366

محرم الحرام کی حرمت و تقدس،دشمن قوتوں کے عزائم اور حکومت کی ذمہ داریاں تحریر۔۔ محمدناظم الدین

تحریر۔۔ محمدناظم الدین
محرم الحرام کے دوران منبر اور محراب سے اتحاد بین المسلمین کے فلسفہ کو فروغ دیا جائے اور تمام مکاتب فکر امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ تمام اضلاع کے انتظامی افسران، علماء کرام سے باہمی رابطے کے ساتھ محرم الحرام کے تمام انتظامات یکم محرم تک مکمل کر لئے جائیں۔ حکومت جا مع حکمت عملی کے تحت صوبہ بھر میں مجالسوں اورمحرم کے جلوسوں کی سکیورٹی کے انتظامات کوحتمی شکل دے دی گئی ہے اور پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹیاں بھی لگادی گئی ہیں۔ تمام مکاتب فکر صلح جو امن پسند ہیں اور تمام مذہبی جماعتوں سے مشاورت کے ساتھ امن وامان کی فضا ء کو یقینی بنارہے ہیں۔ علماء کرام، سول سو سائٹی اور دیگر مکاتب فکر کے افراد اتحاد و اتفاق اور باہمی یگانگت کی فضاء کو قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے ایک اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے منبر اور محراب سے امن و سلامتی کے درس کی ترویج پر زور دیا۔ علماء کرام نے مزید یقین دلایا کہ اس خطہ میں امن امان کی فضاء بر قرار رکھنے اور ملکی بقا و سلامتی کیلئے ہر مکتبہ فکر اپنا کر دار ادا کریگا۔محرم الحرام کی آمد سے پہلے ہی وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر اتحاد بین المسلمین اور صوبائی امن کمیٹی نے تمام ڈویژن اور وہاں کی مقامی امن کمیٹیوں کے ذریعے ضابطہ اخلاق کی کاپیاں تمام متعلقہ اداروں، علمائے کرام اور مشائخ عظام کو پہنچا دی گئی ہیں. بحیثیت ایک ذمہ دار شہری کے ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حکومت پنجاب کے ان اقدامات کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور محرم الحرام کے دوران صبر و تحمل، برداشت و رواداری اور اخوت وبھائی چارے کا مظاہرہ کریں. اس کے علاوہ شر پسند عناصر پر کڑی نظر رکھیں. سید الشہداء امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓہم سب کیلئے باعث تقلید ہیں اور ان ہی کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے حق کا ساتھ دیں اور باطل کے ساتھ لڑیں. اس وقت ہمارے سامنے ہمارا باطل دشمن بھارت ہمارے وجود کو مٹانے کے درپے ہے جس کو ناکام بناناہم سب کا فرض ہے. وزیر اعلی پنجاب کی گائیڈ لائن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اتحاد بین المسلمین اور امن کمیٹیاں اس سلسلے میں پوری طرح اپنی ذمہ داریاں کماحقہ پوری کرنے میں جت چکی ہیں.ضرورت اس امر کی ہے کہ ان حالات کی سنگینی اور ساری صورتحال سے عوام الناس کو بھی موثر طریقے سے آگاہ کیا جائے جس میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے. عوام الناس کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ محرم الحرام کے دوران کہیں بھی اور کسی بھی وقت دہشت گرد اپنی مذموم کاروائیوں کیلئے مواقع تلاش کر سکتے ہیں اس لئے ایک عام شہری کو بھی فرقہ واریت یا مسلکی وابستگی سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف ایک مسلمان کی حیثیت سے ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھنی چائییے جن کی حرکات و سکنات کے بارے میں ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری طور پر آگاہ کرکے بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے. اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے ہر ضلع میں خصوصی سیل بنا دیا ہے. اس کے ساتھ ساتھ ہر شہری کو ”اپنا مسلک چھوڑو نہ، کسی دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہ“ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے دشمن کے ان عزائم کو ناکام بنانے میں تعاون کرنا چائییے جو وہ ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے ہمہ وقت زندہ رکھتا ہے. اس کے علاوہ حکومت پنجاب پہلے ہی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے ایسے اقدامات پر عمل پیرا ہے جو اس ناسور کے خاتمے کیل ئے بڑے موثر نتائج دے رہے ہیں. معاشرے میں فرقہ ورانہ کشیدگی پیدا کرنے کے عوامل میں سب سے اہم لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہے جس کے ذریعے انتہاء پسند عناصر خود یا بعض علماء کو استعمال کرکے نفرت انگیز تقاریر کرواتے ہیں اور فرقہ واریت کو ہوا دی کر امن وامان کو تہہ و بالا کیا جاتا ہے. حکومت پنجاب نے لاؤڈ سپیکر ایکٹ کے تحت نفرت پھیلانے کے اس ذریعے کو کنٹرول کر رکھا ہے جبکہ قانون سازی سمیت دیگر اہم اقدامات بھی کئے گئے ہیں جو دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ختم کرنے کا موجب ہیں۔کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت اور بد ترین ریاستی دہشت گردی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے باعث اس وقت بھارتی حکمران اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں اور وہ کبھی پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دیتے ہیں اورکبھی پاکستان کا پانی بند کرنے اور کبھی سیلابی پانی چھوڑ کر حکومت اور عوام کو کی پریشان کر رہے ہیں. پاکستان میں بد امنی پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد کا حصول بھارت کی خارجہ پالیسی کا وہ حصہ ہے جو اب عالمی سطح پر بھی منکشف ہو چکا ہے. اس صورتحال کے پیدا ہونے سے پہلے ہی پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں مصروف ہے جس میں پاک آرمی اور سول حکومت بھرپور طریقے سے شامل ہیں. بھارتی حکمران کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ پاکستان میں امن قائم ہو اور وہ ہر ایسے موقع کی تلاش میں رہتا ہے جو اسے پاکستان میں بد امنی پیدا کرنے کی سہولیات فراہم کر سکے. محرم الحرام کا مقدس مہینہ میں بھارت چاہے گا کہ اس ماہ مبارک کے دوران وہ پاکستان میں فرقہ ورانہ کشیدگی کو ہوا دے کر مسلمانوں کو باہم دست و گریبان کرے اور بد امنی پیدا کرکے حکومت پاکستان کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹا سکے. یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس کا پاکستان کے عوام کو مکمل ادراک رکھنا چائییے اور تمام فرقوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو دشمن کی چالوں کو سمجھنا چائییے.۔محرم الحرام کے حوالے سے حکومت پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ اس سے پوری طرح آگاہ ہے. وزیر اعلی پنجاب نے اس سلسلے میں نتیجہ خیز اقدامات کیلئے صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی اور صوبائی امن کمیٹی کو بر وقت متحرک کر دیا ہے. وزیر اعلی پنجاب کی خصوصی ہدایات پر ان کمیٹیوں کے وفود محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی پنجاب کے تمام ڈویژنوں کے ہنگامی دورے شروع کر چکے ہیں جہاں وہ مقامی انتظامیہ اور امن کمیٹیوں کے اراکین سے اجلاس کرکے خارجی صورتحال سے ممکنہ بلکہ یقینی طور پر پیدا ہونے والی امن وامان کی خرابی کوروکنے کے عملی اقدامات کر رہے ہیں. ابھی اس حوالے سے مزید اجلاسات اور ملاقاتیں ہونا باقی ہیں تاہم یہ بات بڑی حوصلہ افزاء ہے کہ اتحاد بین المسلمین اور امن کمیٹیاں انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اورمختلف فرقوں و مسالک کے علمائے کرام کو ایک میز پر بٹھا کر جہاں فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہیں۔ وہیں علمائے کرام، مشائخ عظام اور ذاکرین کو حالات کی سنگینی، دشمن کی جانب سے ان حالات سے فائدہ اٹھانے اور اس سے متعلق دیگر امور بارے آگاہ کرکے ان کو آن بورڈ لے رہے ہیں. مختلف فرقوں کے علمائے کرام کوزمینی حقائق کے تناظر میں باور کرایا جا رہا ہے کہ بھارت اپنے منفی اور جارحانہ عزائم کے ساتھ کھل کر سامنے آ چکا ہے اور اس امر میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں بچا کہ وہ محرم الحرام کے دوران پاکستان میں بد امنی پیدا کرنے کی یقینی کوششیں کریگا جن کو تمام فرقوں کے مسلمان بھائیوں نے باہمی اتحاد و اتفاق، اخوت و بھائی چارے اور بے مثال ہم آہنگی سے توڑکرنا ہے. ایک جانب یہ رویہ اور دوسری جانب ہم سب نے بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ایسے تمام عناصر پر کڑی نظر رکھنی ہے جو ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے امن وامان تہہ و بالا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے. یہ عناصر چاہے بھارتی سپانسرڈہوں یا کسی اور ملک دشمن کے آلہ کار ہوں بہر حال ہمارے مشترکہ دشمن ہیں. بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی راء کی مداخلت اور بد امنی پیدا کرنے کی کوششیں اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی. یہ وہ حالات ہیں جو ہم سے تقاضہ کرتے ہیں کہ فرقہ ورانہ نفرت پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو اسی تناظر میں دیکھا جائے اور اشتعال میں آنے کی بجائے ہو ش سے کام لیتے ہوئے دشمن کی چالوں کو سمجھا جائے۔
nazimuddinpro430@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں