207

عظمیٰ بخاری نے شرجیل میمن کا بحث کا چیلنج قبول کر لیا، بحث میں خود شریک ہوگا،کسی پراکسی کے پیچھے نہیں چھپے گا: عظمیٰ بخاری

وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے شرجیل میمن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں براہِ راست بحث کا چیلنج دے دیا۔ عظمٰی بخاری نے کہا کہ “بحث کا چیلنج قبول ہے، وقت اور جگہ آپ کی مرضی کی ہوگی، مگر شرط یہ ہے کہ خود تشریف لائیے، کسی پراکسی کے پیچھے مت چھپیں۔”انہوں نے کہا کہ پنجاب کے سیلاب متاثرین پر گندی سیاست کا شرجیل میمن اور پیپلزپارٹی کا بیانیہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے، اور اب وزیراعظم کے خلاف “پھپھے کٹنیوں” والا بیانیہ لایا جا رہا ہے۔ کیا وزیراعظم نے انہیں پنجاب کے سیلاب متاثرین پر سیاست کرنے کو کہا تھا؟عظمٰی بخاری نے کہا کہ بلاول بھٹو وزیر خارجہ ہوتے ہوئے بھی اپنی جماعت، وفاقی حکومت اور وزیراعظم کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے — قوم آج بھی یہ سب یاد رکھتی ہے۔انہوں نے شرجیل میمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “آپ خود وفاق اور پنجاب کے خلاف سازشوں کا حصہ ہیں، اور جب پنجاب کی ترقی سے جلنے لگتے ہیں تو سازشیں شروع کر دیتے ہیں۔ کارکردگی پر سوال اٹھے تو صوبائیت کا کارڈ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کارڈ اور بینظیر انکم سپورٹ کارڈ سیاست نہیں بلکہ غلاظت ہے۔ جنوبی پنجاب آج بھی اندرونِ سندھ کے کسی بھی علاقے سے زیادہ ترقی یافتہ ہے، لیکن پیپلزپارٹی مسلسل پنجاب دشمن بیانیہ آگے بڑھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلاول، آصفہ اور پوری پیپلزپارٹی پنجاب کو مخاطب کر کے بی آئی ایس پی کا ذکر کرتی ہے، پھر بھی ڈھٹائی سے کہتی ہے کہ وہ وفاق سے بات کر رہے ہیں۔عظمٰی بخاری نے کہا کہ کراچی میں کچرا اٹھانے، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ یا سولر منصوبے میں کرپشن پر بات ہو تو فوراً لسانیت اور “مرسو مرسو” کارڈ نکال لیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب کے معاملات میں مداخلت بند کریں، اتنے معصوم نہ بنیں۔“وفاق اور پنجاب کو دھمکیوں اور پیڈ احتجاج کے ذریعے بلیک میل کرنا پیپلزپارٹی کا طرہ امتیاز بن چکا ہے۔”انہوں نے کہا کہ “آپ ہیں کون جو پنجاب کو حکم دیں گے؟ اپنے مشورے اور ڈیڈ لائنز اپنی جیب میں رکھیں۔ پنجاب میں جب بھی بلدیاتی انتخابات ہوں گے، وہ شفاف اور عوامی ہوں گے، کراچی جیسے بوگس نہیں۔”عظمٰی بخاری نے کہا کہ “میرا پانی میری مرضی” کا نعرہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے “مرسو مرسو، پانی نہ دیسو”۔ آپ دن رات پانی پر مرسو مرسو کریں اور ہم سے کہیں کہ پنجاب میں پانی آپ کی مرضی سے استعمال ہو — تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر پیپلزپارٹی مریم نواز کی مقبولیت سے خوفزدہ نہ ہوتی تو آج چھٹی کے دن بھی پریس کانفرنس کی ضرورت پیش نہ آتی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ “کیا پیپلزپارٹی پنجاب یا سندھ حکومت نے سیلاب متاثرین کی ایک دھیلے کی بھی مدد کی؟ نہیں، بلکہ انہوں نے طعنے اور تماشے بھیجے۔”عظمٰی بخاری نے کہا کہ “یہ پنجاب ہے، سندھ نہیں جہاں دنوں کا کام سالوں میں ہوتا ہے۔ یہاں سالوں کا کام دنوں میں مکمل کیا جاتا ہے۔”انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں جہاں سروے مکمل ہو چکے ہیں وہاں متاثرین کو چیکس ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ “جنہیں ریلیف مل رہا ہے وہ مریم نواز کو دعائیں دے رہے ہیں، کبھی پنجاب سے نفرت اور تعصب کی عینک اتار کر حقیقت دیکھ لیجیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں