پالیسی سازوں کے بہرے کانوں کو خطرے کی گھٹیاں سنائی نہیں دے رہی ہیں جبکہ پاکستان کے 5 سالہ سکوک بانڈز آئندہ دسمبر میں پختہ کار ہو جائیں گے ان کے بلوغت کی شرح انتہائی معمولی 39 فیصد ہوگی۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ سرمایہ کاروں کو اعتماد نہیں رہا۔ حالیہ ہفتوں میں سکوک بانڈز 22 فیصد کی کم ترین شرح پر آ گئے تھے۔ تاہم اب اس کی سطح 39 فیصد پر ہے۔ ایک اور بین الاقوامی بانڈ جس کی میعاد 10 سال اور مالیت ایک ارب ڈالرز ہے۔ وہ 15 اپریل 2024 کو میچور ہوگا۔ جس کے ثمر آور ہونے کی شرح 42 فیصد ہے آئی ایم یف پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کے موقع پر بارشوں اور سیلاب کے باعث وہ اپنی افادیت کھوچکا ہے۔ کوئی بھی ملک کو درپیش مالی اور اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے میں دلچسپی لینا نظر نہیں آتا۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک ڈالر کی سپورٹ نہیں ملتی ہر گزرتا دن پالیسی سازوں کےلئے وبال بنتا چلا جائے گا۔ عوام کو خمیازہ بھگتنا پڑے اور ستمبر کے لیے مہنگائی کا اشاریہ 30 فیصد ہے ۔ اعداد و شمار یکم اکتوبر کو جاری ہوں گے ۔ ورلڈ بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرنے میں ناکام رہی ۔ بڑھتے ہوئے پاور سیکٹر کو 1.6 ٹریلین روپے فراہم کئے گئے ۔ یہ حجم دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے ۔ سیلاب اور بارشوں نے اقتضاد کو شدید متاثر کیا ہے ۔ جس سے شرح کم ہو کر 2.6 فیصد متوقع ہے ۔
97