100

قومی اسمبلی بدھ کو تحلیل، اتحادیوں اور اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ – شہباز شریف

قومی اسمبلی بدھ کو تحلیل ہو گی، وزیراعظم شہباز شریف نے 9 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی تاریخ دیدی،وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اتحادیوں اور اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ دیا گیا ۔ وزیر اعظم نے اتحادی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی سیاسی صورت حال اور آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے بات چیت کی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا قومی اسمبلی توڑنےکی سمری 9 اگست کو صدر کو بھیج دیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے وزیر اعظم کا کہنا تھا نگران وزیر اعظم کے نام کے لیے آج سے مشاورت ہو گی اور آئندہ 2 سے 3 روز میں مشاورت مکمل کر لیں گے۔دریں اثنا اراکین پارلیمنٹ کو عشائیے،بھارہ کہو بائی پاس منصوبہ اور ڈیجیٹل یوتھ ہب پورٹل کی افتتاحی تقاریب سے خطاب کرتےہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیاستدان اور ادارے ملکرکام کریں۔اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہونےکے طعنوں سےفرق نہیں پڑتا۔آرمی چیف نے ملکی ترقی کیلئے بڑی کمٹمنٹ دکھائی۔الیکشن کے بعد نئے سیٹ اپ کیلئے زندگی یا موت کا معاملہ ہوگا۔نواز شریف حکومت کو سازش سے ہٹایا گیا، جب ہماری حکومت گئی تو ہر منصوبہ رک چکا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں مشرف کے بڑے قریب تھا، تو اس نے مجھے کونسے لڈو پیڑے کھلائے بلکہ جیل میں ڈال ڈیا ۔ کئی راز قبر میں لیکر جائونگا۔ وزیراعظم نے کہا ہے حکومت کو گزشتہ ایک برس کے دوران انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اتحادیوں نےہمت نہیں ہا ری ۔۔ہم نے مخلوط حکومت کے اس سفر کا آغاز 11 اپریل 2022 کو کیا تھا اور تمام سیاسی جماعتوں کے زعما نے مجھے اعتماد کا ووٹ دیا اور اس اعتماد کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ انہو ں نے کہا حالیہ سیلاب سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ مشکلات بہت ہیں ، آگے بھی آئینگی۔ مشکلات کو دانشمندی سے ہینڈل کرنا چاہیے،وقت آگیا ہے کہ ہم سب مل کر قومی یکجہتی، اتفاق رائے اور مشاورت سے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں ، ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں، 75 سال سے وسائل کی بندر بانٹ سب کے سامنے ہے۔ ماضی میں ہماری حکومت ختم نہ کی جاتی تو ملکی ترقی کے منصوبے مکمل ہو چکے ہوتے، بھارہ کہو منصوبے سے عوام کو بہت سہولت ہو گی، موجودہ سپہ سالار ملکی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہروقت سرگرم رہتے ہیں، آرمی چیف نے بڑی کمٹمنٹ دکھائی ہے،ذاتی مفاد کیلئے کبھی سپہ سالاروں سے ملاقاتیں نہیں کیں ،مقصد ملک کو آگے بڑھانا ہے ،طعنے دیئے گئے کہ اسٹیبلمشمنٹ کا آدمی ہوں لیکن میری صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ،راستہ دینا عین عبادت ہے، بھارہ کہو منصوبہ 9 ماہ کی قلیل مدت میں تمام ترمشکلات کے باوجود مکمل ہوا،سی پیک کے دوسرے مرحلے کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے پرعزم، حمایت پر چینی صدر شی جن پنگ کا شکر گزار ہوں ،دوبارہ منتخب ہوئے تو نوجوانوں کیلئے مختص رقم بڑھائینگے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب میں اور نواز شریف اہل خانہ کے ساتھ پہلی مرتبہ مری گئے تھے تو ٹریفک نہ ہونےکے برابر تھی لیکن پھر مری روڈ پر ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں گلیات، مری اور آزاد کشمیر کے لئے ٹریفک بھارہ کہو روڈ سے گزرتی ہے جو گھنٹوں بلاک رہتی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 10 ماہ قبل اس منصوبہ کا آغاز ہوا تو زمین کے حصول کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے۔ بائی پاس منصوبہ تجارتی منصوبہ نہیں تھا لیکن قائد اعظم یونیورسٹی سے زمین کے حصول میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ عدالتی فیصلے کے بعد اس منصوبے پر دن رات کام کیا گیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود آج یہ منصوبہ مکمل ہو چکا ہے ۔دیر آمد درست آمد ۔وزیراعظم نے کہا کہ میرا ایک ہی مقصد ہے کہ سیاستدان اور ادارے مل کر ملک کو ایسی راہ پر گامزن کریں کہ آزادی کے لئے جانیں قربان کرنے والوں کی روحوں کو تسکین پہنچے۔اس ملک سے غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ ہو اور آزادی کے مقصد کی تکمیل ہو سکے ۔ حویلی بہادر شاہ منصوبہ کا ذکر کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ منصوبہ پر 70 ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ تھا اور میں نے ٹھیکہ دے دیا۔ 2018 سے قبل پہلی ٹربائین آ گئی ۔ 2019 میں مکمل ہونا تھا۔ پھر چار سال منصوبہ بند کر دیا گیا جس سے منصوبہ پر لاگت دو گنا ہو گئی۔ یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح ملک کو تباہ کیاگیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج وقت ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان کو آگے لے کر جائیں۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر ہم فیصلہ کر لیں تو چند سالوں میں ہم اس سطح پر ہوں گےجہاں 1990 کی دہائی میں پاکستان پہنچ چکا تھا۔آئی ایم ایف کی سربراہ سے ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ ان کی خوشامد کی، ان کو بطور عالمی بینک کی نائب صدر جانتا تھا اور ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات کے بعد طے ہوا کہ ٹیمیں بیٹھیں گی تو اسحٰق ڈار نے تحفظات کا اظہار کیا لیکن میں نے کہا کہ بیٹھیں گے، یہ بعد میں پھر بدل جائیں گے اور اجتماعی کوششوں سے آئی ایم ایف کا معاہدہ ہوا۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹوئٹ کرتے کہا کہ سی پیک نے گزشتہ دس برسوں کے دوران اعلیٰ معیار کے انفراسٹرکچر، توانائی اور سماجی و اقتصادی ترقی کے شعبوں میں کئی سنگ میل عبور کئے ،سی پیک کے دوسرے مرحلے کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے مزید توانائی اور جذبے کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہوں۔دوسری طرف ڈیجیٹل یوتھ ہب پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتےہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کو پورے ملک میں برق رفتاری سے پھیلا رہے ہیں۔ وفاق کی سطح پر پاکستان ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا گیا جس کے لئے 5 ارب روپے رکھے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں