اسلام آباد(ایجنسیاں)نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے اور اقلیتوں کو ہدف بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے مجرموں کو کٹہرے میں لایاجائے ‘حکومت تمام شہریوں کا مساویانہ تحفظ کریگی ‘نگراں وزیراعظم نے کہا کہ جڑانوالہ، فیصل آباد سے موصول ہونے والی خبروں پر دل انتہائی رنجیدہ ہے‘تمام قانون نافذ کرنے والوں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ ان واقعات میں ملوث شرپسند عناصر کو گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے‘ حکومت اپنی اقلیتوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا اپنے بیان میں کہناتھاکہ مسیحی برادری نے پاکستان کی سلامتی اور دفاع کیلئے خون دیا ہے، ہم یہ قربانیاں اور وطن کی خدمت ہر گز نہیں بھول سکتے ۔پاکستان مسیحی برادری کے ووٹ سے بنا تھا‘قانون شکنوں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے‘بلاول بھٹو زرداری نے جڑانوالہ میں اقلیتی املاک پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے بارے میں سن کر لرز کر رہ گئے۔سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں بلاول نے کہا کہ عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔انتظامیہ اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنائے ۔ سابق وزیراعظم شہباز شریف ‘چیئرمین پی پی بلاول بھٹو اوردیگر نے بھی واقعے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ایسے پرتشددواقعات لمحہ فکریہ ہیں ‘ایک بار پھر سانحہ 9 مئی کی یاد تازہ ہوگئی ہے اور قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے‘ امیر جماعت اسلامی سراج الحق، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی، پیر آف مانکی شریف ودیگر مذہبی رہنمائوں نےجڑانوالہ واقعہ کی پرزور مذمت کی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی کسی مذہب کے مقدسات جلانے اور ان کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی،لاہور سے نمائندہ خصوصی کے مطابق سراج الحق کا کہنا تھا کہ سازش کے تحت ملک کے امن کو برباد کیا جا رہا ہے، وفاقی و صوبائی نگران حکومتیں اور سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ادھر پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ صورتحال پر قابو پانےکیلئے مذہبی رہنماؤں نے جڑانوالہ کا دورہ کیا۔پاکستان علما ءکونسل اور عالمی بین المذاہب ہم آہنگی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صورتحال پر قابو پانے اور افہام و تفہیم کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے مذہبی رہنما عوام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان علما کونسل اور عالمی بین المذاہب ہم آہنگی کونسل کی قیادت نے تمام برادریوں کی عبادت گاہوں اور رہائش گاہوں کی حفاظت کی مشترکہ ذمہ داری پر زور دیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مذہبی مقامات کی حفاظت ناصرف مسلمانوں بلکہ یہ ریاست کی ذمہ داری بھی ہے۔جمعیت علماءپاکستان کے سیکریٹری جنرل شاہ اویس نورانی کا کہناہے کہ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کی توہین کسی صورت قابل قبول نہیں ۔لاہور سے خبر نگار کے مطابق پیر آف مانکی شریف پیرزادہ محمد امین نے بھی جڑانوالہ واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی شدت پسند اسلام کا خوبصورت چہرہ مسخ کررہے ہیں، ایسی انتہا پسند سوچ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، اسلام میں بغیر عذر کے شدت پسندی اور نفرت حرام ہے، اسلام نے غیر مسلموں کو مکمل حقوق دئیے ، غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو جلانا اور املاک کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل برداشت نہیں ، جلائو گھیرائو کا مقصد اسلام پسند طبقے کو بدنام کرنا ہے ۔
73