صدیوں سے تخلیق، علم، فکر، اور اظہار پر مرد کا غلبہ رہا ہے۔ ادب بھی اس غلبے سے مبرّا نہیں۔ عورت اگر کسی مرد کی نظم کا موضوع بنے، تو اسے “موسم کی طرح خوبصورت” کہا جاتا ہے، مگر وہی عورت جب خود نظم کہتی ہے، قلم اٹھاتی ہے، تو اسے اکثر صرف ایک حادثہ، ہمدردی، یا صنفی رعایت سمجھا جاتا ہے — یہ رویہ محض اتفاق نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط ذہنی تربیت کا حاصل ہے۔
عورت کو ادیبہ یا شاعرہ ماننا مردوں کے لیے اس لیے مشکل ہے کہ وہ عورت کی تحریر میں صرف الفاظ نہیں، ایک پورا جہان دیکھتے ہیں — ایسا جہان جو ان کی طاقت، برتری، انا اور بنائے گئے جھوٹے اصولوں کو بےنقاب کر دیتا ہے۔
مرد جب لکھتا ہے تو معاشرہ اسے فکری رہنما، دانشور اور استاد کا مقام دیتا ہے۔ مگر جب عورت وہی حق استعمال کرتی ہے، تو سوالات اٹھنے لگتے ہیں: “یہ تو بہت باغی لکھتی ہے”، “اس کے الفاظ میں تلخی ہے”، “کسی نے دل تو نہیں توڑا؟” گویا عورت کا لکھنا ذاتی صدمے یا بےراہ روی کا نتیجہ ہونا لازم ہے، فکری صلاحیت کا نہیں۔
فہمیدہ ریاض کو ان کی نظموں پر اکثر فحاشی کا الزام دیا گیا، جبکہ وہ درحقیقت عورت کے وجودی، جذباتی، اور معاشرتی حق کی گواہی تھیں۔ فہمیدہ کہتی تھیں:
> “ہم عورتیں نظموں میں وہ کچھ کہتی ہیں جو مرد خواب میں بھی نہیں سوچتے۔ اسی لیے انہیں ہماری آواز سننے میں تکلیف ہوتی ہے۔”
مرد ادیب کے لیے عورت ایک مسلسل موضوع رہی ہے — حسن، ہجر، وفا، قربانی، وفاداری، گناہ، معافی۔ مگر جب عورت خود لکھتی ہے تو وہ خود کو “موضوع” سے نکال کر “مصنفہ” بنا لیتی ہے، اور یہی تبدیلی مرد کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔
کشور ناہید نے ایک انٹرویو میں کہا تھا:
> “جب میں نے لکھنا شروع کیا تو مرد نقادوں نے میرے لب و لہجے پر بات کی، نہ کہ میرے مواد پر۔ انہیں میری زبان کی بیباکی سے خطرہ تھا، میرے فکری سوالوں سے نہیں۔”
عورت کی زبان، جب فکر کے سانچے میں ڈھل کر سماج کو آئینہ دکھاتی ہے، تو مرد کی انا اس شفافیت سے لرزتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ یہ عورت اب محض سننے والی نہیں، بولنے والی، لکھنے والی اور سوچنے والی ہے — یعنی وہ طاقت میں شریک ہے۔
پروین شاکر جیسی نرم گفتار شاعرہ کو بھی اکثر اس لیے تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ نسائی جذبات کو زبان دے رہی تھیں۔ ان کی شاعری کو “محض رومان” کہہ کر نظرانداز کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ پہلی شاعرہ تھیں جنہوں نے عورت کے احساسات کو عورت کی آنکھ سے بیان کیا۔
ادبی دنیا میں عورت کے لیے تنقید کے پیمانے ہمیشہ مختلف رہے ہیں۔ اگر وہ ذاتی زندگی پر لکھے تو “شور مچانے والی”، اور اگر وہ معاشرت پر لکھے تو “شدت پسند” یا “مرد مخالف” قرار پاتی ہے۔
عذرا عباس جیسے حساس اور فکری شعور رکھنے والی شاعرہ بھی اس تضاد کا شکار ہوئیں۔ ان کی نظمیں جب عورت کی داخلی کیفیات کی گواہی دیتی تھیں تو انہیں “بہت ذاتی” کہا گیا، جیسے عورت کا ذاتی ہونا عیب ہو۔
عورت جب لکھتی ہے، تو وہ سماج کی اس خاموش تاریخ کو آواز دیتی ہے جو صدیوں سے دبی ہوئی تھی — ماں کی چپ، بیٹی کی قربانی، بیوی کی خامشی، اور بہن کی بے آواز تنہائی۔
سعادت حسن منٹو نے ایک جگہ لکھا تھا:
> “عورت جب قلم اٹھاتی ہے تو سچ بولتی ہے۔ اور سچ، سماج کے لیے سب سے بڑی گستاخی ہے۔
یہ سچ، مرد کے بنائے ہوئے سسٹم کے لیے خطرہ ہے۔ عورت جب “لکھتی” ہے تو وہ “جیتی” ہے — اور یہی اس کی سب سے بڑی بغاوت ہے۔
عورت کو ادیبہ یا شاعرہ ماننا مردوں کے لیے مشکل ہے، کیونکہ وہ اس کو صرف ایک لکھنے والی نہیں، ایک سوال اٹھانے والی، ایک حقیقت دکھانے والی، اور ایک طاقت بانٹنے والی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اور طاقت، مرد کے سماجی وجود کا وہ ہالہ ہے جس میں شریک ہونا عورت کے لیے ہمیشہ “خطرہ” سمجھا گیا۔
عورت کی تحریر ایک آئینہ ہے۔ مگر اس آئینے میں مرد صرف عورت کو نہیں، خود کو بھی دیکھتا ہے — اور یہی منظر اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہے