زندگی کے سفر کی کسی نامہربان گھڑی میں ہمت بندھانے والا ہمدرد لہجہ ، تسلی سے بھرے لفظ اور مخلص مشورہ وقت گزرنے کے بعد بھی ھمیشہ دل میں ایسے دئیے کی طرح روشن رکھا جس کی لَو سے دعائیں منعکس ہوتی ہوں ،
سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ بھی ایک ایسی مہربان ہستی جن سے راہ چلتے دعا سلام عقیدت میں ڈھل گئی، ان کی رحلت پر یوں لگا جیسے ایک وضع دار سیاستدان اور وجہیہ شخصیت نہیں بلکہ ایک شاندار تہذیب کا عہد رخصت ہوا ہو، شکل و صورت کی وجاہت تو قدرت کی دین ہوتی ہے مگر شخصیت کا وقار انسان خود بناتا ہے ،کھوسہ صاحب کے انداز میں شرافت، گفتگو میں متانت اور فیصلوں میں ایک عجب طرح کی بردباری نے انھیں ہر دلعزیز شخصیت کاروپ دے رکھا تھا،
وہ ایک ایسے وقت کے نمائندہ تھے جب سیاست صرف نعروں اور مفادات کا کھیل نہیں بلکہ شخصی وقار اور تعلقات کی پاسداری بھی ہوا کرتی تھی،
جنوبی پنجاب کی سیاسی و سماجی شناخت میں ایک اہم حوالہ سمجھے جانے والے سیاست اور متانت کے سردار طویل عرصہ سیاست میں سرگرم رہے، زیادہ تر وقت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ گزارا، پنجاب کے گورنر کے منصب پر بھی فائز رہے ،
میری ان سے پہلی باقاعدہ ملاقات ایک محکمانہ ذمہ داری کے سلسلے میں ہوئی٫ادارے کی طرف سے میلہ چراغاں منعقد کرنے اور اس میں وزیراعلیٰ پنجاب کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی,وزیراعلیٰ آفس کی جانب سے ثقافتی سرگرمیوں میں حائل دائمی مصروفیات کے باعث معذرت کے بعد سینئر منسٹر سردار کھوسہ صاحب کے پرائیویٹ سیکریٹری کی وساطت میں ایک کولیگ کے ساتھ دعوت نامہ لے کر اُن کے دفتر 90 شاہراہ پہنچی، چند لمحوں بعد ہمیں اندر بلا لیا گیا،جیسے ہی ہم کمرے میں داخل ہوئے، ایک سنجیدہ مگر پُر وقار ماحول نے ہمیں گھیر لیا، ہر چیز ترتیب، تہذیب اور سلیقے کی عکاس تھی،
سردار صاحب نے دعوت نامہ دیکھا، ایک ہلکی سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر آئی اور انہوں نے انتہائی شائستگی سے کہا،
“ڈاکٹر صاحبہ آپ خود تشریف لائی ہیں تو پھر انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی،،
فوراً اپنے پی اے کو ہدایت دی کہ اس دن اور وقت کوئی اور مصروفیت نہ رکھی جائے،
یہ پہلا موقع تھا جب مجھے ایک ایسے سیاستدان سے ملاقات کا تجربہ ہوا جو رسمی گفتگو سے زیادہ انسان کو اہمیت دیتا تھا اور جس کے لیے ایک فرد کی آمد بھی ایک ذمہ داری بن جاتی تھی،
مقررہ دن وہ وقت پر تشریف لائے، میلہ چراغاں اور شاہ حسین کی فکری و روحانی روایت پر انہوں نے نہایت سنجیدہ اور بصیرت افروز گفتگو کی، انہوں نے ھمارے ادارے کی ثقافتی اور روحانی سرگرمیوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ ثقافتی سرگرمیاں معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دیتی ہیں،
چند ماہ بعد جب ڈائریکٹر کی خالی نشست پر میری ٹرانسفر/تقرری کے لیے سمری محکمانہ طور پر چیف سیکریٹری کے دفتر بھیجی گئی تو ابتدا میں یہی لگا کہ یہ ایک معمول کی کارروائی ہے جو جلد مکمل ہو جائے گی مگر دن گزرتے گئے اور خاموشی گہری ہوتی چلی گئی،
پھر ایک دن خبر ملی کہ آرڈرز جاری نہیں ہو سکتے کیونکہ فائل بند کر دی گئی ہے،
یہ خبر حیران کن بھی تھی اور ذہنی طور پر پریشان کن بھی، سوال یہ نہیں تھا کہ آرڈر کیوں نہیں ہوئے، سوال یہ تھا کہ آخر وجہ کیا بنی؟ کیا کسی نے اعتراض کیا؟ یا میری کوئی ایسی کوتاہی سبب بنی جو میرے علم میں بھی نہیں تھی؟
میں نے اپنی ایک ڈپٹی سیکریٹری دوست سے گزارش کی کہ معاملے کی اصل صورت حال معلوم کر کے بتائے، کچھ دن بعد اس نے جو بات بتائی وہ مزید حیران کن تھی،اس کے مطابق کسی سیاسی شخصیت نے میری ٹرانسفر کی مخالفت نہیں کی تھی بلکہ میری سی وی میں پاکستان ٹیلی ویژن پر محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیے ایک ڈاکومنٹری لکھنے اور کوآرڈینیٹ کرنے کا ذکر بنیاد بن گیا تھا اور کسی سیانے کے توجہ دلانے پر بڑے صاحب نے فائل کلوز کر دی تھی،
یہ سن کر دکھ ضرور ہوا مگر دکھ کی وجہ آرڈر رکنے کی نہیں تھی بلکہ اس سوچ پر افسوس تھا کہ ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری جو مکمل اجازت اور ادارہ جاتی علم کے ساتھ انجام دی گئی تھی اسے اس قدر غلط زاویے سے دیکھا گیا، پھر اس ڈاکومنٹری میں نہ کسی کے خلاف بات تھی نہ کوئی سیاسی وابستگی کا اظہار تھا،
ایسے عجب فیصلے پر خاموش رہنا مسلسل اذیت میں رہنے کے مترادف تھا،سو ہمت کر کے ذوالفقار علی خان کھوسہ صاحب کو فون پر پورا معاملہ بتایا، انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کیا اور اگلے ہی دن چھٹی کے باوجود دفتر کھلوا کر میرے آرڈرز جاری کروا دیے،
احترام کا احساس گہرا ہوگیا ، علمی ادبی لوگوں کی قدر افزائی کرنا ان کی شخصیت کا وہ پہلو تھا جو انہیں عام سیاستدانوں سے ممتاز کرتا تھا،وہ ایسے فیصلوں میں تاخیر کو انسانوں کا احترام نہ کرنے سے جوڑ کر دیکھتے تھے،
بعد ازاں میں نےپی اے کے ذریعے شکرہے کے لئے وقت مانگا تو انتہائی سادگی سے منع کر دیا،
زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی ، میں اس ادارے کی ڈائریکٹر جنرل بھی بنی ،کئی سیاسی محفلوں میں دعا سلام ہوئی مگر کبھی کسی ماتحت یا علاقے کے کسی فرد کے کہنے پر کوئی سفارشی پیغام نہ بھیجا، جب پنجاب میں شدید سیلاب آیا ، ہر طرف ہی بربادی ہوئی مگر جنوبی پنجاب میں تباہی کے مناظر دل دہلا دینے والے تھے،انہی دنوں ہمارے ادارے کی ایف ایم ٹرانسمیشن کے ذریعے امدادی اپیل کے نتیجے میں اتنا سامان اکٹھا ہوگیا کہ بڑے ہالز کے علاؤہ دفاتر بھی سٹور بن گئے، سرکاری سطح پر اس کی ترسیل میں تاخیر کے باعث
ہم دوبارہ ان کے دفتر گئے اور جنوبی پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد پہنچانے میں مدد کی درخواست کی ، دو دن کے اندر انہوں نے ذاتی طور پر مطلوبہ ٹرکوں کا انتظام کر کے ھماری مشکل آسان کردی ،
دوبارہ ان کی ذاتی ہمدردی اور کام کو ترجیح دینے کے رویے نے بتایا کہ سیاست محض اقتدار نہیں بلکہ خدمت کا ایک عملی اظہار بھی ہے،
بعد میں جب مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ان کی سیاسی وابستگی میں فاصلے پیدا ہوئے تو اسی دوران ایک محفل میں ان سے ملاقات ہوئی، وہ خاصے افسردہ تھے، پہلی بار میں نے اس شگفتہ مزاج شخص کو ٹوٹ پھوٹ اور کرب کے عالم میں دیکھا ، ان کے لہجے میں شکستگی اور تھکن بہت بوجھل محسوس ہوئی، وہ سیاست کے بدلتے منظرنامے اور کچھ لوگوں کے رویوں سے بہت دل برداشتہ تھے ، مسلم لیگ ن کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے مگر کچھ لوگ رہنے کا جواز ہی ختم کر رہے تھے ،انھوں نے بہت سی باتیں کیں، شکوے اور ملال سے بھری ہوئی ، مجھے بہت دکھ ہوا
۔اسی دکھ کو چند دن بعد ایک کالم کی صورت بیان کیا کہ انھیں نہ جانے دیا جائے ،وہ بہت خوش ہوئے،فون کر کے شکریہ ادا کیا تو میں نے حسن نثار صاحب کے ان پر لکھے گئے کالم کا بھی تذکرہ کیا تو انہوں نے فوراً شائع ہونے کی تاریخ اور حسن صاحب کا نمبر مانگا ،ان کی یہ سادگی اور بے ساختگی واقعی قابلِ احترام تھی،پھر برسوں رابطے نہ رہا نہ کسی محفل میں آمنا سامنا ہوا،مگر دعا ہمیشہ رابطہ رہی ۔
کچھ دن پہلے ایک اندرونی احساس کے تحت میں نے ان کے حوالے سے ٹویٹر پر ایک پوسٹ لکھی، پھر غیرارادی طور پر انھیں فون کیا، سوچا بات کر کے ملاقات کے لیے جاؤں گی اور بہت سی باتیں کروں گی مگر کسی نے فون اٹھایا نہ وٹس ایپ پیغام کا جواب دیا بلکہ وہ تو آج تک seen ہی نہیں ہوا،
اور پھر وہ خبر آ گئی کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں،
یہ خبر صرف ایک انسان کے جانے کی نہیں تھی بلکہ ایک طرزِ سیاست، ایک تہذیبی شائستگی اور ایک وضع دار دور کے خاموش اختتام کی خبر تھی،
شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ ان جیسے شاندار انسانوں کو ہم ان کی بیماری، کمزوری یا زوال کے لمحوں میں نہ دیکھیں بلکہ ان کی شرافت، وقار اور خدمت کے روشن پہلوؤں کے ساتھ ہی یاد رکھیں،
مجھے یقین ہے زندگی کے اگلے کسی پڑاؤ میں ان سے دوبارہ ملاقات ضرور ہوگی، رب کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے
50