سولہویں صدی میں ہندوستان پر فرید خان اسحاق المعروف شیر شاہ سوری کا محض پانچ سالہ دور حکومت کئی حوالوں سے نہ صرف شاندار اور یادگار رہاہے بلکہ ہندوستان کی ایک ہزار سالہ تاریخ کے نمایاں ترین ادوار حکومت میں سے ایک کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ شیر شاہ سوری کا رائج کردہ عدل و انصاف کا نظام، مالیہ کا نظام، زرعی اصلاحات، کسان کی فلاح و بہبود اور ڈاک کے بروقت اور بہترین نظام سمیت متعدد کارہائے نمایاں میں ایک کارنامہ کابل سے براستہ پشاور، لاہور، دہلی اور کلکتہ تک کی جرنیلی سٹرک کی تعمیر نو اور اسے جدید سہولیات سے آراستہ کرنا ہے۔ شیر شاہ سوری نے 2500 کلومیٹر طویل اس سڑک پر مسافروں کی آسانی اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے ان کے استعمال کے لئے کنویں کھدوائے، مساجد و مندر تعمیر کروائے، پولیس چوکیاں اور کاروان سرائے بنوائے جہاں ہندو اور مسلمان مسافروں کے لئے سرکاری خرچے پر الگ الگ کھانا فراہم کیا جاتا۔ اس کے علاوہ اس جرنیلی سڑک جسے بعد ازاں جی ٹی روڈ یعنی” گرینڈ ٹرنک روڈ” کا نام دیا گیا جو تیز رفتار پیغام رسانی اور مستعد تجارت کے لئے بہترین اور محفوظ ترین سمجھی جاتی کے اطراف میں بے شمار سایہ دار و پھل دار درخت لگائے تا کہ مسافروں کو سایہ کی سہولت رہے اور وہ جہاں چاہیں سستا سکیں، ان کی سواریاں (گھوڑے، خچر) وغیرہ گھاس چر کر، پانی پی کر تازہ دم ہو سکیں اور طویل سفر کے قابل ہو سکیں۔ اس جی ٹی روڈ کے اطراف ہر آٹھ کلومیٹر (بعض جگہوں پر ہر دو کلومیٹر) کے فاصلے پر کوس مینار تعمیر کئے گئے جن کی جھلک ابھی بھی لاہور میں مغلپورہ، دہلی کے علاقوں، اٹک شہر کے گردو نواح اور کلکتہ کے علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ غرضیکہ شیر شاہ سوری نے جی ٹی روڈ کو تعمیر کر کے برصغیر میں پہلی اقتصادی شریان (اکنامک آرٹری) کو فعال کیا جو نہ صرف تین ممالک افغانستان، پاکستان اور بھارت کو ملاتی اور اس پر سفر کرنے والوں کے لئے جادۂ کشادہ استوار کرتی بلکہ تجارتی نقل و حمل کے لئے بھی بہترین شاہراہ تصور کی جاتی رہی ہے اور ہنوز کی جا رہی ہے، جسے شاہراہ ریشم کی تعمیر سے قبل اپنے دور کی شاہراہ ریشم اور اس دور کے اکنامک کوریڈور (سی پیک) کی حیثیت حاصل تھی۔ یہ تمہید اس بات کی دلیل ہے کہ ترقی یافتہ ریاست کے بنیادی اور نمایاں خدوخال میں سے یہ بھی شامل ہے کہ دیکھا جائے اس ریاست کے ذرائع نقل و حمل کس قدر پختہ و کشادہ، محفوظ اور قابل سفر ہیں۔ پاکستان میں اس وقت نیشنل ہائی ویز، موٹر ویز، ایکسپریس ویز کے ذریعے گوشے گوشے تک سفر ممکن ہو چکا ہے۔ بین الصوبائی رابطہ سڑکیں ملک کے طول و عرض کو آپس میں ملا رہی ہیں۔ ایک صوبے سے دوسرے صوبے ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور ایک شہر سے دوسرے شہر حتیٰ کہ گاوں گاوں قریہ قریہ بلا تاخیر اجناس کی ترسیل، انسانی آمد و رفت اور سیر و سیاحت کے شوقین افراد کے لئے بلا تعامل سفر ممکن ہو چکا ہے۔ نیشنل ہائی وی اتھارٹی اس میں مزید بہتری کے لئے شبانہ روز کام کر رہی ہے۔ مکران کوسٹل ہائی وے، قراقرم ہائی وے، جی ٹی روڈ، شاہراہ ریشم اس سارے منظر نامے کو رنگین بنانے میں انتہائی خوبصورتی سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ علاوہ ازیں گلگت بلتستان ہائی وے، خیبر پختونخواہ ہائی وے، پنجاب ہائی وے اور سندھ ہائی وے بھی اس قصہ رنگین میں اجاگر رنگوں کے ساتھ نمایاں ہیں۔ پاکستان کے زمینی مواصلاتی نظام اور سڑکوں کے جال کی صورت دوسرے ممالک سے ملانے کے لئے پشاور تا کابل، پشاور تا جلال آباد (افغانستان)، گوادر تا زاہدان (ایران)، کوئٹہ تا مشہد، کوئٹہ تا زاہدان و دیگر سڑکیں فعال ہو چکی ہیں جن پر آمد و رفت جاری ہے جبکہ اسلام آباد تا دوشنبے (تاجکستان) اور اسلام آباد تا کاشغر (چائینہ) سڑکیں فعال کرنے پر کام جاری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں کارگو ٹرک، ٹرالرز اور بڑی گاڑیاں مال برداری میں مصروف عمل ہیں جبکہ ٹنوں کے حساب سے روزانہ کی بنیاد پر اجناس و دیگر سامان کی ترسیل ہو رہی ہے جو پاکستان کے لئے مضبوط معیشت اور روشن کل کی جانب پیش قدمی ثابت ہو گی۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہو رہی، وزارت مواصلات اپنے اندر خود انحصاری لانے اور اپنے آپ کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے بہت سے منصوبوں پر کام شروع کرنے جا رہی ہے جس میں دیگر ممالک میں پیشہ وارانہ خدمات انجام دینے سمیت متعدد امور شامل ہیں جو نہ صرف معشیت کا مضبوط سہارا بنیں گے بلکہ دنیا بھر میں وطن عزیز کا وقار بھی بلند کریں گے۔ اقتصادی استحکام کے لئے جہاں اور بہت سے اہم فیصلے کئے جا رہے وہیں وزارت مواصلات اس فکر میں بھی غلطاں نظر آتی ہے کہ کیسے خطے کے تمام ممالک کو آپس میں مزید مربوط اور مستحکم بنایا جائے جہاں کوئی بھی راستہ مسدود نہ رہے بلکہ تمام تجارتی راہداریاں مکمل محفوظ اور بآسان سفر کے قابل بنائی جا سکیں۔ یقینا وزارت مواصلات کی یہ تدبیر خالی از حکمت نہیں اس پر استہزاد یہ کہ وزیر مواصلات عبدالعلیم خان جو تعمیر و ترقی کے ہنر سے آشنا اور خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں نے پاکستانی مصنوعات کو دنیا بھر میں متعارف کرانے، تجارت کے فروغ اور دیگر ممالک کو قومی تجارتی منڈیوں تک رسائی دینے کے ساتھ ساتھ قرب وجوار کے ممالک کو زمین، فضائی اور آبی رستوں تک رسائی دینے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ جس طرح شیر شاہ سور ی کو اپنے دور کا نیپولین کہا جاتا رہا ہے اسی طرح عبدالعلیم خان بھی اس دور کے شیر شاہ سوری بن چکے ہیں۔ پورٹ قاسم، گوادر پورٹ اور دیگر پاکستانی بندرگاہوں تک وسط ایشیائی ریاستوں کی براستہ چین یا افغانستان رسائی ایسا خواب ہے جس کی تکمیل کے بعد وطن باسیوں کی آنکھوں میں بسنے والے خوشحالی کے خواب حقیقت میں ڈھلتے نظر آئیں گے۔ ان رستوں کی بحالی اور اس پر چلنے والی ٹریفک کے صرف محصولات زر و کرایہ کی مد میں ہی اس قدر زر مبادلہ حاصل ہو سکتا ہے کہ عام آدمی کے واقعی دن پھر سکتے ہیں جبکہ دیگر کاروباری مواقع پیدا ہونا ملک میں اقتصادی و معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ عام آدمی کے لئے خوشحالی اور آسودگی کا پیغام ہوں گے۔ گزشتہ برس وزیر مواصلات نے تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان سمیت وسط ایشائی ریاستوں، آذر بائیجان، کویت، چائینہ، روس، اور دیگر ممالک کے دورے کئے اور متعلقہ حکام سے مل کر بہت سے سود مند فیصلے کئے، یہ سفر تا حال جاری ہے اور ان منصبوں پر مشاورت سمیت اسے عملی شکل دینے کے لئے روڈ انفراسٹرکچر، ہائی ویز پر وہیکل لوڈ، ایکسل لوڈ مینیجمنٹ، اور ٹول ٹیکس کے حوالے سے نئی منصوبہ بندیوں پر بھی کام جاری ہے۔ رواں برس کے آغاز میں مراکو (مراکش) میں منعقدہ چوتھی عالمی منسٹریل روڈ سیفٹی کانفرنس میں وفاقی وزیر مواصلات کی شرکت ان منصوبوں کی کامیابی کی جانب ایک بڑی جست تھی جس میں پاکستانی دستے نے بڑی پیشہ وارانہ مہارت، عددی حوالوں اور پر اعتماد ابلاغ سے پاکستانی روڈ انفراسٹکچر، ہائی ویز اینڈ موٹرویز لینڈ اسکیپ، اور ایڈمنسٹریٹو اینڈ آپریشنل پلاننگ کے خدو خال کو اجاگر کرتے ہوئے شریک ممالک کو پاکستانی اقتصادی راہداریوں کی اہمیت اور بندرگاہوں تک آسان رسائی کی یقین دہانی کرائی جس نے بلا شبہ شریک ممالک سمیت خطے سے جڑے تمام ممالک کو پاکستانی اقتصادی شریانوں کو معاشی نظام تنفس کے لئے بہترین و ناگزیر ثابت کر دیا ہے۔ اسی حوالے سے حال ہی میں وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہوں نے اکتوبر میں دو روزہ منسٹریل کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے جس سے بہت سی توقعات وابستہ ہو چکی ہے۔ جس طرح اچھے خریداروں کو پہلے شو رومز میں مدعو کیا جاتا ہے بعد ازاں اجناس سے بھرے گودام دکھا کامیاب سودے بازی کے ذریعے نہ صرف کاروباری ساکھ بحال کی جاتی ہے بلکہ کثیر منافع کمانے کے لئے نئے مواقع پیداکئے جاتے ہیں بعینہ باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لئے اس کانفرنس کے ذریعے تمام سٹیک ہولڈرز کو بلا کر پاکستان میں موجود مضبوط، مربوط اور پختہ و کشادہ تجارتی راہداریوں، بہترین ذرائع نقل و حمل اور عمدہ مواصلاتی انفراسٹرکچر سے آگاہ کیا جائے گا بلکہ انہیں ترغیب دی جاسکے کہ وہ اپنی مصنوعات بیرون ممالک منڈیوں تک پہنچانے کے لئے پاکستانی بندرگاہوں، سی پورٹس، شپنگ یارڈز، ریلوے ٹریکس، ڈرائی پورٹس، اور تجارتی راہداریوں پر انحصار کریں۔ یقینا آنے والے کل کو روشن کرنے کے لئے ہمیں آج اپنے خون جگر سے ترقی و استحکام کے چراغ جلانے ہوں گے
353