300

دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈسرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے) اور انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ منیجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے) کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط

لاہور(ٹیوٹرپاکستان) دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈسرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے) اور انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ منیجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے) نے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت دونوں ادارے پاکستان کے سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کو انٹرنیشنل پبلک سیکٹر اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز(IPSAS®) کی تربیت دیں گے جودر حقیقت ایکروئل(accrual) کی بنیاد پر اکاؤنٹنگ کے عالمی معیارہیں تاکہ پاکستان کے سرکاری شعبے میں رپورٹنگ کا معیار بہتر بنانے کے ساتھ اْس میں تسلسل اور شفافیت پیدا کی جا سکے اور اس طرح عوام کا اعتماد بھی بحال کیا جا سکے۔

اس بات کا اعلان ایک ورچوئل ایم او یو (Virtual MoU) پر دستخط کرنے کی تقریب کے دوران کیا گیا جس کا موضوع تھا:”سرکاری شعبے کو مضبوط بنانے کی اہمیت(The Importance of Strengthening of Public Sector Institutions)“۔ تقریب میں دونوں پیشہ ور
اداروں کے سینئر ارکان کے علاوہ سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے ارکان مثلاً عبدالغفور خان، ریکٹر، پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس اکیڈیمی، ڈاکٹر جواد ذکا خان، ڈپٹی ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان،محترمہ سمْیرا کے اسلم، ایڈیشنل سیکریٹری، وزارت خزانہ، عمر بنوری، ڈائریکٹر جنرل اکاؤنٹس، کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس پاکستان، ضیاء المصطفیٰ، صدر، آئی سی ایم اے پاکستان اور سجید اسلم، ہیڈ آف ا ے سی سی اے پاکستان نے بھی شرکت کی۔ اِس شراکت کے تحت، سرکاری شعبے میں کام کرنے اور فنانس سے تعلق رکھنے والے یا مستقبل قریب میں سرکاری شعبے میں شمولیت کے خواہشمندپیشہ ورا فراد کو اے سی سی اے اور آئی سی ایم اے کی جانب سے مشترکہ طور پر IPSAS® کی اسناد دی جائیں گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم نے کہا،”سرکاری شعبے کو،عوامی اعتماد میں کمی سے لے کر ٹیکنالوجی کی دخل اندازی تک، جن کاایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ہونا ضروری ہے، انتہائی پریشان کن چیلنجوں کاسامنا ہے۔موجودہ وباء نے، انتہائی غیر معمولی انداز میں عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے اِس شعبے پر اتنادباؤبڑھا دیا ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں پائی جاتی۔لہٰذا بنیادی سطح پر اصلاحات کرنے اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ عوامی بہتری کے لیے ایک عالمی قوت کے طور پر، اے سی سی اے کوآئی سی ایم اے کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کرنے پر خوشی ہے۔ یہ ایم او یو،پاکستان میں سرکاری شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ کام کرنے اور اکاؤنٹنسی کے پیشے پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کی جانب،اے سی سی اے کے عزم کی ایک اور مثال ہے۔“

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آئی سی ایم اے پاکستان کے صدر، ضیاء المصطفی ٰنے کہا:”آئی سی ایم اے پاکستان کو اے سی سی اے کے ساتھ شراکت پر خوشی ہے تاکہ سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے اداروں کو IPSAS®میں تربیت دے کر عالمی سطح پر شفافیت اور جوابدہی میں بہتری کے علاوہ ایکروئل کی بنیاد پر پبلک فنانشل رپورٹنگ فریم ورک(accrual-based public financial reporting framework) کو اپنانے کے قابل بنایا جا سکے۔ اِن اہداف کو موجودہ،حکومت پاکستان کے موجودہ مالی اداروں کو مضبوط بنانے کے ساتھ سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے اکاؤنٹنٹس کومعلومات کی فراہمی کے ذریعے حاصل کیا جائے گا اور اسی کے ساتھ ملک میں سرکاری شعبے میں اکاؤنٹسی کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں