لاہور(میاں رامیز سے )پاکستان کے شہر چکوال میں پیدا ہونے والے بھارتی کانگریس کے سب سے معتبر سیاستدان اور سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کا سیاسی مستقبل خطرے میں نظر آرہاہے۔86سالہ ڈاکٹر من موہن سنگھ جو کہ 1991سے ریاست آسام سے بھارتی راجیہ سبھا کے رکن چلے آرہے ہیں ان کی راجیہ سبھا کی رکنیت اس سال 14جون کو ختم ہو جائے گی جب کہ آسام میں بھارتی کانگریس کے پاس اتنی اکثریت نہیں کہ وہاں سے ڈاکٹر من موہن سنگھ دوبارہ راجیہ سبھا کے رکن بن سکیں اس لئے بھارتی کانگریس کے لیڈر چاہتے ہیں کہ انہیں پنجاب میں گولڈن ٹمپل کے شہر امرتسر سے لوک سبھا کی رکنیت کے لئے انتخابی ٹکٹ دیا جائے کیونکہ کانگریس کا خیال ہے کہ سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے کے باعث پنجاب کے سکھ انہیں بے حد عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس لئے امرتسر سے ان کی جیت یقینی تصور کی جا رہی ہے۔ڈاکٹر من موہن سنگھ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ امرتسر سے آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہتے۔ 2009میں بھی انہیں امرتسر سے کانگریس کا ٹکٹ دینے کی پیشکش کی گئی تھی-اپنی صحت کی خرابی کو وجہ بنا کر امرتسر سے ٹکٹ لینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد انہیں ایک بار پھر راجیہ سبھا کی نشست دی گئی۔
271