نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اب سوموٹو نہیں لیتے، میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، ریٹائرمنٹ سے قبل شارٹ اور سویٹ فیصلہ دے دیں گے۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ اس بینچ کا حصہ ہیں۔
عدالتِ عظمیٰ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل جاری ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کہاں ہیں؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل بیرونِ ملک ہیں، ان کا جواب جمع کرا دوں گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل نے نہیں آنا تھا تو عدالت کو بتا دیتے، اٹارنی جنرل کے نہ آنے کا معلوم ہوتا تو معمول کے مقدمات کی سماعت کرتے، ان کی وجہ سے صبح ساڑھے 9 بجے کیس مقرر کیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ تحریری گزارشات عدالت کو جمع کروا دی ہیں۔