وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز کے وژن کے مطابق، پنجاب کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی اہم پریس کانفرنس
سپیشل سیکرٹری ہوم فضل الرحمٰن، ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ بھی ہمراہ تھے،

آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ سی سی ڈی، آر ایم پی کے قیام اور پولیس کو مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے شکر گزار ہیں- صوبہ میں پنجاب سرینڈر آف اللیگل آرمز ایکٹ 2025 متعارف کروایا جارہا ہے، صوبہ بھر میں غیر قانونی اسلحہ 15 دن کے اندر جمع کروانا لازم ہو گا- لائسنس یافتہ اسلحہ کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی،
صوبہ بھر سے ڈالا کلچر کا خاتمہ یقینی بنایا جارہا ہے،10 لاکھ سے زائد لائسنسڈ اسلحہ کی از سر نو جانچ پڑتال کی جائے گی،
صوبہ بھر میں سکروٹنی اینڈ سرچ آپریشنز کیے جائیں گے،
ذاتی دشمنیوں، اپنی حفاظت کی آڑ میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کیخلاف بلا تفریق کاروائیاں کی جائیں گی،
غیر قانونی اسلحہ کی خرید و فروخت میں ملوث افراد کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے گا،
غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے ہر شہری کو بہر صورت اپنا اسلحہ جمع کروانا پڑے گا
سی سی ڈی صوبہ کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے اقدامات کرے گی،
ناجائز اسلحہ قانون کے مطابق سی سی ڈی، متعلقہ تھانوں اور مقرر کردہ مراکز پر جمع کروایا جاسکے گا،
برآمد شدہ غیر قانونی اسلحہ سی سی ڈی کی زیر نگرانی ضائع کیا جائے گا،
صوبائی بارڈر چیک پوسٹوں پر اسلحہ کی تلاش کیلئے سکینر نصب کیے جارہے ہیں،
پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیز کیلئے گارڈز کی بھرتی کا عمل سخت کیا جائے گا،
پرائیویٹ گارڈز کو پولیس کی زیر نگرانی تربیت فراہم کی جارہی ہے، لائسنسز ریگولیٹ کیے جارہے ہیں،
غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کیخلاف قانون سازی کے تحت سخت سزائیں و جرمانے مقرر کیے جائیں گے،
ٹارگٹ کلنگ میں ملوث شوٹرز کیخلاف سخت کاروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں،
پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز کیلئے پینک بٹن متعارف کروایا جارہاہے، جو 15کیساتھ منسلک ہو گا،
2500 سے زائد اغوا اور گمشدہ بچوں کو ورچوئل سنٹر فور چائلڈ سیفٹی کی مدد سے گھر واپس بھیجا گیا-
سپیشل سیکرٹری ہوم فضل الرحمٰن نے کہا کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر 4 سے 14 سال تک سزائیں، 10 لاکھ سے 30 لاکھ تک جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ- غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا جرم ناقابل ضمانت تصور ہو گا،
، ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ سی سی ڈی کے قیام سے کرائم کی شرح میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے- قتل کے جرائم کی شرح میں 33 فیصد، گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں میں 62 فیصد کمی واقع ہوئی ہے،
گاڑیاں چوری کی وارداتوں میں 51 فیصد، ڈکیتی 70 فیصد، راہزنی کی وارداتوں میں 71 فیصد کمی واقع، سہیل ظفر چٹھہ
ناجائز اسلحہ کیخلاف کریک ڈاؤن کے نتیجہ میں 04 ماہ میں اسلحہ کے زور پر کیے جانے والے جرائم میں 75 فیصد تک کمی لائیں گے، صوبہ بھر میں قتل کی وارداتیں 1300 سے کم ہو کر 800 رہ گئیں،
صوبہ بھر میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے،
آئی جی پنجاب نے صحافیوں کے مختلف سوالات کے جواب بھی دئیے،