164

بدلتے وقت کا تقاضا نئی سوچ نیا سفر تحریر: رخسانہ سحر

انسانی تہذیب کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی تبدیلی کا آغاز ایک “نئے خیال” سے ہوا۔ تاریخ کے اوراق میں درج تمام انقلابات، تحریکیں، نظریات، اختراعات — سب کسی نہ کسی ایسے ذہن کی پیداوار تھے جس نے مروجہ سوچ سے ہٹ کر “نیا سوچنے” کی جرأت کی۔ علامہ اقبال بار بار ہمیں جگاتے ہیں، جھنجھوڑتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ جمود کو توڑو، وقت کی طنابیں ہاتھ میں لو، اور نیا زمانہ پیدا کرو۔
لیکن ہم کیا کر رہے ہیں
ہم روایات میں پناہ لیتے ہیں، رسموں میں الجھتے ہیں، اور ہر نئی بات کو بدعت یا گستاخی قرار دے کر رد کر دیتے ہیں۔ ہم اپنی بند آنکھوں سے زمانے کو دیکھنا چاہتے ہیں، بند ذہن سے حالات کو سمجھنا اور بند دل سے نئی راہیں بنانا چاہتے ہیں۔ اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ دنیا بدل گئی ہے، لیکن ہمارے حصے میں صرف اندھیرے آئے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ جو خود کو نہیں بدلتا، زمانہ اس کے لیے بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

اقبال نے جو خواب دیکھا تھا، وہ صرف سیاسی آزادی کا نہیں، فکری بیداری، روحانی خودی اور تخلیقی جستجو کا خواب تھا۔
انہوں نے کہا:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا، تیری رضا کیا ہے؟

لیکن آج ہم نے خودی کو “خودی پسند” بنا دیا ہے۔ خودی کو محض انا، ضد اور خودنمائی کی سطح پر گھسیٹ لایا ہے۔ نہ ہم سچائی دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، نہ اختلاف سہنے کا ظرف۔ نہ ہم نئی صبح کے متلاشی ہیں، نہ کسی نئی شام کے۔
لیکن وقت بدل رہا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی نہ سوچا، نہ دیکھا، نہ سمجھا اور نہ کچھ نیا کیا — تو ہم تاریخ کے پچھلے صفحات میں دفن ہو جائیں گے۔
سوچیے کہ کیا ہم واقعی وہی کچھ چاہتے ہیں جو ہم جی رہے ہیں؟
دیکھیے کہ ہمارے اردگرد کیا کچھ بدل رہا ہے اور ہم کتنے پیچھے رہ گئے ہیں؟
سمجھیے کہ نئی نسل ہم سے کیا مانگ رہی ہے — تقلید یا تخلیق؟
کر ڈالیے کچھ نیا، کچھ اچھا، کچھ سچّا — جو آنے والی نسلوں کے لیے روشنی بنے۔
نیا سوچنے والوں کو زمانہ دیر سے پہچانتا ہے،
مگر پہچاننے کے بعد بھولتا نہیں۔زندگی ایک مسلسل سفر ہے — اور ہر سفر کا رخ ہماری سوچ متعین کرتی ہے۔
پرانی سوچیں، پرانے راستے تو فقط وہی منزلیں دکھاتی ہیں جو ہم برسوں سے پا چکے ہیں یا جن سے ہم اکتا چکے ہیں۔
لیکن جب سوچ نئی ہو، تو راستے بھی نئے کھلتے ہیں، منزلیں بھی بدل جاتی ہیں، اور خود انسان کا شعور بھی ایک نئی سطح پر آ کر ٹھہرنے کے بجائے آگے بڑھنے لگتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ آج بھی پرانی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ ہم نئی سوچ سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں خوف ہے کہ اگر ہم نے پرانے سانچوں کو توڑا تو کہیں ہماری پہچان، ہماری عزت، ہمارا نظام نہ بکھر جائے۔ لیکن سوال یہ ہے:
کیا جو جامد ہو جائے، وہ واقعی زندہ رہتا ہے؟
ہم روز نئی ٹیکنالوجی، نئی ایجادات، نئے طرزِ زندگی کو اپناتے ہیں — مگر اپنی سوچ، اپنے رویے، اپنے زاویۂ نظر کو تبدیل کرنے سے گھبراتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں سمجھے، حالانکہ ہم نے خود دنیا کو دیکھنے کی عادت ہی ترک کر دی ہے۔
نئی سوچ ایک خطرہ نہیں، ایک موقع ہے۔
یہ موقع ہمیں خود کو نئے زاویے سے دیکھنے کا، اپنے معاشرے کو نئے تناظر میں پرکھنے کا، اور اپنے مستقبل کو نئے خوابوں کی بنیاد پر تعمیر کرنے کا موقع دیتا ہے۔
یہ سفر آسان نہیں ہوتا۔ نئی سوچ اپنانا تنقید کو دعوت دینا ہے، مگر یہی تنقید ہی دراصل وہ آئینہ ہے جو ہمیں ہمارے اصل چہرے سے آشنا کرتی ہے۔
اور اگر ہم اس آئینے کو برداشت کر لیں، تو تبدیلی کی پہلی سیڑھی چڑھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

علامہ اقبال فرماتے ہیں:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
یہ “جہاں اور بھی” صرف کائناتی سطح پر نہیں، فکری سطح پر بھی موجود ہیں۔ ہر وہ شخص جو اپنی پرانی سوچ کو چیلنج کرتا ہے، دراصل ایک نیا سفر شروع کرتا ہے — ایسا سفر جو صرف اس کی ذات کو نہیں، بلکہ اس کے آس پاس کی دنیا کو بھی بدل دیتا ہے۔
لہٰذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود سے سوال کریں:
کیا ہم وہی پرانی سوچ لیے جینا چاہتے ہیں جو ہمیں تھکا چکی ہے؟
یا
ہم تیار ہیں ایک نئی سوچ، ایک نئے سفر، اور ایک نئی دنیا کے لیے؟
سوچ کا بدلنا صرف فکر کا بدلنا نہیں — یہ پورے وجود کا سفر ہے، جو جمود سے جنّت کی طرف جاتا ہے۔لہذا خود کو بدلیں ۔سوچ بدلیں معاشرہ خود ہی تبدیل ھو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا شعر دیکھیں۔۔۔تبدیل اپنے آپ کو کرنے لگی ہوں میں
مجھ کو رسوم دہر بدلنا عزیز ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں