نندی پور پاور پراجیکٹ ریفرنس میں احتساب عدالت نے پیر کو بابر اعوان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام ملزمان کو پیرکوطلب کرلیاہے جبکہ ڈاکٹر بابراعوان نےاپنی بریت کی درخواست واپس لے لی۔
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں بابر اعوان کے خلاف نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر سے متعلق ریفرنس پر سماعت ہوئی، سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی۔
سماعت شروع ہوئی تو ڈاکٹربابراعوان نےبریت کی درخواست واپس لےلی، جس پر نیب کی جانب سےدرخواست واپس لینے پر مخالفت کی گئی جبکہ عدالت نے بریت پر فیصلہ نہ سنانے کی درخواست منظور کرلی۔
بابر اعوان نے کہا وزارت قانون میں بھیجی گئی دونوں سمری وزیر کے عہدے کے بعد موصول ہوئیں، سمری کی منظوری وزیر قانون نہیں بلکہ سیکرٹری دیتا ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا وزارت قانون کی عدم تعاون کے رویہ کے باعث ایک سال کی تاخیرکی، بابراعوان کے خلاف 37گواہان موجود ہیں ٹرائل چلنے پر شواہد بھی پیش کریں گے۔
عدالت نے ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے نیب کو گواہان پیش کرنے کا حکم دے دیا اور پیر کو بابراعوان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام ملزمان کو پیرکوطلب کرلیااور تمام ملزمان کوحاضری یقینی بنانےکاحکم دیا جبکہ ملزمان کونقول بھی فراہم کردی گئیں۔
نندی پور پاؤر پراجیکٹ میں ڈاکٹر بابر اعوان، سابق وزیراعظم پرویز اشرف، سابق سیکٹری قانون مسود چشتی اور ریاض کیانی، سئنر جائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر ریاض محمود، سابق ریسرچ کنسلٹنٹ وزارت قانون شمائلہ محمود ملزمان میں شامل ہیں۔
ملزمان پر نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر سے قومی خزانے کو 27 ارب روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔احتساب عدالت نے 7ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ بابر اعوان کی بریت کی درخواست پر عدالت نے آج فیصلہ سنانا تھا۔
گزشتہ سماعت پراحتساب عدالت نے بریت کی درخواست پرفیصلہ موخرکر دیاتھا جبکہ 25 مارچ کو عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیاتھا۔