97

بچوں کی ضد کہ اور موبائل تحریر – ثناء ظہیر


تحریر – ثناء ظہیر

بچوں کی ضد کہ ان کو چپ صرف موبائل سے ہی کرایا جا سکتا ہے اور آپ بچوں کے آنسووں کے آگے مجبور ہوکر موبائل یا آئی پیڈ ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں تاکہ آپ کو سکون کے کچھ لمحات میسر آجائیں ۔ آج کل کے والدين بھی بناوٹی خوشیوں کے لیے اپنے آپ کو اتنا مصروف رکھتے ہیں کہ بچوں کو عارضی عادتیں اور طریقے جیسے کہ موبائل دے کر ان کی خوشیوں کو فقط موبائل کا محتاج کر دیتے ہیں۔
ان تمام عادات کا مطالعہ امریکا کی یونیورسٹی آف مشیگن کے محقیقین کی ٹیم نے ایک تحقیق میں کیا۔ اگر ضد کرتے ہوئے بچوں کو فون دے کر بہلایا جائے ، اور اسکے لیے 442 والدين اور تین سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کا انتخاب کیا گیا ۔ اور یہ جانتے کی کوشش کی گئی کہ یہ ضد بچوں میں کس قسم کی نفسیاتی تبدیلیاں رونما کرتے ہیں اور ان کی آگے کی تعلیمی اور سماجی زندگی میں کسطرح اثر انداز ہوسکتے ہیں ؟
سائنس دانوں نے والدین سے پوچھا کہ وہ اپنے بچوں کو بہلانے کے لیے موبائل فون یا آئی پیڈ جیسے ڈیجٹل آلات کا کتنا استعمال کرتے ہیں دن میں اور کتنے وقت کیلئے ، پورا دن یا کچھ وقت اور یہ بھی پوچھا گیا کہ گذشتہ چھ ماہ سے زائد کے عرصه کے اندر ان کے بچوں کے جذباتی یا روئیے کے مسائل کی علامات کیا رہیں ؟ ان علامات میں اداسی سے خوشی کے درمیان جذبات کی فوری منتقلی ، مزاج یا احساسات میں فوری انتہائی تبدیلی اور انتہائی فعلیات جیسے سوال شامل رکھے گئے۔ یہ جاننے کی کوشش تھی کہ دور حاضر میں بڑے ہوتے ہوئے بچے ، جو کہ دنیا کو صرف موبائل کی دنیا سے ہی جانتے ہیں ، موبائل دیکھنے کی زیادتی ان کی بڑھوتری پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟
جرنل جاما پیڈیا ٹرک میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق بچوں کو بہلانے کے لیے ڈیجٹل ڈیوائس کے استعمال اور جذباتی نتائج کے درمیان تعلق سامنے آیا جو کہ بالخصوص چھوٹے بچوں میں زیادہ تھا۔ بچے ان جذباتی اتار چڑھاو که سنگین مسائل سے شدید متاثر ہیں ان کے رویوں میں تیزی سے شدت سے ردعمل آیا ، یعنی کہ بچے بڑوں کی طرح ذہنی مسائل کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ اپنی سماجی تنہائی کو موبائل کو دنیا میں ہی گم ہوکر مکمل سمجھتے ہیں ۔ کھیل کود کے بجائے ایک جگہ بیٹھے رہنے ترجیح دیتے ہیں جو کہ اور مختلف بیماریوں کی وجہ بنتى ہے۔
محقیقین نے واضح کیا ہے کہ والدین کو بچوں کو بہلانے کے لیے فون یا آئی پیڈ کے استعمال کے بجائے حواس خمسہ پر مبنی سرگرمیاں جیسے کہ باہر کھلی ہوا میں وقت گزارنا ، ٹریمپولن میں چھلانگیں لگوانا ، نظمیں اور کتابیں سنانے جیسی سرگرمیوں میں زیادہ عمل کرانا چاہیے۔ مقصد یہ ہو کہ بچے اپنا زیادہ وقت والدین کے ساتھ گزاریں ہنسیں ، رویں ، زندگی کو محسوس کریں اور زندگی گزارنا سیکھیں اپنے وسائل کے مطابق ۔ والدین بھی وقت کی کمی کے باوجود اگر زیادہ وقت گزاریں تو مثبت معاشرہ پروان چڑھایا جاسکتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں