کسی بھی زندہ قوم کی پہچان اس کا احساس اور ردِعمل ہوتا ہے، لیکن معلوم نہیں بطورِ معاشرہ ہم کس موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں ہمارے گرد معاشی گھیرا تنگ سے تنگ تر کیا جا رہا ہے اور ہم خاموشی سے ہر ہتھوڑے کی ضرب سہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ محض 6 دن کے مختصر ترین عرصے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں47 روپے فی لیٹر کا ہوش ربا اور ریکارڈ اضافہ کر دیا گیا۔ یہ کوئی معمولی عدد نہیں، بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے معاشی قتل کا ایک نیا پروانہ ہے—مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ عوام اب بھی بے خبر، خاموش اور بے حسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اسے ہم عوام کی،خاموشی معاشی قتل یا اسکا مقدر کہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا-
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا یہ اچانک اور ظالمانہ اضافہ صرف ایک ایندھن کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ براہِ راست ہر شہری کے چولہے سے جڑا معاملہ ہے۔ جب پٹرول 47 روپے مہنگا ہوتا ہے تو اس کا پہلا اور فوری اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر پڑتا ہے۔ اس کے بعد ایک زنجیری ردِعمل (Chain Reaction) شروع ہوتا ہے: سبزیاں، پھل، دالیں، دودھ، ادویات اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز کی نقل و حمل (Freight) کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً، دکاندار اور تاجر اپنی جیب سے نقصان اٹھانے کے بجائے اس تمام بوجھ کا رخ خریدار یعنی عام شہری کی طرف موڑ دیتے ہیں۔
حکومتی ایوانوں میں بیٹھے پالیسی ساز اکثر بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر میں کمی یا آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا عذر پیش کر کے اپنا دامن جھاڑ لیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تمام معاشی تجربات اور کٹھن شرائط کا نزلہ ہمیشہ اسی لاچار عوام پر ہی گرنا طے ہے؟ عالمی منڈی کا دباؤ اپنی جگہ، مگر کیا حکومت کے پاس عوامی ریلیف اور انتظامی بہتری کا کوئی متبادل منصوبہ نہیں ہوتا؟
اس پوری صورتحال کا سب سے دردناک پہلو یہ نہیں کہ قیمتیں کیوں بڑھیں، بلکہ یہ ہے کہ عوام اس نوعیت کے بڑے معاشی جھٹکوں پر بھی بالکل بے خبر اور ساکت نظر آتے ہیں۔ شاید مسلسل مہنگائی اور معاشی دباؤ نے لوگوں سے احتجاج اور سوال پوچھنے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ عوام نے اب اسے اپنی تقدیر کا حصہ سمجھ کر خاموشی سے قبول کرنا شروع کر دیا ہے، جو کسی بھی متحرک اور زندہ معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
حکومت کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی ہوگی کہ عوامی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ محض پٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کے ذریعے خزانہ بھرنے کی پالیسی ملک کی معیشت کو تو شاید وقتی سہارا دے دے، لیکن عوام کی کمر توڑ دے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے
اب پیرا سوال کرنا تو ابنتا ہے کہ حکومت ایسا اقدامات کیوں نہیں کرتی کہ عوام پر یہ آضافی بوجھ کم ہو اور حکومت ایندھن کی قیمتوں میں اس ظالمانہ اضافے پر نظرِ ثانی کرے۔ بصورتِ دیگر، خاموش اور بے خبر عوام کا یہ معاشی استحصال ملک کو ایک ایسے دلدل میں دھکیل دے گا جہاں سے واپسی بے حد دشوار ہو جائے گی
40