وائس چیئرپرسن پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی جہا٘ں آراء منظور وٹو نے سپیریئر یونیورسٹی میں منعقدہ پری بجٹ 2026-27: چیلنجز، تعلیمی آراء اور پالیسی کے حل کے راؤنڈ ٹیبل میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔


جہاں اُن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات و کمیونٹی ڈویلپمنٹ ذیشان رفیق سمیت ماہرین، پالیسی سازوں اور صنعت کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔

اپنے خطاب میں وائس چیئرپرسن نے کہا کہ، اور بجٹ 2026-27 میں انسانی سرمایہ، تعلیم، صحت اور کمزور طبقات کی معاشی خودمختاری کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

وائس چیئرپرسن نے پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے اہم پروگراموں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا

کہ زیورِ تعلیم پروگرام کے تحت 18 اضلاع میں طالبات کو 80 فیصد حاضری پر سہ ماہی 3,000 روپے وظیفہ دیا جا رہا ہے، جبکہ صلۂ فن کے تحت فنکاروں، ادیبوں اور میڈیا ورکرز کو ماہانہ 5,000 روپے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ نئی زندگی پروگرام میں 7 برن سینٹرز میں تیزاب گردی سے متاثرہ خواتین کو مفت علاج، نفسیاتی معاونت اور بلاسود قرضے دیے جا رہے ہیں۔ مساوات پروگرام میں خواجہ سراؤں کو 2,000–3,000 روپے ماہانہ اور 1 لاکھ روپے تک قرضے، جبکہ ہم قدم پروگرام میں خصوصی افراد کو 2,000 روپے ماہانہ اور 25 ہزار تا 10 لاکھ روپے بلاسود قرضے دیے جا رہے ہیں۔

وائس چیئرپرسن نے مزید بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے پی ایچ سی آئی پی کے تحت آغوش پروگرام کے ذریعے صوبے کے 13 اضلاع میں حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کی ماؤں کو صحت اور غذائیت کی بہتری کے لیے 38,000 روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح،خودمختار پروگرام میں 1.5 لاکھ روپے تک کے پیداواری اثاثہ جات فراہم کر کے انہیں معاشی خودانحصاری کی طرف لانا ہے اور بنیاد پروگرام کے ذریعے 3 سے 5 سال کے بچوں کے لیے ابتدائی تعلیم اور لرننگ کٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔ وائس چیئرپرسن نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری (پی ایس ای آر) کے ذریعے صوبہ بھر میں مستحق خاندانوں کا جامع ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے تاکہ شفاف اور مؤثر انداز میں فلاحی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ وائس چیئرپرسن نے ادارہ جاتی تعاون کو پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے سپیریئر یونیورسٹی کی کاوش کو بھی سراہا۔