راولپنڈی میں معرکہِ حق کی پہلی سالگرہ کی صبح ایک بوجھل فضا کے ساتھ ہوئی، لیکن اس لمحے کی سنگینی کا موسم سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کے وسیع و عریض میدان میں ایک غیر معمولی اہمیت کی تقریب منعقد ہو رہی تھی۔ ہر نشست بھری ہوئی تھی۔ اعلیٰ فوجی افسران اپنی نفیس وردیوں میں قطار در قطار کھڑے تھے۔ شہداء کے اہل خانہ اعزازی نشستوں پر براجمان تھے، جن کے چہروں پر دکھ اور فخر کے ملے جلے تاثرات نمایاں تھے۔ سفارت کار، ریٹائرڈ سروسز چیفس اور میڈیا کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا، جو اس تقریب کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت کا مظہر تھا۔ موقع تھا ‘معرکہِ حق’ یعنی سچائی کی جنگ کی پہلی سالگرہ کے جشن کا اور اس پوری تقریب کے مرکز میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تھے، جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف ہیں۔ اس دن ان کا خطاب محض ایک تقریر نہیں تھی، بلکہ یہ ایک اعلان، تاریخ کا سبق، اسٹریٹجک وارننگ اور شہداء کے لیے ایک دعا تھی۔
رسمی کارروائی کا آغاز اس روایت سے ہوا جو اب پاکستان کی فوجی روایت میں ایک مقدس حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جن کے ہمراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف تھے، جی ایچ کیو کے عین قلب میں واقع یادگارِ شہداء کی طرف وقار کے ساتھ بڑھے۔ یہ یادگار ان فوجیوں، فضائیہ کے جوانوں اور سیلرز کی خاموش محافظ ہے جنہوں نے ملک کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ فیلڈ مارشل نے نپے تلے قدموں کے ساتھ قریب جا کر یادگار کی بنیاد پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ پھر وہ پیچھے ہٹے، توجہ کی حالت میں کھڑے ہوئے اور چند سیکنڈ کے لیے خاموش رہے۔ ان کا سر جھکا ہوا تھا اور چاروں طرف خاموشی کا راج تھا۔ اس خاموشی میں صرف پریڈ گراؤنڈ میں چلتی ہوا کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اس ذاتی خراجِ عقیدت کے بعد انہوں نے دھیمی اور واضح آواز میں سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کی اور اردگرد موجود لوگوں نے نرمی سے “آمین” کہا۔ شہداء کے اہل خانہ، جن میں سے بہت سے لوگوں نے ٹھیک ایک سال قبل اس جنگ میں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو کھویا تھا، اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھ رہے تھے۔ یہ خالص جذباتی لمحہ تھا، اس حقیقت کا اعتراف کہ فتح ایک بہت بڑی قیمت پر حاصل ہوئی ہے۔
اس کے بعد خطاب کا مرحلہ آیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر ڈائس پر آئے، مائیکروفون درست کیا اور سامنے موجود مجمع پر نظر ڈالی۔ انہوں نے ایک سادہ مگر طاقتور جملے سے آغاز کیا کہ یہ دن صرف کیلنڈر پر ایک تاریخ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے ہر شہری، مسلح افواج اور پوری اسلامی جمہوریہ کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ٹھیک ایک سال پہلے قوم کو ایک وجودی خطرے کا سامنا تھا۔ 6 مئی کی نصف شب سے 7 مئی کی صبح تک، اور پھر 10 مئی تک جاری رہنے والے واقعے میں ایک پڑوسی ملک نے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی تھی۔ انہوں نے فوری طور پر بھارت کا نام نہیں لیا لیکن کمرے میں موجود ہر شخص اس اشارے کو سمجھ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے ایک سنگین غلط فہمی کا شکار ہو کر یہ سوچا تھا کہ پاکستان منقسم ہے اور یہ ملک دباؤ میں آکر ٹوٹ جائے گا، لیکن فیلڈ مارشل نے بلند آواز میں کہا کہ اس جارحیت کا جواب مکمل قومی اتحاد اور پوری فوجی طاقت سے دیا گیا۔ نہ کوئی صوبہ الگ رہا اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت نے فوج کی حمایت سے انکار کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ دہائیوں میں پہلی بار پاکستان مکمل طور پر متحد نظر آیا۔
ان کی تقریر کا سب سے فلسفیانہ حصہ اگلا تھا، جہاں فیلڈ مارشل نے سامعین کو جنگ کی روایتی سمجھ سے بالاتر ہو کر سوچنے پر اکسایا۔ انہوں نے کہا کہ معرکہِ حق محض دو ممالک یا دو افواج کے درمیان جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ ایک طرف سچائی، انصاف، عالمی قوانین کے احترام اور اقوام کی خودمختاری کا نظریہ تھا، جبکہ دوسری طرف جارحانہ توسیع پسندی، فریب اور جھوٹ کھڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے دہائیوں تک معاشی دباؤ، سفارتی تنہائی اور خفیہ آپریشنز کے ذریعے پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی، لیکن مئی 2025 کے میدانِ جنگ میں یہ تمام حربے ناکام ہو گئے۔ انہوں نے اللہ کے فضل سے سچ کی فتح اور جھوٹ کی شکست کا اعلان کرتے ہوئے قرآن کی آیت کا حوالہ دیا کہ جھوٹ اپنی فطرت میں مٹنے والا ہے جبکہ سچ قائم رہتا ہے۔ اس آیت کے بعد انہوں نے کچھ دیر توقف کیا تاکہ الفاظ سامعین کے ذہنوں میں راسخ ہو جائیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پھر تفصیلی تاریخی تجزیہ پیش کیا۔ وہ سامعین کو 2000 کی دہائی کے آغاز میں لے گئے اور یاد دلایا کہ بھارت کی ایک طویل تاریخ ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف جارحیت کے جواز کے لیے ‘فالس فلیگ’ آپریشنز (جھوٹی کارروائیوں) کا سہارا لیتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر 2001 کے بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا ذکر کیا جس کا بغیر کسی ثبوت کے الزام پاکستان پر لگایا گیا تھا۔ انہوں نے 2008 کے ممبئی حملوں، 2016 کی مبینہ سرجیکل اسٹرائیکس اور 2019 کے پلوامہ واقعے کا حوالہ دیا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان خطرناک فضائی تصادم ہوا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ ان تمام واقعات کا ایک ہی نمونہ تھا کہ بھارت کے اندر کوئی واقعہ ہوتا اور وہ اس کا الزام پاکستان پر لگا کر فوجی یا سفارتی دباؤ بڑھاتا۔ انہوں نے اسے ‘استحصال کا حربہ’ قرار دیا اور کہا کہ مئی 2025 میں بھارت نے پہلگام واقعے کے ذریعے دوبارہ یہی کوشش کی تاکہ اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹا کر پاکستان پر جنگ مسلط کر سکے۔ لیکن اس بار پاکستان کا جواب مختلف تھا؛ پاکستان نے حملے کا انتظار کرنے کے بجائے ‘آپریشن بنیان مرصوص’ کے نام سے ایک پیشگی اور فیصلہ کن فوجی مہم کا آغاز کیا۔
فیلڈ مارشل نے پھر جنگ کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ آپریشن بنیان مرصوص صرف فوج نے نہیں بلکہ زمینی، بحری اور فضائی افواج کے مکمل اشتراک سے لڑا گیا۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے پائلٹوں کو ‘شاہین’ قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی جنہوں نے جدید فضائی جنگ کی منفرد مثال قائم کی۔ انہوں نے بتایا کہ دشمن کی سرزمین میں 26 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس میں لڑاکا طیاروں اور نو متعارف شدہ ‘فتح میزائل سسٹم’ کا استعمال ہوا۔ انہوں نے فتح سسٹم کو ایک ایسا درست ہتھیار قرار دیا جس نے جنگ کی حرکیات بدل دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن نے فضائی دفاعی نظام پر اربوں ڈالر خرچ کیے لیکن وہ پاکستان کے میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور بالآخر اسے عالمی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کی بھیک مانگنی پڑی۔ ان کے لہجے میں موجود اعتماد اطمینان بخش بھی تھا اور مرعوب کن بھی۔
تاہم فیلڈ مارشل نے فتح کے جشن کو اس کی قیمت پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے شہداء کے بارے میں تفصیل سے بات کی اور کہا کہ قوم ان معصوم خواتین، بزرگوں اور بچوں کو کبھی نہیں بھول سکتی جو پاکستانی سرزمین پر بھارتی حملوں میں شہید ہوئے۔ انہوں نے ان شہریوں کو قوم کا تاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خون نے پاکستان کی آزادی کے درخت کو سیراب کیا ہے۔ انہوں نے فوجی شہداء کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہید ملک کی سلامتی کا ضامن ہے اور زندوں پر ان کا ایسا قرض ہے جو کبھی نہیں اتارا جا سکتا۔ ایک نوجوان کیپٹن کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آواز رندھ گئی جو جنگ بندی سے چند منٹ پہلے شہید ہوا تھا۔ اس کیپٹن کی والدہ سامنے کی قطار میں تھیں، فیلڈ مارشل نے انہیں دیکھ کر سلام کیا، جس کا جواب انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے دیا۔ ہال میں موجود ہر آنکھ اشکبار تھی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی سیاسی قیادت بشمول صدر، وزیراعظم اور تمام بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران کوئی سیاسی کھینچا تانی نہیں ہوئی بلکہ ہر پلیٹ فارم سے ایک ہی پیغام گیا کہ خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی غیرت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اسے ‘سیاسی بصیرت’ قرار دیا جو فتح کا سبب بنی۔ انہوں نے سفارت کاروں کی کارکردگی کو بھی سراہا جن کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پاکستان پر پابندیاں نہ لگا سکی اور چین، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران جیسے ممالک پاکستان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے۔ انہوں نے امریکہ کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے جنگ بندی کے چند ہفتے بعد ہی امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں بگاڑ پیدا کرنے والا نہیں بلکہ استحکام لانے والا ملک ہے۔
تقریر کے اگلے حصے میں انہوں نے ‘انفارمیشن وارفیئر’ (اطلاعاتی جنگ) پر توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے دوران بھارت نے پاکستان کے خلاف ڈس انفارمیشن کی وسیع مہم چلائی، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کی بھرمار کی اور ایٹمی حملوں کے حوالے سے جھوٹے پیغامات پھیلا کر افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، پاکستانی عوام خصوصاً نوجوانوں نے اس کا بھرپور مقابلہ کیا۔ انہوں نے ان صحافیوں، طلباء اور پاک فضائیہ و آئی ایس پی آر کی سائبر ٹیموں کی تعریف کی جنہوں نے دشمن کی ہر چال کو ناکام بنایا۔ انہوں نے اسے صرف ایک فوجی فتح نہیں بلکہ ‘عوامی فتح’ قرار دیا۔
مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سخت انتباہ جاری کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی نئی مہم جوئی کا انجام پچھلی جنگ جیسا نہیں ہوگا، کیونکہ مستقبل کی جنگیں محض ٹینکوں اور جہازوں تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ ان میں ڈرونز، سائبر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا کلیدی کردار ہوگا۔ انہوں نے نئے ‘ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز’ کے قیام کا اعلان کیا جو سائبر، خلا اور الیکٹرانک جنگ کی صلاحیتوں کو مربوط کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کے نتائج محدود نہیں ہوں گے بلکہ وہ انتہائی وسیع، خطرناک اور تکلیف دہ ہوں گے۔ اگرچہ انہوں نے ایٹمی حملے کی دھمکی نہیں دی، لیکن ان کا اشارہ واضح تھا کہ پاکستان ‘فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس’ رکھتا ہے اور اپنے دفاع کے لیے ہر ہتھیار استعمال کرنے کو تیار ہے۔
تاہم سب سے سخت وارننگ مغربی سرحد کے لیے مختص تھی۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ روایتی میدان میں ناکامی کے بعد بھارت اب دوبارہ دہشت گردی کے گھناؤنے حربے پر اتر آیا ہے اور بھارتی ایجنسیاں افغان سرزمین سے ‘فتنۃ الخوارج’ کی مالی و عسکری معاونت کر رہی ہیں۔ انہوں نے افغان حکومت سے براہ راست مطالبہ کیا کہ وہ خوارج کی حمایت بند کرے اور ان کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر افغان حکومت ایسا نہیں کرتی تو پاکستان یکطرفہ کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی اور ہر معصوم پاکستانی کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ یہ حصہ انہوں نے نہایت دوٹوک اور سخت لہجے میں بیان کیا۔
اختتام سے قبل فیلڈ مارشل نے کشمیر کے دیرینہ مسئلے پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کہانی کشمیر کے بغیر ادھوری ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد صرف بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔ انہوں نے کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا اور ان کی جدوجہدِ آزادی کو سلام پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ حقِ خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے کسی فوجی مہم کا اعلان تو نہیں کیا لیکن یہ صاف واضح کر دیا کہ پاکستان کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔
تقریر کا اختتام ایمان اور استقامت کے پیغام پر ہوا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ پاکستان کل بھی ناقابلِ تسخیر تھا، آج بھی ہے اور اللہ کے فضل سے ہمیشہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی دشمن اس قوم کو نہیں ہرا سکتا جو خدا اور اپنی ذات پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے بعد وہ ڈائس سے پیچھے ہٹے، سلام کیا اور اپنی نشست کی طرف روانہ ہوئے۔ ہال تالیوں کی گونج سے لرز اٹھا، جس میں آنسو، یادیں اور امید سب شامل تھے۔ شہداء کے لواحقین نے سب سے زیادہ دیر تک تالیاں بجائیں—اپنے پیاروں کے لیے، اس فتح کے لیے جو خون سے خریدی گئی تھی، اور اس فیلڈ مارشل کے لیے جس نے اس فتح کی قیمت کو فراموش نہیں کیا تھا۔ تقریب کا اختتام ملک کے لیے دعا پر ہوا۔ جیسے ہی سورج غروب ہوا، مجمع تو چھٹ گیا لیکن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے الفاظ فضا میں گونجتے رہے۔ یہ تقریر تاریخِ پاکستان میں ایک سنگِ میل کے طور پر یاد رکھی جائے گی، جب قوم نے حق کی جنگ کا جشن منایا اور ایک ایسے مستقبل کی طرف قدم بڑھایا جہاں امن صرف طاقت کے بل بوتے پر قائم ہو