باقی رہتا ہے۔ یہ تڑپ بتاتی ہے کہ میں اب بھی محسوس کرتی ہوں، اب بھی چاہتی ہوں، اب بھی خواب دیکھنے کی ہمت رکھتی ہوں۔
یہ زخمی دل دراصل اُس درخت کی مانند ہے جس پر خزاں نے وار کیے ہوں، لیکن جڑیں اب بھی زندہ ہوں اور کہیں نہ کہیں اندر ایک نئی کونپل پھوٹنے کو بےتاب ہو۔
جب دل زخمی ہوتا ہے، تو درد تو ہوتا ہے، مگر ساتھ ساتھ ایک چراغ بھی جلتا ہے
چراغِ وفا، چراغِ خلوص، چراغِ امید۔
یہ وہ درد ہے جو انسان کو اندر سے جلا کر، راکھ میں سے کچھ نیا جنم دیتا ہے۔
لیکن ’’کٹے ہوئے پر‘‘؟
یہ تو بے بسی کی انتہا ہے، ہار کی معراج ہے۔
پر کٹ جائیں تو نہ اُڑان رہتی ہے، نہ راستہ، نہ منزل۔ نہ ہوا سے لڑنے کا حوصلہ، نہ سورج کو چھونے کی لگن۔
کٹے ہوئے پر اس پرندے کی مانند ہوتے ہیں جو کھلی فضا کو صرف یاد کر سکتا ہے، پر واپس جا نہیں سکتا۔
میں زخمی دل کے ساتھ جینا چاہتی ہوں، کیونکہ اس میں کم از کم “جینا” تو ہے۔
مجھے وہ زخم پسند ہیں جو کسی سچی محبت، کسی خالص احساس، کسی خواب کی ٹوٹ پھوٹ سے لگے ہوں۔
ایسے زخم، جن میں درد تو ہے، لیکن وقار بھی۔
ایسے زخم، جن سے خون تو بہتا ہے، مگر اندر ایک نئی روشنی بھی جاگتی ہے۔
مجھے وہ لمحے عزیز ہیں جب آنکھیں نم ہوتی ہیں، مگر دل جھکتا نہیں۔
جب رنج دل میں ہوتا ہے، لیکن انسان اپنے وقار کی چادر سے خود کو ڈھانپے رکھتا ہے۔
مجھے وہ خاموشیاں پسند ہیں جو چیخ سے زیادہ بولتی ہیں۔
مجھے وہ ہار پسند ہے جو جیت سے زیادہ عزت رکھتی ہے۔
زخمی دل کے ساتھ جینے والے وہ مسافر ہوتے ہیں جو راستے کی دھول بننے کے بجائے، چراغِ راہ بن جاتے ہیں۔
وہ کبھی پاؤں کے چھالے نہیں گنتے، وہ آسمان پر نظریں رکھتے ہیں۔
وہ جانتے ہیں کہ زخمی دل ہونا بوجھ نہیں، ایک نعمت ہے
کیونکہ اس دل میں ابھی احساس باقی ہے، ابھی انسان باقی ہے۔
تو ہاں،
مجھے زخمی دل منظور ہے، کٹے ہوئے پر نہیں۔
کیونکہ زخمی دل میں ایک تڑپ ہوتی ہے، اور تڑپ ہی تو زندگی کی پہچان ہے۔
پر کٹ جائیں، تو صرف سانسیں بچتی ہیں زندگی نہیں۔
یہ کالم اُن تمام حساس دلوں کے نام جو دنیا کے شور میں دب جاتے ہیں، مگر اپنے اندر ایک پوری دنیا بسائے رکھتے ہیں۔
جو خاموش رہ کر بھی سب کہہ دیتے ہیں۔
جن کے دل زخمی تو ہیں، مگر زندہ ہیں۔
جو گرنے کے بعد پھر سنبھلتے ہیں
جن کے پر سلامت ہیں، اور وہ اُڑنا اب بھی جانتے ہیں۔
213