تحریر ۔رخسانہ سحر
اسلام اباد
خزینہ شعر و ادب کا آل پنجاب مشاعرہ چنیوٹ کی سرزمین پر ادب کا روشن چراغ زاہد یاسین اکھیاں صاحب کی زیر نگرانی سجایا گیا

چنیوٹ، جو اپنے حسنِ تعمیر اور ثقافتی ورثے کے لیے مشہور ہے، حال ہی میں ایک ایسے ادبی جشن کا گہوارہ بنا، جس نے اس شہر کو علم و ادب کے جگمگاتے ستاروں سے روشن کر دیا۔


خزینہ شعر و ادب کے زیرِ اہتمام منعقدہ آل پنجاب مشاعرہ نے نہ صرف شہر کے باذوق حلقوں کو متوجہ کیا بلکہ پنجاب بھر سے آئے ہوئے نامور شعراء کرام نے اپنے کلام سے سامعین کے دلوں کو مسحور کر دیا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی سے معروف شاعرہ محترمہ رفعت وحید اور رخسانہ سحر نے اس یادگار محفل میں خصوصی شرکت فرمائی۔ آپ کی آمد نے مشاعرہ کو ایک نئی جِلا بخشی۔ محترمہ نے نہ صرف اپنا منتخب کلام پیش کیا بلکہ حاضرین محفل سے بہت سی داد بھی سمیٹی۔۔۔۔ ادبی خدمات پر متعدد شعراء و ادباء کو “لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز” سے بھی نوازا، جو کہ بلاشبہ اس محفل کی اہم ترین جھلکیوں میں سے تھا۔
مشاعرہ کی صدارت ممتاز ادیب و نقاد پروفیسر یوسف خالد نے فرمائی جن کے خیالات اور علمی گہرائی نے محفل کو وقار عطا کیا۔
اسٹیج سیکرٹری کے فرائض معروف شاعر، محقق اور فنِ تقریر کے ماہر پروفیسر عمران الحق چوہان نے نہایت دلکش اور ادبی انداز میں سرانجام دیے۔
سرپرستی کے فرائض ایوانِ عابد تمیمی، ڈاکٹر زاہد یاسین اکھیاں، ڈاکٹر خالد یاسین، رانا تجمل وسیم اور ذیشان چیدہ جیسے علم دوست شخصیات نے انجام دیے۔اس پروگرام کی خوبصورتی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اس میں مسز عابد تعمیمی نے شرکت فرمائی اور اپنے دست مبارک سے مہمان شعراء میں ایوارڈ تقسیم کئے
مشاعرہ کے اختتام پر 50 ممتاز ادبی شخصیات کو ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں خصوصی شیلڈز پیش کی گئیں۔ ان شیلڈز نے ہر شخصیت کے چہرے پر خوشی، عزت اور حوصلہ افزائی کی جھلک بکھیر دی۔
ہر شعر پر داد، ہر غزل پر واہ واہ، اور ہر مصرع پر دلوں کی دھڑکنوں میں اضافہ… یہ مشاعرہ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ادب کے فروغ میں ایک سنہری باب تھا، جو ہمیشہ چنیوٹ کی علمی و ادبی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ “خزینہ شعر و ادب” نے چنیوٹ کی سرزمین پر ادب کی ایک ایسی خوشبو بکھیری ہے، جو مدتوں یہاں کے فضا میں مہکتی رہے گی۔ اس محفل نے جہاں نئے شعری ذوق کو جِلا بخشی، وہیں سینئر شعراء کی عزت افزائی نے روایات کو مضبوط کیا