307

جبر تھا کہ تیرے اختیار کا موسم! تحریر: ڈاکٹر شگفتہ یاسمین

محبت میں شرطیں نہیں ہوتیں, محبت میں سمجھوتے نہیں ہوتے, کوئی حاکم کوئی محکوم نہیں ہوتا، محبت تھوپی ہوئی زندگی جیے جانے کا نام نہیں، یہ کھلے پنجرے میں اپنی خوشی سے قید رہنے کا نام ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو وہ زندگی گزاردی جاتی ہے، جی نہیں جاتی۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟

نسیم نقوی کا افسانہ ‘کانسے کا سورج سونے کا چاند’ اسی سوال کے ارد گرد گھومتا ہے۔

جبر اوراختیار میں بہت فرق ہے۔ وہی فرق جو حاصل کرنے اور پا لینے میں ہے۔ تمام اختیارات سونپ کر سیاہ و سفید کا مالک بنا کر بالاخر دو ٹوک لفظوں میں حرف آخر جان کر اپنی بات منوا لی جائے تو یہ جبر ہوا، اختیار نہیں۔ وشال جو اس افسانے کا مرکزی کردار اور سیما کا شوہر ہے، اپنی خود پسند طبیعت کے باعث اسی جبر کا عادی ہے۔ لفظ ‘نہیں’ اس کی لغت میں نہیں اور انکار سننے کا وہ عادی نہیں۔ اپنے ایمبیشنز کی تکمیل میں اسے ایک ایسی رفیقہ حیات کی ضرورت تھی جو تعلیمی لیاقت اور ذہنی استعداد میں اس سے کمتر ہو، ملٹی ٹاسکر ہو، بوڑھے ساس سسر کے لیے نرس، بچوں کے لیے گورنس اور امور خانہ داری کے ساتھ باہر کے کام کاج بھی بحسن و خوبی سنبھال سکے اور شوہر کے لیے وجہ تسکین کے ساتھ ساتھ بچہ پیدا کرنے کی مشین بھی ہو۔
وشال جذبات اور احساسات سے عاری تو نہیں لیکن مسلسل کامیابیاں، حصولیابیاں، شہرت اور مقبولیت اسے نرگسیت کا شکار بنا دیتی ہے۔ خدا نہیں تو وہ خود کو خدا سے کم بھی نہیں سمجھتا اور اس کے رویوں کے لیے تختہ مشق بنتی ہے سیما!

دو بچوں کی ماں ہونا آسان نہیں ہوتا۔ یہ وہ غیر مرئی بیڑیاں ہیں جنہیں توڑنا کسی بھی عورت کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ پھر سیما کی خوبی یہ ہے کہ وہ مجسم ایثار ہے، selfless ہے، بےطلب ہے، بس اتنی چاہ ہے کہ محبت کرنے والا شوہر ہو اور پرسکون خوشحال زندگی! لیکن ترقی کے نشے میں سرشار، ہوا کے گھوڑے پر سوار وشال ہر جذبے، ہر احساس کو روندتا، پامال کرتا انجانی منزلوں کا مسافر تھا، جہاں ہر پڑاؤ ایک سنگ میل بن کر آگے بڑھ جانے کا اشارہ کرتا… اور سیما خاموش تماشائی بنی یہ سب سہتی رہتی۔ خود فراموشی کا حال یہ تھا کہ جب وشال پورے دو سال بعد اسے وطن واپسی کی خبر دیتا ہےتو،
“اچانک اسے اپنے ہونے کا احساس ہوا تو آئینے کے سامنے جا کر خود کو دیکھنے لگی۔ کتنے دن بعد اس نے آج ٹھیک سے آئینہ دیکھا تھا”۔

شوہر کی غیر متوقع آمد کی خبر پا کر پریشانی اور سکون کی لہروں میں ڈوبتی ابھرتی بیوی عجیب کیفیت اور متضاد جذبات و احساسات سے دوچار تھی۔

“سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کہاں سے شروع کرے، پہلے وشال کے پسندیدہ کھانے کا انتظام کرے، گھر کی جھاڑ پونچھ کرے یا خود کو سنوارے۔ ساری رات اکیلے ہی لگی رہی، یہ سوچ کر کہ کل رات سکون سے سوئے گی وشال کا ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر اور صبح آرام سے اٹھےگی۔ کوئی اور بھی ہوگا اس کے علاوہ، گھنٹی بجنے پر دروازہ کھولنے والا۔”

یہ آخری جملہ اس بات کا عکاس ہے کہ نیند کا بہت سا قرض بھی اس کی جانِ ناتواں پر باقی ہے۔

جس مجازی خدا کی سیما منتظر تھی، وہ غرور اور نخوت کا پیکر ناخدا بن کر لوٹا تھا۔ میںنجمنٹ کی دنیاکا گرو، کارپوریٹ جگت کا آفتاب مگر سیما کو وہ قریب ہو کر بھی بہت دور محسوس ہوا۔ وہ پرانی وابستگی کہیں کھو گئی تھی۔ سیما خاموشی سے یہ کرب بھی سہ گئی۔

