دنیا کے سیاسی افق پر اگر اس وقت کسی خاموش مگر شدت اختیار کرتی ہوئی جنگ کا منظر دیکھا جا سکتا ہے تو وہ جنگ نہ ہتھیاروں سے لیس طیاروں کی ہے، نہ بارود اگلتی توپوں کی، بلکہ زمین کے سینے میں چھپی اُن معدنیات کی ہے جو آنے والے زمانے کی معیشت، ٹیکنالوجی اور توانائی کا دارومدار بن چکی ہیں۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں فائرنگ نہیں، سرمایہ کاری ہے؛ جس میں خون نہیں، مگر دوڑ دھوپ، معاہدے اور عالمی طاقتوں کے خفیہ منصوبے ہیں۔ اس میدان میں دو بڑے کھلاڑی امریکہ اور چین آمنے سامنے ہیں۔
دنیا کے صنعتی مستقبل کا دارومدار ان نایاب معدنیات پر ہے جنہیں“ریئر ارتھ منرلز”کہا جاتا ہے۔ یہ معدنیات کسی بھی عام دھات کی طرح نہیں ہوتیں بلکہ یہ وہ خاص عناصر ہیں جن کے بغیر آج کا جدید دور نامکمل ہے۔ آپ کے موبائل فون سے لے کر الیکٹرک گاڑیوں، سولر پینلز، میزائل سسٹمز اور مصنوعی ذہانت کے آلات تک، سب کا انحصار انہی معدنیات پر ہے۔ دنیا بھر میں ان معدنیات کی کھدائی، پروسیسنگ اور سپلائی کا تقریباً ستر فیصد حصہ چین کے پاس ہے۔ چین نے یہ برتری ایک دن میں حاصل نہیں کی، بلکہ دہائیوں کی خاموش سرمایہ کاری، منصوبہ بندی اور تکنیکی خودکفالت کے ذریعے حاصل کی۔
ادھر امریکہ، خاص طور پر ٹرمپ کے دور میں، یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ اگر چین کو نہ روکا گیا تو مستقبل کی طاقت مکمل طور پر اس کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔ اس معاملے میں ٹرمپ کی سوچ جارحانہ ہے، انہیں ادراک ہے کہ جس کے پاس وسائل ہیں، طاقت بھی اسی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں معدنیاتی صنعت کو قومی سلامتی سے جوڑ دیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ صرف معیشت کا نہیں بلکہ دفاع کا معاملہ بھی ہے، کیونکہ جدید جنگی نظام اور میزائل ٹیکنالوجی بھی انہی معدنیات پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ واقعی اس دوڑ میں چین کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب مغربی دنیا نے ماحولیات کے دباؤ میں آ کر کان کنی کی صنعت کو سمیٹا، تب چین نے چپ چاپ ان کانوں کو کھول دیا۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں جب امریکہ اور یورپ نے یہ سمجھا کہ معدنیات اب ماضی کی چیز ہیں، چین نے انہیں مستقبل کا سرمایہ بنا لیا۔ اس نے نہ صرف معدنیات نکالنے کی صلاحیت حاصل کی بلکہ انہیں ریفائن اور مارکیٹ میں لانے کا ایک ایسا مربوط نظام کھڑا کر دیا جو آج دنیا بھر کے لیے ناگزیر ہے۔
ٹرمپ کا خواب ہے کہ امریکہ ایک بار پھر دنیا کا معدنیاتی مرکز بنے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح بیسویں صدی میں تیل نے عالمی طاقتوں کو جنم دیا، اسی طرح اکیسویں صدی میں معدنیات دنیا کے نقشے بدلیں گی۔ لیکن خواب دیکھنا آسان اور تعبیر حاصل کرنا مشکل ہے۔ امریکہ کے پاس اگرچہ وسائل ہیں، مگر اس کی زمین میں ان نایاب معدنیات کی مقدار محدود ہے۔ دوسری بڑی رکاوٹ امریکی ماحولیاتی قوانین ہیں جو کان کنی کو مشکل اور مہنگا بنا دیتے ہیں۔ تیسری رکاوٹ سرمایہ کاری ہے، چین نے تیس برس لگا کر جو نظام بنایا، امریکہ اسے چند برسوں میں نہیں دہرا سکتا۔
پھر بھی امریکہ نے دنیا کی معدنیات کو ہاتھ میں کرنے کے لئے اپنی چالیں تیز کر دی ہیں۔ اس نے آسٹریلیا، کینیڈا، اور افریقہ کے کچھ ممالک کے ساتھ معدنیاتی تعاون کے معاہدے کیے ہیں۔ افریقہ کے ملک کانگو میں، جہاں کوبالٹ کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر ہیں، وہاں امریکی کمپنیاں چینی اثر و رسوخ کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ چین پہلے ہی ”بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے کے ذریعے ان علاقوں میں سڑکوں، بندرگاہوں اور کان کنی کے انفراسٹرکچر میں اربوں ڈالر لگا چکا ہے۔ امریکہ اب معدنیاتی سفارت کاری کے ذریعے اسی میدان میں قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ ایک دلچسپ منظر ہے، ایک طرف چین ہے جو معدنیات کے میدان میں استاد کی حیثیت رکھتا ہے، دوسری طرف امریکہ جو شاگرد بن کر اب یہ فن سیکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کی برتری صرف زمین کے ذخائر تک محدود نہیں بلکہ اس کے پاس وہ صنعتی مہارت بھی ہے جو معدنیات کو خام حالت سے قابلِ استعمال مصنوعات میں بدلتی ہے۔ امریکہ خام مال خواہ کہیں سے حاصل کر لے، مگراسے پراسیس کر کے عالمی منڈی میں لانے کی صلاحیت اب بھی چین کے پاس ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو چین کوعالمی معدنیاتی بادشاہ بنا چکی ہے۔ دنیا کی معیشت تیزی سے ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں توانائی، دفاع اور ٹیکنالوجی کا ہر شعبہ انہی معدنیات سے جڑا ہوا ہے۔ لتھیئم، نِکل، نیوڈیمیم، اور کوبالٹ، یہ نام اب صرف کیمیا کی کتابوں تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی سیاست کی زبان بن چکے ہیں۔ جس ملک کے پاس یہ عناصر زیادہ ہیں، وہی ملک مستقبل کی معیشت کا بادشاہ ہے۔ یہی وجہ ہے
206