وہاڑی کی تاریخ کے سب سے بڑے اور منفرد جنسی اسکینڈل کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ ایڈیشنل سیشن جج یاسر حیات کی عدالت نے قاری وہاج کے بیٹے حامد رسول کو دونوں مقدمات میں سزائے موت جبکہ شریک ملزم اصف تارڑ کو دو سال قید کی سزا سنائی۔



یہ کیس وہاڑی کی عدالتی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرائل قرار دیا جا رہا ہے جس نے سماجی اور عوامی سطح پر گہرا اثر چھوڑا۔ متاثرہ لڑکیوں کی جانب سے کیس کی پیروی معروف قانون دان عبدالوھاب بلوچ ایڈووکیٹ نے کی، جنہوں نے عدالت میں بہترین دلائل پیش کیے اور ملزمان کی بار بار کی گئی ضمانت کی درخواستیں بھی مسترد کروائیں۔ ان کی شاندار قانونی جدوجہد کے نتیجے میں متاثرہ بچیوں کو انصاف ملا اور مرکزی ملزم کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑا۔فیصلے کے بعد عبدالوھاب بلوچ ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“یہ فیصلہ نہ صرف متاثرہ بچیوں کے لیے انصاف کی جیت ہے بلکہ وہاڑی کی عدالتی تاریخ میں ایک مثال بھی قائم ہوا ہے۔ ہم نے شروع دن سے وعدہ کیا تھا کہ مظلوموں کو انصاف دلوائیں گے اور آج عدالت نے بھی ثابت کر دیا کہ سچ ہمیشہ جیتتا ہے۔ یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے گھناونے جرائم کے مرتکب افراد کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ قانون کے شکنجے سے کوئی نہیں بچ سکتا شہریوں اور متاثرہ خاندانوں نے عدالتی فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف کی جیت اور مظلوموں کی فتح ہے