امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سمیت الیکشن کمیشن والوں کو استعفیٰ دینا چاہیے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کی کیا حیثیت رہ گئی ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ الیکشن پر جوڈیشل کمیشن بنائیں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو لوگوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح وفاقی اور صوبائی حکومت ہے اسی طرح بلدیاتی حکومت بھی ہونی چاہیے، اس وقت جو سیاسی صورتِ حال ہے، اس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ فیصلے میں لوگوں کو یہ امید ہوئی ہے کہ عدالت بھی موجود ہے اور میرٹ پر فیصلے ہو سکتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کی کیا حیثیت رہ گئی ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ ایم کیو ایم کو پورے کراچی سے فارم 45 کے تحت ایک لاکھ ووٹ بھی نہیں ملا، میرا سوال ان جماعتوں سے ہے جنہوں نے کہا اسمبلی میں نہیں جائیں گے، ان جماعتوں سے پوچھناچاہتا ہوں کہ کیا دھاندلی ہوئی تھی؟ ان جماعتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو جزوی طور پر قبول کیا ہے، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو قلی طور پر قبول کرنا پڑے گا۔