82

بائیڈن کی مائیکروسافٹ اور گوگل کے CEOs سے خصوصی ملاقات

امریکی صدر جو بائیڈن نے گوگل اور مائیکروسافٹ سمیت اے آئی ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے والی بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز سے خصوصی ملاقات کی ہے۔
اس ملاقات کے دوران اے آئی ٹیکنالوجی سے دنیا کو درپیش خطرات اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جینریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے کہ چیٹ جی پی ٹی(ChatGPT) نے رواں سال دنیا کی خصوصی توجہ حاصل کی ہے، بہت سی کمپنیاں اسی طرح کی دیگر مصنوعات لانچ کر رہی ہیں جن کے بارے میں ان کمپنیوں کے خیال میں ٹیکنالوجی سے دنیا میں کام کرنے کی نوعیت بدل جائے گی۔
اس ٹیکنالوجی کےحامیوں کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کے اوزار طبی تشخیص، اسکرین پلے لکھنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لیکن اس بارے میں یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پرائیویسی خلاف ورزی، روزگار سے متعلق فیصلوں اور غلط معلومات پھیلانے کی مہمات کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔
دو گھنٹے کی اس ملاقات کے دوران نائب امریکی صدر کملا ہیرس، انتظامیہ کے افسران اور اے آئی ٹیکنالوجی کے ٹاپ ایگزیکٹوز شامل تھے۔
کملا ہیرس کا اس گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ مختلف شہری حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے تمام چیف ایگزیکٹوز سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی مصنوعی ذہانت کی مصنوعات کی حفاظت کو یقینی بنائیں تو بائیڈن انتظامیہ نئے ضوابط کو آگے بڑھانے اور مصنوعی ذہانت سے متعلق نئی قانون سازی کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
بائیڈن انتظامیہ نے 7 نئے اے آئی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ شروع کرنے کے لیے نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی جانب سے 140 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ وفاقی حکومت کی جانب سے اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق پالیسی گائیڈینس بھی جاری کرے گا۔
اس کے علاوہ، اے آئی ٹیکنالوجی ڈویلپرز اپنےاے آئی سسٹمز کی عوامی تشخیص میں خود بھی حصّہ لیں گے۔
بائیڈن انتظامیہ نے پہلے ہی اے آئی ٹیکنالوجی سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے کچھ اقدامات کرلیے ہیں۔
انتظامیہ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس میں وفاقی ایجنسیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال میں تعصب کو ختم کریں اور اے آئی بل آف رائٹس اور رسک مینجمنٹ فریم ورک جاری کریں۔
گزشتہ ہفتے، فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور امریکی محکمہ انصاف کے شہری حقوق ڈویژن نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ وہ اے آئی ٹیکنالوجی سے متعلقہ نقصان سے لڑنے کے لیے اپنے قانونی حکّام کا استعمال کریں گے۔
لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا یورپی حکومتوں کی جانب سے ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے اور گہرے نقائص اور غلط معلومات کے حوالے سے سخت قوانین بنانے کے لیے اختیار کیے گئے سخت انداز میں ناکام رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں