321

“کل کے تہوار پہ ہم جوتے نہ پہنیں گے”( زبیر احمد )

“یہ کھسہ ملتان کا
یہ چپل پشاوری ہے
جی۔۔۔یہ پھولوں والی
خاص بلوچی جوتی ہے
یہ۔۔۔ اندرون لاہور کی مکیشن ،
یہ۔۔۔ سلیپر ،یہ پمپی، یہ جاگر ہے ۔۔ جی۔
ادھر دیکھیں ۔۔یہ سارے یورپی ملکوں سے درآمدی جوتے ہیں
فیشن اور کوالٹی کی گارنٹی ہے
الٹرا ماڈرن ،بہترین ،جدید ترین
جی۔۔جی۔۔ کینوس والے؟
یہ لیجئے۔۔ یہ کینوس ۔
چرمی میں بھی بہت ورائٹی ہے۔۔ ۔
سانپ اور بھیڑ ، گائے اور مگر مچھ ۔۔ سب کی کھال کے جوتے پڑے ہیں
کوئی جوتا تو آپ بھی پسند فرمائیے ۔۔۔
دوکان بند کرنی ہے
ہمیں بھی کل اٹھنا ہے۔۔۔
ہمیں بھی عید کرنی ہے۔۔۔”
“مجھے تو سمجھ میں کچھ بھی نہیں آ تا۔۔۔۔
کیا پہنوں؟”
“اجی ۔۔ یہ ہیرا آپ نے نہیں دیکھا ۔۔۔؟
اسٹیٹس کے سبھی لوگوں نے کل یہ ہی پہننا ہے۔
آپ بھی یہی پہنیں۔۔۔
چھوٹے! مال پیک کرو
رات بہت بیت چلی
دوکان اب سمیٹ لو۔
جی۔۔۔ جناب!
پاوں کا ناپ تو بتایئے گا۔
اررےےےےے۔۔۔
آپ کے پاوں کدھر ہیں؟”
” اوہ۔۔۔۔
ہمارے پاوں رستے میں کہیں پہ گر گئے ہوں گے۔
یا پھر ہمارے جینیاتی کوڈ میں پاوں کی تشکیل ہی تحریر نہ ہو گی۔۔۔۔۔
بہر صورت ۔۔۔ ہمیں پھر سے اک لمبی مسافت
جھیلنا ہو گی۔
چلیں صاحب ہمیں معاف کر دیجئے
شب تہوار کے اس پہر میں
جوتوں کی خواہش کی
ہمیں تو پھر سے
تپتے ریتلے ، پتھریلے نوکیلے راستوں
برفیلے پہاڑوں، کالی وادیوں کو آزمانا ہے۔
گھنے جنگلوں میں بل کھاتی پگڈنڈیاں ناپنا ہیں۔
کھوئے ہوئے اپنے پاوں ڈھونڈنے ہیں ۔
چلیں صاحب ہمیں معاف کر دیجئے
بے وقت زحمت دی
کل کے تہوار پہ ہم جوتے نہ پہنیں گے۔”

(1998 میں لکھی گئ ایک نظم ، زبیر احمد )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں