65

فیروز خان اور علیزا سلطان میں سمجھوتہ نہ ہو سکا، فیصلہ اب کورٹ کریگی

پاکستانی معروف اداکار فیروز خان اور اُن کی سابقہ اہلیہ علیزا سلطان کے درمیان عدالت سے بچوں کے اخراجات پر سمجھوتہ نہ ہو سکا۔
گزشتہ روز کراچی کی مقامی عدالت میں ایک بار پھر فیروز خان اور علیزا سلطان اپنی اپنی درخواستوں پر سماعت کے لیے پیش ہوئے، اس دوران فیروز کے ہمراہ اُن کی بہن، اداکارہ حمیمہ ملک بھی ساتھ تھیں۔
فیروز خان کے وکیل نے عدالت سے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا ہے کہ ہم نے بچوں کی والدہ، علیزا سلطان کو فی بچہ سالانہ 15 لاکھ روپے آفر کیے تھے، علیزا کی جانب سے اس آفر کو رَد کرتے ہوئے فی بچہ سالانہ 35 لاکھ کا مطالبہ کیا ہے۔
فیروز خان کے وکیل کا بتانا تھا کہ ہم نے ماہانہ ایک لاکھ، دونوں عید پر دو لاکھ جبکہ بچے کے اسکول ایڈمیشن کا تخمینہ لگاتے ہوئے یہ آفر کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ علیزا سلطان یہ آفر نہیں مان رہی ہیں اور اُنہیں یہ رقم بہت کم لگ رہی ہے، ہم فی بچہ 35 لاکھ نہیں دے سکتے ہیں کیوں کہ یہ بہت بڑی رقم ہے۔
دوسری جانب علیزا سلطان کے وکیل کا عدالت سے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ علیحدگی کے بعد فیروز خان کے لائف اسٹائل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، عدالت کی جانب سے گزشتہ سماعت کے دوران عدالت باہر سمجھوتے کا حکم دیا گیا تھا جو کہ نہیں ہو سکا۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے بچوں کے لیے سردیوں کے کپڑے مانگے ہیں مگر بچوں کا والد (فیروز خان) بچوں کو سردیوں کے کپڑے تک مہیا نہیں کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ علیزا فاطمہ اور فیروز خان کے درمیان شادی کے 4 سال بعد ستمبر 2022 میں طلاق ہوگئی تھی، اس جوڑی کے دو بچے ہیں، جو اس وقت والدہ کے پاس ہیں۔
عدالت کے حکم کے باوجود اداکار فیروز خان اور اِن کی سابقہ اہلیہ علیزا سلطان کے درمیان بچوں کی کفالت کے اخراجات سے متعلق سیٹلمنٹ نہیں ہو سکی ہے جس کے نتیجے میں اب اس جوڑی کے بچوں کے اخراجات سے متعلق فیصلہ عدالت کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں