وجدان انسٹیٹیوٹ آف صوفی ازم لاہور کے زیرِ اہتمام وجدان کرسمس مشاعرہ وجدان ہاؤس لاہور میں منعقد کیا گیا۔جس میں معروف مسیحی اور مسلمان شاعروں نے شرکت کی،

کرسمس کی خوشی کے موقعے پر مسیحی دوستوں کو پھولوں کے گلدستے پیش کئے گئے ،

مشاعرے کی نظامت چیئرپرسن وجدان ڈاکٹر صغرا صدف ، جبکہ صدارت صاحب اسلوب اور عہد ساز شاعر نذیر قیصر نے کی۔ مشاعرے میں واجد امیر، میجر شہزاد نیئر،احمد

سبحانی آکاش ، آسناتھ کنول،ڈیوڈ پرسی،گلنار تبسم ،آفتاب جاوید،ڈاکٹر ملٹن ممتاز ، پیٹر سروش، یونس کھوکھر، عتیق انور راجا و دیگر شامل تھے۔

تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر صغرا صدف نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں اور اسلام بھی دوسرے مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے۔ وجدان تصوف اور کلچر کی ترویج کرنے والا ادارہ ہے ، مذہبی ہم آہنگی کے لئے صوفیانہ روایتوں پر عمل کی ضرورت ہے ۔ اسی مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے آج کے مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ہر مسلمان حضرت عیسی سے خصوصی عقیدت رکھتا ہے۔
شعرا نے انسانیت، بھائی چارے اور محبت کے موضوعات پر کلام پیش کیا اور حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔ صدرِ مشاعرہ نذیر قیصر نے اپنے صدارتی خطبے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور آپ کی دنیا میں تشریف آوری کے اثرات پر سیر حاصل گفتگو کی۔انھوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دنیا میں آمد ہر بشر کے لیے خیر اور رحمت کا سبب بنی، کیونکہ آپ کا پیغام محبت، امن اور انسانیت کے احترام پر مبنی تھا۔ انہوں نے وجدان کی چیئرپرسن ڈاکٹر صغرا صدف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وجدان انسٹیٹیوٹ آف صوفی ازم نے صوفی ازم کے ذریعے برداشت، امن اور اخوت کا بہترین عملی ثبوت پیش کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مختلف مذاہب کے احترام کا جذبہ معاشرے میں فروغ پانے لگے تو اس سے حب الوطنی کا جذبہ مزید مضبوط ہو گا۔مشاعرے کے اختتام پر مہمان شعرا کے اعزاز میں پرتکلف ڈنر کا اہتمام بھی کیا گیا۔
79