پروفیشنل ٹارگٹ مکمل کر کے وشال فیملی ٹارگٹ مکمل کرنے کی دھن میں تیسرے بچے کی ضد پر اتر آیا۔ سیما کے مضبوط دلائل کی وشال کی سخت گیری کے سامنے ایک نہ چلی اور وشال نےیہ کہہ کر سیما کو خاموش کرا دیا کہ،

“یار تم نے مینٹل کنڈوم لگا رکھا ہے کیا! کوئی بات دماغ میں گھستی ہی نہیں۔”

فیصلہ صادر ہی نہیں ہوا، باضابطہ پروگریس رپورٹ پر بھی وشال کی نظر تھی۔ اپنی مردانگی کے غرور اور انانیت کے زعم میں وشال شاید یہ بھول گیا کہ عورت بھی اشرف المخلوقات کے زمرے میں آتی ہے اور آدم کے وجود سے کجی لےکر پیدا ہوئی ہے۔ جہاں پر مرد کے جبر کی انتہا ہوتی ہے وہیں سے عورت کے اختیار کی حد شروع ہوتی ہے۔

سیما وہ حکمت عملی اپناتی ہے جو وشال کو ہیر و سے زیرو بنا دیتی ہے۔ جب زک مرد کی مردانگی پر پڑتی ہے تو بڑے سے بڑا سورما چِت ہو جاتا ہے۔ ہر جتن کے باوجود جب سیما کا وجود برگ وبار نہیں لاتا تو کھوکھلی مردانگی کا خوف وشال کو خون کے آنسو رلاتا ہے۔ ناکارہ پن کے احساس سے دو چار جب وہ سیما کے سامنے لب کشائی کرتا ہے تو جو جواب ملتا ہے وہ کسی تازیانے سے کم نہیں۔

“بات صرف اتنی سی ہے وشال کہ کنڈوم کا استعمال صرف دماغ پر ہی نہیں کیا جاتا۔ وشال کی گلوگیر آواز اچانک سخت ہو گئی۔ کیا…! تم نے اتنا بڑا دھوکا کیا میرے ساتھ؟

دھوکا!! میرے جسم پر تو میرا حق ہے نا وشال!

کانسے کا سورج ڈوبتا ہے اور فتح و سرشاری کے ساتھ سونے کا چاند طلوع ہو جاتا ہے۔

ادب سماج سےروشنی لیتا ہے اور سماج کو بصیرت اور بصارت عطا کرتا ہے۔ وہ ادب جو سماج کو آئینہ نہ دکھا سکے، تفننِ طبع کا ذریعہ تو ہو سکتا ہے اصلاح کا وسیلہ نہیں بن سکتا۔ اس افسانے میں ایک عام اور معمولی سی عورت بے حد کامیاب بزنس گرو کو ایسے دھول چٹاتی ہے جیسے شہ مات کے کھیل میں ایک معمولی پیادہ پوری بساط الٹ کر رکھ دیتا ہے۔ صرف احساسِ ذات، جذبۂ خودی اور یہ فیصلہ کہ بس!! اب اور نہیں! اس کی حیثیت بدل دیتے ہیں۔ واقعی کسی نے صحیح کہا ہے کہ زندگی اس پل بدل جاتی ہے جس پل ہم اسے بدلنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
اب اگر کہانی کے اسلوب اور ٹریٹمنٹ کی بات کریں تو نسیم نقوی صحافت سے ادب کی طرف آئے ہیں یہ الگ بات ہےکہ ذوق مطالعہ ہمیشہ طبیعت کا خاصہ رہا مگر ایک صحافی اور ادیب میں بنیادی فرق یہ ہے کہ صحافی facts کو مد نظر رکھ کر حقائق کی بنیاد پر story بناتا ہے جبکہ فکشن نگار زندگی کے کونے کھدروں سے مواد اخذ کرتا ہے چور دروازوں سے کسی خیال کی ضو اور فکر کی لو سے ادب کی شمع فروزاں کرتا ہے۔ اس کہانی کا تانا بانا تیار کرتے ہوئے افسانہ نگار نے سہل اور عام فہم زبان اور سیدھے سادے بیانیہ انداز کو اپنے فکر و فن کا محور بنایا ہے۔ جذبات نگاری بے حد جاندار ہے۔ دلچسپ بیانیہ قاری کو اپنا اسیر بنائے رکھتا ہے۔ کہانی کے اختتام پر وشال پھوٹ پھوٹ کر روتا ہے۔ قاری جو ابتدا سے سیما کی بیچارگی اور مظلومیت پر کڑھتا نظر آتا ہے، اس کی فتح پر اسے سراہے بغیر نہیں رہ پاتا۔ ہر جنگ ہتھیار سے نہیں لڑی جاتی، کبھی کبھی خاموش حکمتِ ِعملی بھی اپنانی پڑتی ہے اور سیما نے یہی کیا تھا۔ مجموعی طور پر افسانہ دلچسپ اور قابلِ مطالعہ ہے، مطالعہ شرط ہے۔

‘کانسے کا سورج سونے کا چاند ‘ کے عنوان سے یہ افسانہ نسیم نقوی کے پندرہ افسانوں پر مشتمل مجموعے کا ٹائٹل افسانہ ہے۔ یہ ریختہ بکس پر دستیاب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں