“پھول توڑنا منع ہے”،
“دیوار پہ لکھنا منع ہے”،
“تیز رفتاری سے گاڑی چلانا منع ہے”
شہر کی ہر گلی، ہر نکڑ، ہر دیوار پر یہ جملے نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر چیز کے تحفظ کے لیے قانون ہے پھولوں کے لیے، دیواروں کے لیے، راستوں کے لیے۔ مگر افسوس! انسان کے لیے کوئی تختی نہیں، کوئی وارننگ نہیں، کوئی ہدایت نہیں۔
کاش کوئی دیوار پر یہ بھی لکھ دے: “دل توڑنا منع ہے”
“بلاوجہ کسی کی تذلیل کرنا منع ہے”
“سخت لہجے میں بات کرنا سختی سے منع ہے”
مگر شاید ہمارے ہاں انسانی جذبات کی کوئی قیمت نہیں۔ ہم چیزوں کو تو بچاتے ہیں، مگر رشتوں کو، احساسات کو، اور انسانیت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
یہ وہ دور ہے جس میں اگر کسی کے موبائل پر خراش آ جائے تو افسوس کیا جاتا ہے، مگر اگر کسی کا دل ٹوٹ جائے تو کہا جاتا ہے: “اوور ریاکٹ نہ کرو!”
یہ وہ وقت ہے جہاں مہنگی گاڑی کو چھو جانے پر لوگ لڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں، مگر کسی کے وجود کو روند دینے پر ایک معذرت بھی مشکل ہو جاتی ہے۔
ہم نے سب کچھ سیکھ لیا ہے سمارٹ فون چلانا، سوشل میڈیا پر اپنی ’بہترین زندگی‘ دکھانا، مہذب لباس پہننا، بڑی بڑی باتیں کرنا
مگر انسان بننا شاید بھول گئے ہیں۔
آج ہمارے بچوں کو سکھایا جاتا ہے: “کچرا زمین پر نہ پھینکو”، “باتھ روم صاف رکھو”، “اچھے گریڈ لاؤ”
مگر یہ کوئی نہیں کہتا کہ: “کسی کو اکیلا مت چھوڑو”،
“کسی کی کمزوری پر ہنسو مت”،
“کسی کا بھرم مت توڑو”۔
ہم نے انسانوں سے زیادہ چیزوں کی قدر کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دل زخمی ہیں، رشتے کمزور ہیں، اور سماج اندر سے کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔
اب وقت ہے
کہ ہم دیواروں پر نئے جملے لکھیں
ایسے جملے جو ہمیں انسان بنائیں،
ایسے لفظ جو ہمیں یاد دلائیں کہ
> “انسانی دل بھی پھولوں کی طرح نازک ہوتے ہیں، انہیں توڑنا واقعی منع ہونا چاہیے۔”
ان جملوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ایک نہایت مہذب، منظم، اصول پسند قوم ہیں۔ بظاہر ہمیں سب کچھ معلوم ہے کہ کس چیز کی قدر کرنی ہے، اور کس کے ساتھ نرمی برتنی ہے۔
مگر سچ یہ ہے کہ ہماری یہ مہذب دیواریں، ہمارے اندر کے بکھرے اور بےرحم رویوں پر ایک خاموش احتجاج بھی کرتی ہیں۔
ہم نے سب کچھ بچا لیا… سوائے انسانیت کے۔
ہم پھولوں کی حفاظت کرتے ہیں، مگر کسی کے خواب روند دیتے ہیں۔
ہم دیواروں پر لکھنے کو جرم سمجھتے ہیں، مگر کسی کے دل پر لفظوں کے زخم کندہ کر دینا ہمیں معمولی بات لگتی ہے۔
ہم تیز رفتاری کو روکتے ہیں، مگر اپنے لہجے کی کاٹ پر کوئی بریک نہیں لگاتے۔
کوئی یہ کیوں نہیں لکھتا:
> “دل توڑنا منع ہے”
“امیدیں توڑنا سختی سے منع ہے”
“کسی کی خودی کو پامال کرنا جرم ہے”
“بلاوجہ غصہ نکالنا، تضحیک کرنا، اور دوسروں کو کمتر سمجھنا اخلاقی دیوالیہ پن ہے”
ہم نے چیزوں کو قیمتی بنا دیا، اور انسانوں کو سستا۔
آج ایک موبائل گر جائے تو شیشہ بدلوا دیا جاتا ہے،
مگر اگر کسی کی انا ٹوٹ جائے، اُس کا بھرم مٹی میں مل جائے تو لوگ کہتے ہیں: “ایگو بہت ہے اسے”، “خود ہی سنبھل جائے گا”۔
یہ وہ وقت ہے کہ جس میں ایک گاڑی کو خراش آ جائے تو آنکھیں لال ہو جاتی ہیں،
مگر کسی کا دل ٹوٹ جائے، تو بے حسی کی دبیز چادر اوڑھ کر ہم گزر جاتے ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ ہم نے انسان کو انسان سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔
کیونکہ ہمیں اخلاقیات صرف سکول کے نصاب میں یاد آتی ہیں، زندگی کے عملی میدان میں نہیں۔
ہم بچوں کو ABC اور 123 تو سکھاتے ہیں، مگر empathy، compassion، اور kindness نہیں سکھاتے۔
ہم انہیں سکھاتے ہیں: “کچرا زمین پر نہ پھینکو” — مگر یہ نہیں سکھاتے کہ “الفاظ کا کچرا کسی کے دل پر مت پھینکو”۔
ہمیں پھر سے انسان بننے کی ضرورت ہے۔
ہمیں دیواروں پر لکھنا چاہیے:
“کسی کی غیر موجودگی میں اس کا مذاق اُڑانا سختی سے منع ہے”
“کسی کی کمزوری کو سب کے سامنے لانا منع ہے”
“کسی کی خاموشی کو اس کی کمزوری مت سمجھو”
“ہر مسکراہٹ خوشی کی علامت نہیں ہوتی، احترام سے پیش آؤ”
یہ جملے شاید عجیب لگیں،
مگر یہی وہ سچائیاں ہیں جن کی دیواریں خاموش گواہی دے رہی ہیں۔
یہ وہ احکام ہیں جو نہ کسی عدالت میں لکھے گئے، نہ کسی بورڈ پر چسپاں کیے گئے —
مگر ہر دل، ہر انسان، ہر رشتہ انہی اصولوں پر قائم ہے۔
ہم اپنے رویوں کا محاسبہ کریں۔
دیواروں سے آگے سوچیں، لفظوں سے آگے محسوس کریں، اور رشتوں کی قدر کریں۔
> “جو دل ٹوٹ جاتے ہیں، ان پر نہ کوئی جرمانہ ہوتا ہے، نہ ایف آئی آر… مگر ان کی بازگشت عمر بھر سنی جاتی ہے۔”
دنیا میں سب سے زیادہ ٹوٹنے والی چیز “بھرم” ہے، اور سب سے کم مرمت ہونے والی چیز “بھروسہ”۔
آئیے، اگلی بار جب دیوار پر “منع ہے” لکھا دیکھیں تو دل میں یہ بھی لکھ لیں:
“کسی کا دل توڑنا، امید چھیننا، اور بے وجہ سختی برتنا سختی سے منع ہے!