100

تعلیمی ادارے میں ہراسانی کا واقعہ، شوبز فنکار بھی خاموش نہ رہ سکے

لاہور کے علاقے ڈیفنس میں نجی اسکول میں طالبہ پر تشدد کے واقعے کے خلاف شوبز شخصات بھی سامنے آگئیں، ساتھی طالبات کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں بُلنگ کی روک تھام پر زور دیا۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر شوبز شخصیات نے پیغام جاری کئے اور اس اقدام کی پُر زور مذمت کی۔
گلوکار اور اداکار علی ظفر نے طلبات کی جانب سے ساتھی طالبہ کو ہراساں کئے جانے کی مذمت کرنے کے ساتھ ہی تشدد کرنے والے ان طالبات کو انصاف کا موقع دینے اور اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کی روداد سنا دی۔
مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر طویل ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے ویڈیو دیکھی، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ تشدد کرنے والی ان طلبات کو بھی انصاف کا موقع ملنا چاہئے اور تعلیمی اداروں میں جاری بُلنگ کلچر کو سرے سے ختم کرنے کے لئے والدین اور اساتذہ کی جانب سے ضروری اقدامات اُٹھانے چاہئے۔
انہوں نے اپنے تعلیمی دور میں این سی اے میں ہراسانی کے پیش آنے والے واقعے کی کہانی سنائی جس سے انہیں اور ان کی ساتھی طلبہ کو گزرنا پڑا اور اس کے منفی اثرارت پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے طلبات کے اس رویے کو طاقت کے نشے سے منسلک کرنے کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ممکنہ طور پر انہیں زندگی میں کسی معاملے میں یہ احساس کمتری کا شکار ہوں اور اپنے نفس کی تسکین کے لئے خود کو متاثرہ طالبہ پر حاوی کرنا چاہ رہی ہوں اس لئے اس واقعے کے پیچھے پوشیدہ وجوہات کا پتہ لگا کر انہیں ختم کرنا چاہیئے۔
انہوں نے تعلیمی اداروں میں کلاسز کے اندر اور باہر راہ داری میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے پر بھی زور دیا تاکہ کسی ناگہانی صورت میں ان سے فوری مدد لی جاسکے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے والدین سے بھی درخواست کی ہے کہ اس نفسہ نفسی کے دور میں اپنے بچوں کی تربیت پر خود غور کریں ، انہیں صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں اور ان کا خیال رکھیں۔
اداکارہ یشمیٰ گِل کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے کب یہ سمجھیں گے کہ بُلنگ یا کسی دوسرے بچے کو ہراساں کرنا بالکل غلط ہے، اتنے سارے تمائشائی موجود ہیں؟‘۔
تعلیمی ادارے میں ہراسانی کا واقعہ، شوبز فنکار بھی خاموش نہ رہ سکے
اداکار اور میزبان احمد علی بٹ نے اس واقعے کی مکمل ذمہ داری والدین اور اسکول انتظامیہ کے سر ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ہی لاعلم ہیں کہ ان کے بچوں کے ذہنوں کو سوشل میڈیا کس طرح زہر آلود کر رہا ہے اور ادارے میں اتنا بڑا واقع پیش آگیا اور اسکول انتظامیہ بے خبر تھی۔
تعلیمی ادارے میں ہراسانی کا واقعہ، شوبز فنکار بھی خاموش نہ رہ سکے
اداکارہ میرب علی نے تشدد کرنے والی طلبات کو جیل بھیجنے کا مطلبہ کرتے ہوئے انسٹا اسٹوری اپ ڈیٹ کی کہ ’یہ انتہائی ناگوار ہے، امید ہے متاثر طلبا کو جلد انصاف ملے اور یہ مغرور طلبات جو خود کو پاپا کی پرنسس سمجھتی ہیں جیل کی ہوا کھائیں‘۔
تعلیمی ادارے میں ہراسانی کا واقعہ، شوبز فنکار بھی خاموش نہ رہ سکے
اداکار عمران عباس نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اسٹوری اپ ڈیٹ کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد کرنے والی تینوں طلبات کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔
تعلیمی ادارے میں ہراسانی کا واقعہ، شوبز فنکار بھی خاموش نہ رہ سکے
اداکار احسان خان نے بھی بذریعہ انسٹا استوری اپ ڈیٹ کرتے ہوئے نہ صرف اس واقعے میں ملوث طالبات بلکہ تمائشائیوں میں شامل طلبہ اور ویڈیو ریکارڈ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔
تعلیمی ادارے میں ہراسانی کا واقعہ، شوبز فنکار بھی خاموش نہ رہ سکے
انہوں نے کہا کہ طلبات کی 50 ہزار کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانتیں منظور ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب متاثرہ ہمیشہ انصاف کے حصول کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں