320

ٹیکس مراعات منظوریوں کا مرحلہ کم ,پٹرولیم میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے سہولیات دینے کا اعلان

اسلام آباد- حکومت نے پٹرولیم کے شعبہ میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے سہولیات دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیکس مراعات اور کاروبار شروع کرنے کیلئے منظوریوں کا مرحلہ کم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس حوالے سے وزیرا عظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان،وفاقی وزیر توانائی عمرایوب خان اور معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابرنے پریس کانفرنس کی ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ پٹرولیم سیکٹر کے مختلف شعبوں میں ترامیم کرنے جارہے ہیں ،کم پیداواری صلاحیت والی کمپنیوں کے بجائے بہتر صلاحیت والی کمپنیوں کو آگے لاناچاہئے ، تیل وگیس کے شعبہ میں کمپنی کو کام شروع کرنے کے لئے قانون کے مطابق 24 سے 30 کے قریب منظوریاں چاہئیں،24 میں سے دس منظوریاں ختم کردی ہیں، ہر سطح کی منظوری کا ایک مخصوص وقت مقررکردیا ہے ، اس نظام سے ایک سے ڈیڑھ سال کی کمی ہوگی ۔تیل و گیس کی تلاش کے لئے 27 نئے بلاکس کی عالمی طرز پر بولیوں کا آغاز کرنے جارہے ہیں، حکومت مقامی گیس کی پیداوار بڑھانے کے لئے مراعات دے گی ،ملک میں کہیں بھی پٹرول پمپ لگانے کے لئے 17 سے 25 منظوریاں چاہئیں ، ہم نے جائزہ لیا ہے کہ 6 سے 7 منظوریاں لازمی ہیں ان کو قائم رکھا جائے گا۔سٹوریج کے شعبہ میں 14 سے 19 منظوریاں درکارہیں ، جس میں سے پانچ سے چھ منظوریاں ضروری ہیں، پرانی ریفائنریوں کو اپ گریڈ کرنے یا نئی ریفائنری کے لئے ٹیکس مراعات دے رہے ہیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ گیس و بجلی کے بل کا 48 گھنٹے میں صارفین تک پہنچانا لازمی قراردیا گیا ہے ، بل کی ادائیگی کی مدت بھی 15 دن کردی جائے گئی اور ان رولز کی تبدیلی کرنے میں ایک سے دو ماہ لگ جائیں گے ۔6 ماہ میں 40 ایم ایم سی ایف گیس سسٹم میں داخل کی ہے ،30 مزید آجائے گی انڈسٹریل کنکشن 30 دن کے اندر لگنا لازمی ہوگا۔ندیم بابر نے مزید کہا کہ پٹرولیم ڈویژن آئندہ ماہ میں ایک نئی ایل پی جی پالیسی کا اعلان کردے گا، کوٹہ سسٹم کے بجائے اب اوپن نیلامی ہوگی، پانچ کمپنیوں کو ایل این جی ٹرمینل لگانے کی اجازت دے دی گئی ہے ،ڈیم ڈیوٹی کا آڈٹ ہوگا اسکی تفصیلات منگوا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ ملک سے سرخ فیتے کا نظام ختم کرکے کاروبار کو آسان بنایا جارہا ہے ،جس اہلکار نے بھی ٹرانسفارمر کی تبدیلی یا مرمت کے لئے پیسہ لیا اسے ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پارٹی کے اندر ڈسپلن کی خلاف ورزی کی شکایت کے حل کا فورم پارٹی ہے ، وزیر اعظم کا موقف ہے کہ یہ وقت خدمت اور عوام کو ریلیف دینے کا ہے ڈسپلن سے باہر گراونڈ سے باہر کھیلنے والے کے خلاف اقدام ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں