پانی کے عالمی ہفتہ کے موقع پر لاہور میں واقع ریسکیو ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ ایک تقریب میں کوکا کولا بیوریجز(CCI) پاکستان لمیٹڈکے ریجنل ڈائریکٹراحمد کرساد ایرٹن(Ahmet Kursad Ertin)اور ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری ڈاکٹر رضوان نصیر نے مقامی آبادی کے لیے پانی کے نئے فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح کیا،تقریب میں کمپنی کے سینئرافسران،ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن (WWF) اور ریسکیو 1122 کے حکام نے بھی شرکت کی۔
سی سی آئی پاکستان نے کمیونٹی سروسز پر مبنی اپنے فلیگ شپ پراجیکٹ ’PAANI‘ کے تحت ملک بھر میں 35 واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے ہیں۔ ہر پلانٹ میں فی گھنٹہ دو ہزار لیٹرسے زائد پینے کا پانی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے جو روزانہ 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو صاف پانی فراہم کرتا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے احمد کرساد ایرٹن (Ahmet Kursad Ertin)نے کہا کہ،”پاکستان میں ہم پانی کے حوالے سے تین محاذوں پر کام کررہے ہیں جس میں بہتر کارکردگی،دوبارہ بھرائی کرنا اور صاف پانی تک رسائی شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں آپریشنل ایکسی لینس پروگرام کے ذریعے ہم پانی کا کم سے کم استعمال کررہے ہیں۔ مزید برآں، راوی بیسن کے لیے پانی کے منصوبوں کے قیام سے ہمارا مقصد پانی کا استعمال اس کی موجودگی کے مطابق بناناہے۔ پینے کے صاف پانی تک رسائی کے حوالے سے، ہم ’PAANI‘ جیسے کمیونٹی پر مبنی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ پانی کے قلت والے علاقوں میں پانی کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
اس موقع پر ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری ڈاکٹر رضوان نصیر نے سی سی آئی پاکستان اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے ضرورت مندافرادکے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کو سراہاتے ہوئے کہا کہ،”ریسکیو 1122 شہریوں کو ہنگامی دیکھ بھال کا بنیادی حق بلا تفریق فراہم کر رہا ہے۔اب تک ایک کروڑ 32لاکھ سے زائد متاثرین کو بچایا جاچکاہے جبکہ آگ لگنے جیسے دو لاکھ سترہ ہزار سے زائد واقعات کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹاگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ،”ہم مقامی افراد کے ساتھ مل کر ہنگامی حالات کی روک تھام کے لیے کام کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مقامی افراد کی بہتری کے لیے اس طرح کی کارپوریٹ شراکت داریاں جاری رکھی جائیں گی۔“ ڈاکٹر رضوان نے ریسکیو مراکز کو ’PAANI‘ جیسے پراجیکٹ لگانے کے لیے محفوظ مقامات کے طورپر پیش کرتے ہوئے کہا کہ،”ریسکیو عملہ کی سرپرستی کی وجہ سے ان مراکز میں لگنے والے فلٹریشن پلانٹس کی دیکھ بھال اور نگرانی میں آسانی ہوگی۔“