76

سائفر کیس: چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود کی درخواستِ ضمانت دوسری عدالت میں دائر

رسیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی رخصت کے باعث پی ٹی آئی کے وکلاء نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواستِ ضمانت جج راجہ جواد عباس کی عدالت میں دائر کر دی۔

عدالتی عملے نے بتایا کہ سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین اہلیہ کی طبیعت کی ناسازی کے باعث 8 ستمبر تک 1 ہفتے کی رخصت پر ہیں۔

اس موقع پر سلمان صفدر، بابر اعوان، نعیم پنجوتھا پر مشتمل پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم جج راجہ جواد عباس کی عدالت میں پیش ہوئی۔

وکیل بابر اعوان نے جج راجہ جواد عباس سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ ڈیوٹی جج ہیں، آپ سے 2 درخواستیں کرنا چاہتے ہیں۔

جج راجہ جواد عباس نے جواب دیا کہ میں ڈیوٹی جج نہیں ہوں، آپ پہلے دلائل دے دیں۔

وکیل بابر اعوان نے استدعا کی کہ درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری کا معاملہ ہے، آپ سن لیں۔

جج راجہ جواد عباس نے جواب دیا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے ڈیوٹی جج کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں، سیکرٹ ایکٹ کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ مارک کرے گی اور پھر میں سن سکتا ہوں، 24 عدالتوں کے کیسز بطور ڈیوٹی جج سن سکتا ہوں لیکن آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی حد تک نہیں۔

اس موقع پر جج راجہ جواد عباس نے ڈیوٹی جج کے قوانین پی ٹی آئی کے وکلاء کو پڑھ کر سنائے۔

وکیل بابر اعوان نے کہا کہ آپ تو آج ڈیوٹی جج ہیں ناں؟

جج راجہ جواد عباس نے کہا کہ 24 عدالتوں میں بطور ڈیوٹی جج کا اختیار استعمال کر سکتا ہوں لیکن سیکرٹ ایکٹ عدالت کا نہیں، ہائی کورٹ مارک کر دے گی تو سیکرٹ ایکٹ عدالت کا کیس سن سکتا ہوں۔

وکیل بابر اعوان نے کہا کہ جج باتھ روم میں بھی جج ہوتا ہے اور سبزی خریدتے ہوئے بھی جج ہوتا ہے، ایک درخواست دائر کر دیتے ہیں، پھر ہائی کورٹ بھی چلے جاتے ہیں۔

جج راجہ جواد عباس نے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ درخواست دائر کر دیں، دیکھ لیتے ہیں۔

جس کے بعد پی ٹی آئی کے وکلاء نے کمرۂ عدالت میں اسی وقت درخواست تحریر کر کے جج راجہ جواد عباس کی عدالت میں دائر کر دی۔

اس موقع پر اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے جج کے سامنے اعتراض کیا کہ پی ٹی آئی کے وکلاء کس قانون کے تحت آپ کی عدالت میں درخواست دائر کر رہے ہیں؟

پی ٹی آئی کے وکیل نے جج سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ اگر کہیں گے کہ آپ کا اختیار نہیں، مجبور ہیں تو ہم ہائی کورٹ چلے جائیں گے۔

جج راجہ جواد عباس نے جواب دیا کہ آپ شاید مجھے جانتے نہیں ورنہ لفظ مجبور استعمال نہ کرتے۔

پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بہت عجیب لگ رہا ہے جو بھی ہو رہا ہے، کبھی نہیں سنا کہ انصاف چھٹیوں پر چلا گیا ہے، درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری کا معاملہ ہے، حال ہی میں ڈیوٹی ججز ضمانت کی درخواستیں خارج کر چکے ہیں، مانتا ہوں کہ آپ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، ہم استدعا کر رہے ہیں کہ درخواست سنیں۔

جج راجہ جواد عباس نے کہا کہ سرکار کے مطابق سیکرٹ ایکٹ کی درخواستِ ضمانت نہیں سن سکتے، 12 بجے سن لیتے ہیں، اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی دلائل دیں گے، ساڑھے 12 بجے تک درخواست پر فیصلہ کر دوں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں