قبروں پر کتبے نصب کرنے کا مقصد اُن کی نشان دہی کے علاوہ وہاں ابدی نیند سونے والوں سے عقیدت و محبت کا اظہار بھی ہے۔ آج بھی عام قبرستانوں تک میں جا بہ جا مختلف قبروں کو سجانے، سنگِ مرمر سے مزیّن کرکے رنگ و روغن کرنے کا رواج عام ہے۔ صدیوں پہلے اسی جذبے کے تحت مغل شہنشاہ، شاہ جہاں نے اپنی محبوب ملکہ، ممتاز محل کے لیے منقّش درودیوار، محراب اور تاج سے مزیّن ایک شان دار محل ’’تاج محل‘‘ تعمیر کروایا، جو کئی صدیاں گزرجانے کے باوجود آج بھی دنیا بھر میں محبت کا استعارہ ہے۔
پاکستان کے مختلف شہروں، قصبات میں متعدد قدیم، تاریخی قبرستان اور قبریں موجود ہیں، لیکن کراچی اور بلوچستان کے علاقوں میں صدیوں پرانے ’’چوکنڈی قبرستان‘‘ اپنی تعمیر اور تزئین و آرائش کے سبب منفرد و جداگانہ اہمیت کے حامل ہیں۔ کراچی میں رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر، لانڈھی کے عقب میں واقع ’’چوکنڈی قبرستان‘‘ کے پُرسکون ماحول اور مخصوص فنِ تعمیر کو دیکھ کر دنیا کی بے ثباتی کا احساس شدید تر ہوجاتا ہے۔چوکنڈی کے معنی چار کونوں کے ہیں اور یہ نام بھی شاید اسی لیے استعمال کیا گیا ہے۔ قبروں کی تعمیر میں زرد رنگ کا پتھر استعمال ہوا ہے، جو ٹھٹّھہ کے قریب جنگ شاہی میں پایا جاتا ہے۔ مستطیل نما منزل بہ منزل قبریں تقریباً اڑھائی فٹ چوڑی، 5 فٹ تک لمبی اور 4 سے 14 فٹ تک اونچی ہیں۔ قبر کے چاروں طرف استعمال کیے گئے پتھر پر انتہائی خوب صورت نقش نگاری کی گئی ہے۔ اِس قبرستان کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مَردوں اور خواتین کی قبروں کو الگ الگ رکھا گیا ہے۔ مردوں کی قبروں پر خوب صورت کلاہ نما ڈیزائن یا نیزہ بازی، گھڑسواری اور خنجر وغیرہ کے نقش بنائے گئے ہیں، جب کہ خواتین کی قبروں پر خوب صورت زیورات کندہ ہیں۔ ان نقوش سے مرد و زن کی قبروں کی بآسانی شناخت کی جاسکتی ہے۔