پاکستان اس وقت جن سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اُن میں فضائی آلودگی ایک ایسا بحران بن چکا ہے جو خاموشی سے انسانی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ چند دہائیاں قبل تک فضائی آلودگی صرف بڑے صنعتی شہروں کا مسئلہ سمجھی جاتی تھی، مگر آج یہ آفت دیہات، قصبوں اور چھوٹے شہروں تک پھیل چکی ہے۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان جیسے شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں، جہاں سانس لینا بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک اسموگ صرف سردیوں کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ سال بھر کا ایک مستقل عذاب بن چکا ہے۔ صبح سویرے جب ہم کھڑکی سے باہر دیکھتے ہیں، تو افق پر پھیلی ہوئی نیلی چادر کے بجائے ایک بھورا اور مٹیالا غبار نظر آتا ہے۔ یہ محض دھند نہیں ہے، بلکہ زہریلے کیمیکلز، دھویں اور گرد و غبار کا وہ آمیزہ ہے جو ہماری سانسوں کے ذریعے براہِ راست ہمارے پھیپھڑوں اور خون میں شامل ہو رہا ہے۔
فضائی آلودگی کی بنیادی وجوہات میں گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، فیکٹریوں کا زہریلا اخراج، فصلوں کی باقیات جلانا، ناقص ایندھن کا استعمال اور بے ہنگم شہری ترقی شامل ہیں۔ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ نے ماحول کو شدید متاثر کیا ہے۔ خصوصاً سردیوں کے موسم میں دھند اور اسموگ کی شکل میں یہ آلودگی خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جس سے شہریوں کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث دمہ، پھیپھڑوں کے امراض، دل کی بیماریاں، آنکھوں کی جلن اور جلدی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بچے، بزرگ اور حاملہ خواتین اس کے سب سے زیادہ متاثرین ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹس کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس مسئلے کو اب بھی وہ سنجیدگی نہیں دی جا رہی جس کا یہ متقاضی ہے۔
لاہور میں اسموگ کا مسئلہ اب ایک موسمی آفت بن چکا ہے۔ ہر سال نومبر اور دسمبر میں فضا زہریلی دھند سے بھر جاتی ہے، تعلیمی ادارے بند کرنا پڑتے ہیں، پروازیں متاثر ہوتی ہیں اور شہری ماسک پہننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف عوامی صحت بلکہ معیشت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ مزدور، طلبہ اور روزمرہ زندگی سے وابستہ افراد شدید مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔
فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے حکومت، صنعتکاروں اور عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ صنعتی اخراج پر سخت قوانین نافذ کرے، ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دے اور شجرکاری مہمات کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گاڑیوں کے دھویں کی جانچ اور صاف ایندھن کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح کسانوں کو فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل طریقے فراہم کیے جائیں تاکہ ماحول کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
عوام کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر ہر شہری اپنے حصے کا ایک پودا لگائے، غیر ضروری گاڑیوں کے استعمال میں کمی کرے اور صفائی کا خیال رکھے تو ماحول میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں اور میڈیا کو بھی ماحولیات کے حوالے سے آگاہی مہمات چلانے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل اس خطرے کو سمجھ سکے۔
فضائی آلودگی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور انسانی بقا کا معاملہ بن چکا ہے۔ اگر آج ہم نے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلوں کو ایک ایسا پاکستان ملے گا جہاں صاف ہوا محض ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ترقی کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں، کیونکہ صاف فضا ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے-
آخرمیں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ
فضائی آلودگی اب محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے۔ صاف ہوا میں سانس لینا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اگر آج ہم نے مل کر اس زہریلے طوفان کا راستہ نہ روکا، تو شاید کل ہمارے پاس پچھتاوے کے لیے وقت بھی نہ بچے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مصلحتوں کو چھوڑ کر اپنی زمین اور اپنی سانسوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کریں
116