225

ایک ھی گھر میں بجلی کے 2 میٹرز پر پابندی کی خبر دیکھکر خاصی پریشانی ھوئ – خواجہ سعد رفیق

خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ایک ھی گھر میں بجلی کے 2 میٹرز پر پابندی کی خبر دیکھکر خاصی پریشانی ھوئ ،
اپنا فرض سمجھکر کل شام میں نے محترم رمضان بٹ سی ای او لیسکو اور عزیزم سردار اویس لغاری وزیر بجلی سے رابطہ کیا تھا، دونوں حضرات نے یقین دھانی کروائ کہ یہ خبر FAKE ھے –
وزارت بجلی نے اس حوالے سے وضاحت بھی جاری کر دی ھے
میری اطلاع کے مطابق
ایک گھر کے الس میں رھنے والی فیملیز اپنے لئے الگ الگ میٹرز لے سکتی ھیں، ایک گھر کے داخلی دروازے کا مطلب گھر کا نہیں بلکہ پوگ الگ پورشنز
یا بلڈنگ کے فلیٹرشن کا دروازہ ھوگا بشرطیکہ وھاں قیام پذیر فیملیز کے الیکٹرک سرکٹ الگ ھوں
وزرات بجلی کو یہ وضاحت بروقت کرنی چاھئیے تھی بہرحال دیر آید درست آید ۔۔۔۔
بجلی کے 200 یونٹس استعمال کے ریٹ کا 201 یونٹ پر یکدم بدل جانا بھی ایک مصیبت بنا ھوا ھے،
لوگوں کتنی بھی احتیاط کریں ، چند یونٹ اوپر ھو ھی جاتے ھیں ، اسکا جامع حل نکالنا ھوگا،
میں ایک ایکسپرٹ نہیں ھوں لیکن میری راۓ میں 200 سے 300 کی سلیب میں آتے آتے کم ازکم تین یا چار steps ھونے چاھئیں!
معاشی حالت ذرا اور سدھر جاۓ تو بجلی کا کم از کم ریٹ 300 یونٹ پر بھی مقرر کیا جا سکتا ھے ۔۔
معیاری سولر پینلز کی پاکستان میں مینو فیکچرنگ اور عام آدمی کو اس ضمن میں بلا سود قرضوں کی فراھمی بھی ایک اور راستہ ھے، تاکہ لوگ مہنگی بجلی کے عتاب سے بچ سکیں
بجلی چوروں اور پاور سپلائ کمپنیوں میں انکے سہولت کار سرکاری اھلکاروں پر بے رحمانہ کریک ڈاؤن ھونا چاھئیے،
پاور سپلائ کمپنیوں کی نج کاری بھی کرپٹ مافیا سے جان چھڑانے کا موزوں راستہ ھے جسپر وفاقی حکومت مسلسل پیش قدمی کر رھی ھے –
یہ حقیقت ھے کہ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر بجلی ،بجلی کی قیمتوں میں کمی اور پاور سپلائ کے نظام کی اصلاح کیلئے پوری توجہ ، سنجیدگی اور تندھی سے کام کر رھے ھیں
اس حوالہ سےڈیمز کی تعمیر کے کام میں بھی تیزی لائ گىئ ھے،
میری تجویز ھے کہ وفاقی حکومت بجلی کو سستا کرنے کے
حوالہ سے مستقبل کا روڈ میپ قوم کے سامنے رکھے ۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں