4

ماں، محبت اور معاشرہ ایک المیے کے دو رخ۔۔۔۔۔رخسانہ سحر

لاہور میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ، جہاں ایک ماں نے اپنے ہی تین معصوم بچوں کی جان لے لی، صرف ایک خبر نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے ایسا آئینہ جس میں کئی تلخ سچائیاں بیک وقت جھلکتی ہیں۔ اس سانحے کو صرف ایک ظالم ماں کی کہانی سمجھ لینا شاید آسان ہو، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہری ہے۔
ایک پہلو وہ ہے جو فوراً دل کو چیر دیتا ہے: معصوم بچے، جو اپنی ماں کی آغوش میں سب سے محفوظ ہونے چاہییں تھے، اسی آغوش میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ ان کی مسکراہٹیں، ان کے خواب، ان کی ننھی خواہشیں سب ایک لمحے میں ختم ہو گئیں۔ یہاں ماں کا کردار ایک محافظ سے قاتل میں بدلتا نظر آتا ہے، اور دل چیخ اٹھتا ہے
“کیسی ماں تھی جو اپنے ہی جگر کے ٹکڑوں کو مٹا گئی؟”
یہ پہلو ہمیں غصہ دیتا ہے، نفرت جگاتا ہے، اور انصاف کا تقاضا کرتا ہے۔
لیکن کہانی کا دوسرا رخ بھی ہے وہ رخ جسے دیکھنا آسان نہیں، مگر ضروری ہے۔
کیا وہ ماں واقعی صرف “ظالم” تھی؟ یا وہ خود بھی کسی اندھیرے، کسی اذیت، کسی ذہنی یا جذباتی قید کا شکار تھی؟ ہمارے معاشرے میں عورت پر دباؤ کی کئی تہیں ہیں
رشتوں کا بوجھ، غربت، گھریلو تشدد، تنہائی، اور سب سے بڑھ کر بات نہ کر سکنے کا عذاب۔
اکثر عورتیں خاموشی سے ٹوٹتی رہتی ہیں، اور جب یہ ٹوٹنا حد سے بڑھ جائے تو وہ خود بھی نہیں جانتیں کہ وہ کیا کر بیٹھیں گی۔
یہاں ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے:
ہم ذہنی صحت کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
ہم عورت کے دکھ کو “ڈرامہ” کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔
ہم اس کے سوالوں کو بغاوت سمجھتے ہیں اور اس کی خاموشی کو رضامندی۔
یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ:
“عشق کبھی خون نہیں مانگتا”
جو جذبہ زندگی چھین لے، وہ محبت نہیں وہ ہوس، جنون یا بگڑا ہوا ذہن ہوتا ہے۔
محبت تو زندگی دیتی ہے، سہارا بنتی ہے، اور انسان کو بہتر بناتی ہے۔
اگر کسی تعلق نے ایک ماں کو اس حد تک دھکیل دیا کہ وہ اپنے بچوں کی قاتل بن گئی، تو وہ تعلق خود ایک سوالیہ نشان ہے صرف اس عورت پر نہیں، بلکہ اس پورے نظام پر جس نے اسے وہاں تک پہنچایا۔
یہ واقعہ ہمیں کئی سوال دے جاتا ہے:
کیا ہم اپنے گھروں میں موجود اذیت کو پہچان پاتے ہیں؟
کیا ہم عورت کو سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟
کیا ہم ذہنی بیماری کو بیماری مانتے ہیں؟
یہ سچ ہے کہ ایک جان لینا ناقابلِ معافی جرم ہے، اور معصوم بچوں کے لیے انصاف ضروری ہے۔ مگر اگر ہم صرف سزا دے کر آگے بڑھ گئے، تو ایسے سانحات دوبارہ جنم لیتے رہیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم معاشرے کو صرف فیصلوں کا نہیں، سمجھ کا مرکز بنائیں۔
ہم عورت کو صرف کردار نہیں، انسان سمجھیں۔
ہم محبت کو صرف جذبہ نہیں، ذمہ داری سمجھیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ
یہ واقعہ ایک ماں کی کہانی نہیں ایک پورے معاشرے کی کہانی ہے
جہاں اگر ہم نے خود کو نہ بدلا، تو ایسی چیخیں بار بار سنائی دیتی رہیں گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں