انا للہ وانا الیہ راجعون
کل جب یہ خبر موصول ہوئی کہ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور ایڈورٹائزنگ کی دنیا کا ایک روش چراغ محبوب و شفیق امیر العظیم صاحب اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں، تو یوں لگا جیسے فکر و عمل اور تحریک کا ایک درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا۔ دل و دماغ اس دلخراش خبر کو قبول کرنے سے قاصر ہیں، مگر حکمِ الٰہی کے آگے سرِ تسلیمِ خم کرنا ہی بندہِ مومن کا شیوہ ہے۔ ان کی رحلت صرف ایک فرد کا جانا نہیں، بلکہ جماعت اسلامی اور میڈیا انڈسٹری کےلیے ایک ایسا ناقابلِ تلافی نقصان اور عظیم خلا ہے جو شاید کبھی نہ بھر سکے۔
امیر العظیم صاحب میڈیا اندسٹری کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کا ایک مضبوط ستون اور تحریکی توانائی کا سرچشمہ تھے۔ وہ چند ان بابرکت اور اچھے انسانوں میں شامل تھے جن کی پوری زندگی نصب العین کی سچائی، اخلاص اور جدوجہد سے عبارت تھی۔ ان کی اچانک جدائی پر جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنان شدید غمزدہ ہیں۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن صاحب اور دیگر مرکزی رہنماؤں نے شدید رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے اسے جماعت اسلامی کے لیے ایک عظیم صدمہ اور ناپید ہونے والا خلا قرار دیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن صاحب کے بقول، امیر العظیم صاحب کی خدمات، ان کی تنظیمی صلاحیتیں اور تحریکی وابستگی ہمیشہ کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ پوری قیادت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امیر صاحب کی صورت میں جماعت اپنے ایک وژنری اور بے لوث خادم سے محروم ہو گئی ہے۔
امیر عظیم صاحب کی رحلت بلا شبہ پاکستان، بالخصوص لاہور کی ایڈورٹائزنگ انڈسٹری اور ہم جیسے ان کے چاہنے والوں کے لیے ایک عظیم اور نہ پورا ہونے والا صدمہ ہے۔ وہ سچ مچ ایک فرشتہ صفت، شفیق اور تاریخ ساز انسان تھے۔
امیر عظیم صاحب کا شمار پاکستان، بالخصوص لاہور میں جدید ایڈورٹائزنگ کے بنیادی معماروں اور گرووز (Gurus) میں ہوتا تھا۔ جب ایڈورٹائزنگ کی صنعت اپنے ابتدائی مراحل میں تھی، تب انہوں نے اپنی بے پناہ بصیرت، نت نئے خیالات اور سخت محنت سے اس شعبے کو ایک نئی جلا بخشی۔ لاہور جو ہمیشہ سے علم و ادب اور فن کا مرکز رہا ہے، وہاں ایڈورٹائزنگ کو ایک پیشہ ورانہ صنعت کا درجہ دلوانے میں ان کا کردار تاریخ کے سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔آج پاکستان میں ایڈورٹائزنگ کا جو وسیع درخت ہمیں نظر آتا ہے، اس کی آبیاری میں امیر عظیم صاحب جیسے تاریخ سازوں کا خون جگر شامل ہے۔
اگرچہ ایڈورٹائزنگ اور میڈیا کی دنیا میں کامیابی اور شہرت حاصل کرنے والے اکثر افراد میں ایک خاص قسم کا غرور یا فاصلہ آ جاتا ہے، مگر امیر عظیم صاحب اس سے بالکل پاک تھے۔اتنے بڑے قد کاٹھ کا مالک ہونے کے باوجود وہ ایک سچے اور فرشتہ صفت انسان تھے۔ عاجزی، نرم گفتاری، دوسروں کی مدد کا جذبہ اور اپنے سے جڑے ہر شخص کو عزت دینا ان کی شخصیت کا طرۂ امتیاز تھا۔ ان سے جو ایک بار مل لیتا، وہ ان کے حسنِ اخلاق کا اسیر ہو جاتا۔ وہ نئے آنے والوں کی جس محبت اور حوصلہ افزائی سے سرپرستی کرتے تھے، اس کی مثالیں آج کی تجارتی دنیا میں بہت کم ہی ملتی ہیں۔
میرے لیے امیر عظیم صاحب کی ذات صرف ایک معروف شخصیت نہیں تھی، بلکہ ان سے میرا ایک انتہائی گہرا اور قلبی تعلق تھا۔ وہ مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور میں ان کی شخصیت اور کام کا شیدائی تھا۔
مجھے یاد ہے کہ جب میں نے اپنےمیگزین ماہنامہ ٹیوٹر کے لیے ان کا ایک تفصیل انٹرویو کیا تھا، تو اس دوران ان کی گفتگو، ان کا وژن اور ایڈورٹائزنگ کے حوالے سے ان کی باریک بینی دیکھ کر میں دنگ رہ گیا تھا۔ اس انٹرویو کے بعد ہمارے درمیان محبت اور احترام کا ایک ایسا رشتہ قائم ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوتا چلا گیا۔
میری گاہے بگاہے ان سے فون پر بات ہوتی رہتی تھی، اور جب بھی بات ہوتی، وہ اتنی شفقت سے حال احوال پوچھتے کہ دل خوشی سے بھر جاتا۔ ان کی گفتگو میں ہمیشہ سیکھنے کو کچھ نہ کچھ ملتا تھا۔ وہ نہ صرف ایک بہترین مینٹور تھے بلکہ ایک سچے
ہمدرد بھی تھے۔
آج جب وہ ہم میں نہیں رہے، تو دل شدید غم اور اداسی کی کیفیت میں ہے۔ ان کی وفات جماعت اسلامی کے لیے، پاکستان کے میڈیا و ایڈورٹائزنگ کے شعبے کے لیے اور بالخصوص میری ذات کے لیے بھی ایک ایسا خلا ہے جو شاید کبھی نہ بھر سکے۔۔ وہ اپنے پیچھے جدوجہد، پاکیزہ اخلاق اور لازوال خدمات کی ایک ایسی تاریخ چھوڑ گئے ہیں جو ان کے نام کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔
میں رب العزت کے حضور دست بخصوص دعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ امیر عظیم صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کی سیئات سے درگزر کرے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے درجات کو بلند سے بلند تر کر کے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ پسماندگان اور ہم تمام چاہنے والوں کو یہ صدمہ صبر و حوصلے سے برداشت کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)
آخر میں اپنے رب سے ایک سوال تو ضرور کروں گا کی اللۃ اپنے اچھے بندوں کو اتنی جلدی کیوں اپنے پاس بلا لیتا ہے ؟
“ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا