دنیا کی تاریخ میں بعض جنگیں صرف بارود، میزائل اور ٹینکوں سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کے اثرات معیشت، سیاست، سفارت کاری اور عالمی طاقتوں کے توازن تک پھیل جاتے ہیں۔ حالیہ ایران اسرائیل کشیدگی بھی کچھ ایسی ہی عجیب جنگ ثابت ہوئی جس میں میدانِ جنگ ایک تھا مگر زخم پوری دنیا نے کھائے۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہے، مگر حقیقت میں اس کے اثرات نے عالمی طاقتوں کے چہروں سے نقاب ہٹا دیے۔ ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی، اس کی طاقت کو محدود کرنے کے خواب دیکھے گئے، لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیل خود خوف، بے یقینی اور عدمِ تحفظ کا شکار دکھائی دیا۔ دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور وہ قوتیں جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتی تھیں، اب دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
اس پوری صورتحال میں امریکہ کی پوزیشن بھی غیر معمولی رہی۔ امریکہ ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی مرضی کی بساط بچھاتا آیا ہے، مگر اس بار حالات اُس کے قابو سے باہر دکھائی دیے۔ اربوں ڈالر کے اسلحے، بحری بیڑوں اور سیاسی دباؤ کے باوجود وہ اپنے اتحادی کو مکمل تحفظ نہ دے سکا۔ عالمی سطح پر امریکہ کی طاقت اور ساکھ پر سوالات اٹھے اور یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دنیا اب یک قطبی نظام سے نکل کر نئی طاقتوں کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔
اس جنگ کا ایک دلچسپ مگر تلخ پہلو عرب دنیا، خصوصاً متحدہ عرب امارات کی صورتحال بھی رہی۔ خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کے خواب دیکھنے والی ریاستیں اچانک خوف اور غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہو گئیں۔ سرمایہ کار محتاط ہوئے، فضائی راستے متاثر ہوئے اور معیشت پر دباؤ بڑھا۔ یوں محسوس ہوا کہ جنگ کہیں اور ہو رہی ہے مگر اس کی معاشی آگ خلیجی ریاستوں کے دروازوں تک پہنچ چکی ہے۔
دوسری جانب چین اور روس خاموش مگر کامیاب کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے۔ چین نے معاشی طاقت اور سفارتی حکمتِ عملی سے خود کو ایک متبادل عالمی قوت کے طور پر منوایا، جبکہ روس نے مغرب کے خلاف اپنی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط کی۔ یہ جنگ گویا اُن قوتوں کے لیے ایک موقع بن گئی جو برسوں سے امریکی بالادستی کو چیلنج کرنا چاہتی تھیں۔
ایران کے حصے میں اگرچہ مشکلات آئیں، پابندیاں بڑھیں اور خطرات میں اضافہ ہوا، مگر ایک چیز اُسے ضرور ملی: عزت۔ ایرانی قیادت نے اپنے عوام کے سامنے یہ تاثر قائم کیا کہ وہ دباؤ کے باوجود جھکنے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا کے ایک بڑے طبقے نے ایران کو مزاحمت کی علامت کے طور پر دیکھا۔
اس سارے منظرنامے میں بھارت کی سفارتی الجھن بھی نمایاں رہی۔ ایک طرف اسرائیل سے قربت، دوسری طرف عرب دنیا کے ساتھ معاشی تعلقات، اور تیسری طرف اپنے داخلی سیاسی مفادات ان سب نے بھارت کو ایسی پوزیشن میں لاکھڑا کیا جہاں اُس کی خارجہ پالیسی تضادات کا شکار دکھائی دی۔ یوں عالمی منظرنامے میں اُس کی سبکی بھی موضوعِ بحث بنی۔
اور پھر ہمیشہ کی طرح اس عالمی جنگ کا سب سے بڑا بوجھ عام آدمی نے اٹھایا، خصوصاً پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک نے۔ پٹرول مہنگا ہوا، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھیں، بجلی مزید مہنگی ہوئی اور مہنگائی نے پہلے سے پریشان عوام کی کمر توڑ دی۔ عالمی سیاست کے ایوانوں میں فیصلے ہوتے رہے اور اُن فیصلوں کی قیمت غریب عوام نے اپنے چولہوں پر ادا کی۔
یہ واقعی ایک عجیب قسم کی جنگ تھی۔
جہاں گولیاں سرحدوں پر چلیں مگر اثرات دنیا بھر کے بازاروں میں محسوس ہوئے۔
جہاں فتح اور شکست کا فیصلہ میدان میں نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری کے ایوانوں میں ہوا۔
اور جہاں طاقتور ممالک اپنی چالیں چلتے رہے، مگر پسنے والا ہمیشہ عام انسان ہی رہا
121