وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں دونوں ممالک نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس ملاقات میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی نے اس بات کو واضح کیا کہ یہ محض ایک سفارتی نشست نہیں بلکہ گہرے تزویراتی مقاصد کے حامل تعلقات کا تسلسل ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی، معاشی، دفاعی، سیکیورٹی اور ثقافتی تعاون اور تعلق تاریخی، دینی اور معاشی بنیادوں پر استوار ہے، مگر اب دونوں ممالک اس تعلق کو نئے دور کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخی، مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر استوار ہیں، جن کی ابتدا 1947ء میں پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہوئی۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کا مشکل وقت میں ساتھ دیا، خواہ وہ 1965 اور 1971 کی جنگیں ہوں یا معاشی بحران۔ سعودی عرب نے پاکستان کو مالی امداد، تیل کی فراہمی، اور لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ پاکستان نے بھی سعودی عرب کی سیکیورٹی میں فوجی تربیت، مشاورت اور تعاون کیا۔ ان تعلقات میں وقتاً فوقتاً اتار چڑھاؤ آیا، مگر مجموعی طور پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریبی اور اسٹریٹجک اتحادی رہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی وسعت سے دونوں ممالک کو کیا فوائد حاصل ہوں گے۔ یہاں ہم بات کریں گے کہ سعودی عرب کو شراکت داری کی اس وسعت سے کیا حاصل ہوگا۔ سب سے پہلی بات یہ کہ اس سے سعودی عرب کے علاقائی اثرورسوخ میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان خطے کا ایک اہم ایٹمی ملک ہے۔ سعودی عرب کے لیے پاکستان کے ساتھ گہرے اسٹریٹجک تعلقات، اسے جنوبی ایشیا میں ایک مضبوط اتحادی فراہم کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے دونوں ممالک کی ڈیفنس پارٹنرشپ کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی فوجی مہارت اور تجربہ سعودی عرب کے لیے ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوجی تربیتی مشن اور دفاعی ماہرین دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی فوج پیشہ ورانہ اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے۔ سعودی عرب کو چاہئے کہ پاکستان سے مل کر انسداد دہشت گردی کی ٹریننگ، مشقیں اور انٹیلی جنس تعاون کو بڑھائے اور دفاعی ٹیکنالوجی کے تبادلے اور اسلحہ سازی میں شراکت کرے، جیسے کہ ڈرون، گائیڈڈ میزائل وغیرہ۔اس کے علاوہ ضروری ہے کہ مشترکہ فوجی مشقیں اور امن مشنز کے لیے کوآرڈینیشن کو فروغ دیا جائے۔
سعودی عرب ویڑن 2030 کی تکمیل کے لئے پاکستان سے بہت بڑے پیمانے پر تعاون حاصل کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کے وڑن 2030 کے تحت صنعتی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بڑے منصوبے موجود ہیں۔ پاکستان کی افرادی قوت اور تکنیکی ماہرین ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے پاس لاکھوں کی تعداد میں ہنر مند، نیم ہنر مند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت موجودہے جس سے سعودی عرب میڈیکل، انجینئرنگ، IT، اور کنسٹرکشن کے شعبوں میں پاکستانی ماہرین کو ترجیح دے کر بھر پور فائدہ اْٹھا سکتا ہے۔ سعودی عرب کو چاہئے کہ وڑن 2030 کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں پاکستانی ورک فورس کو شامل کرے۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ مشترکہ فنی تربیتی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ سعودی یوتھ کو بھی پاکستان کے ذریعے ٹریننگ دی جا سکے۔
پاکستان زرعی پیداوار میں ایک خودکفیل ملک ہے۔ سعودی عرب کے پاس زمین ہے، مگر پانی اور زرعی تجربہ محدود ہے۔ سعودی عرب کو چاہیے کہ پاکستان کے ساتھ زرعی معاہدے کر کے اپنے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنائے۔ پنجاب اور سندھ میں مشترکہ زرعی فارم قائم کیے جائیں تاکہ سعودی سرمایہ کاری سے پیداوار بڑھے اور برآمد ہو۔ پاکستان میں توانائی، ٹرانسپورٹ، رئیل اسٹیٹ اور صنعتی شعبوں میں ترقی کی گنجائش موجود ہے۔ گوادر اور سی پیک میں سرمایہ کاری کر کے سعودی عرب خطے میں معاشی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ مشترکہ صنعتی زونز قائم کیے جائیں، جن سے سعودی مصنوعات کی پیداوار پاکستان میں ہو اور برآمد بھی ممکن ہو۔ پاکستان میں آئل ریفائنری، پیٹروکیمیکل اور توانائی منصوبے لگانا طویل مدتی فائدہ دے سکتا ہے۔ پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی ملک ہے اور مسلم دنیا میں اس کا اثرورسوخ ہے۔ سعودی عرب کو چاہئے کہ پاکستان کے ساتھ مل کر اسلامی بلاک کی تشکیل یا فعال کردار میں بہتری لائے۔ اسلامی اقدار، تعلیم، اور میڈیا کے میدان میں مشترکہ پروجیکٹس بنائے جائیں تاکہ دنیا میں اسلام کا مثبت تاثر اْجاگر کیا جا سکے۔ کشمیر، فلسطین جیسے معاملات پر پاکستان کے بیانیے کو ساتھ لے کر سفارتی مہمات چلائی جائیں۔
یہاں یہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ اسٹریٹجک شراکت میں وسعت سے پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوں گے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری، خصوصاً گوادر، توانائی، رئیل اسٹیٹ اور زراعت جیسے شعبوں میں، پاکستان کے معاشی اعشاریوں کو بہتر بنا سکتی ہے۔ پاکستان ماضی میں سعودی عرب سے تیل ادھار یا موخر ادائیگیوں پر حاصل کرتا رہا ہے۔ نئی اسٹریٹجک شراکت داری میں اس طرح کی سہولیات دوبارہ متحرک ہو سکتی ہیں، جو زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دے سکتی ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون، پاکستان کی دفاعی صنعت کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں اور دفاعی آلات کی تیاری جیسے منصوبے پاکستان کو خود کفیل بنانے میں مددگار ہوں گے۔ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں۔ نئی شراکت داری میں ان کے حقوق، رہائش، تنخواہوں اور قانونی سہولیات میں بہتری کی اْمید کی جا سکتی ہے، جو ترسیلات زر میں اضافے کا سبب بنے گا۔ کشمیر، FATF، اور دیگر بین الاقوامی محاذوں پر سعودی عرب کی حمایت پاکستان کے لیے اہم ہے۔ ایک گہری تزویراتی شراکت داری پاکستان کو عالمی فورمز پر مضبوط مؤقف کے ساتھ سامنے لانے میں مدد دے سکتی ہے۔ سعودی عرب، چونکہ او آئی سی اور اسلامی دنیا میں قائدانہ کردار رکھتا ہے، اس کا ساتھ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کی اسٹریٹجک شراکت داری کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ دنیا میں معاشی، عسکری اور سیاسی تبدیلیوں کے اس دور میں ایسے تعلقات جو اعتماد، احترام اور باہمی مفادات پر مبنی ہوں، کسی بھی ملک کی ترقی اور خودمختاری کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ نیا باب اگر خلوص نیت، مستقل مزاجی اور عملی اقدامات پر مبنی رہا تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالم اسلام کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
181