394

وزیر اوقاف پیر سید سعید الحسن شاہ کی بابا بلھے شاہ کے عرس کی اختتامی تقریب میں خصوصی شرکت اورفاتحہ خوانی و دعا

لاہور ( ٹیوٹر رپورٹر ) صوبائی وزیر اوقاف پیر سید سعید الحسن شاہ نے بابا بلھے شاہ کے عرس کے اختتامی روزد ربارپر منعقدہ وتلاوت قرآن پاک، درود پاک و نعت خوانی کی محفل میں تشریف لے گئے۔قرائت اور نعت خوانی کی محفل میں سامعین و حاضرین پر روحانی وجد طاری تھا۔انہوں نے بلھے شاہ کے مزار پرفاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر انہوں نے ملک کی سلامتی،تعمیر و ترقی اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی آزادی کے لئے دعا بھی کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ فلاحی معاشرے کی تشکیل کے لئے بزرگان اسلام کی تعلیمات سے رہنمائی کی از حد ضرورت ہے۔ ان کے افکار اسلامی علوم و معارف کا خزانہ اوران کے آستانے روحانی فیوض کے مراکز ہیں۔ تمام بزرگان کی کتب شریعت و طریقت کے مضامین سے آراستہ ہیں۔انہوں نے صوفیانہ افکار و تعلیمات کو مکمل طورپر احکامِ شریعت کے نہ صرف تابع قراردیا بلکہ تصوف کو شریعت کا امین و نگہبان بنا کر پیش کیا اور یوں برصغیر میں ایک ایسے اسلامی مکتبِ تصوف کی بنیاد رکھی جِس کی بلندیوں پر ہمیشہ شریعت و طریقت کا پرچم لہراتا رہے گا۔ ایک ہزار سال قبل ہند کی سرزمین میں ان بزرگان ؒ نے حرفِ حق کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت اور اسلام کی حقانیت کا جو بیج بویا،وہ اللہ تعالیٰ کی تائیدنصرت سے ایک ایسا تناور درخت بن گیا جِس کی جڑیں اس سرزمین میں نہایت مضبوط ہوگئیں اور شاخیں وسیع فضاؤں میں پھیل گئیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے محکمہ اوقاف کے زیر کنٹرول تمام درباروں کی تزین و آرائش بارے احکامات دے گئے ہیں۔جبکہ ان درباروں کے ارد گرد کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں پر سخت نکاہ رکھنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بابا بلھے شاہ کے 262ویں عرس کے موقع پر محکمہ اوقاف نے 3.53لاکھ روپے کی گرانٹ جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ بزرگان اسلام کی بنیادی مقصد تعلیمات کا مقصد امن،رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور نبی کریم ﷺکی اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونا ہے۔ ان کی تعلیمات کے انسانی اور خلاقی پہلو کو فروغ دینے اور مسلم امّہ کے مابین تنوع کو قبول کرنے ایک تکثیر پسند سماج کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت امت واحدہ اور امت مسلمہ نبی کریم ﷺکی سیرت مبارکہ پر عمل نہایت ضروری ہے تاکہ ہم اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں ہر اعتبار سے بہتری لا سکیں اور آج کی سب بڑی ضرورت سیرت مطہرہ کو جاننا اور اپنی زندگیوں میں اپنانا ہے کیونکہ ہمارے نبی کریم ﷺکی زندگی امن و برداشت، عمل وانصاف، رواداری،خدمت خلق معافی اور وسیع ظرفی کا اعلیٰ نمونہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف مکاتب فکر اپنے فروغی اختلافات کو بھلا کر اگر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں اور اختلافات کی جگہ مشترکات کو فروغ دیں تاکہ امت کے اتحاد کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔انہوں نے عالم اسلام میں اتحادو اتفاق، پاکستان کی سلامتی و ترقی، امن کی بحالی اور امت کے درمیان نفرتوں کے خاتمے اور محبتوں کے فروغ کے لئے اجتماعی دعا کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں