87

توشہ خانہ کیس، چیئرمین پی ٹی آئی کا 35 سوالات پر مبنی 342 کا بیان عدالت میں ریکارڈ

توشہ خانہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین نے 35 سوالات پر مبنی 342 کا بیان عدالت میں ریکارڈ کرا دیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے 35 سوالات کے جوابات کو دہرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کمرۂ عدالت میں اپنے وکلاء کے ساتھ بیٹھ گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور اپنے چیمبر میں چلے گئے۔

بلاؤ یار جج صاحب کو، چیئرمین پی ٹی کا اپنے وکلاء سے مکالمہ
چیئرمین پی ٹی نے اپنے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بلاؤ یار جج صاحب کو۔

چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی قانونی ٹیم نے 342 کے دیے گئے بیان پر نظرثانی کر لی۔

وقفے کے بعد دوبارہ سماعت
توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو جج ہمایوں دلاور نے سوال کیا کہ کیا آپ نے جو جوابات دیے اس سے مطمئن ہیں؟

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جی میں سوالات کے دیے گئے اپنے جوابات سے مطمئن ہوں۔

جج ہمایوں دلاور نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آپ رات گئے تک جاگتے رہے ہیں؟

تیری زلف کہہ رہی ہے تیری رات کا یہ حال ہے، جج ہمایوں دلاور کے شعر پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے جج ہمایوں دلاور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کا ہی آج کل یہ حال ہے سر۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا پہلے حلف پر بیان سے انکار پھر دستخط
چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کرائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کر دیے اور اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ کمرۂ عدالت سے روانہ ہو گئے۔

اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت کے سامنے حلف پر بیان دینے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی طرف سے شواہد عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں