154

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر – ڈاکٹر صغراصدف

تصوف کا پہلا سبق خدمت خلق اور احترام آدمیت کے لئے متحرک ھونا ھے۔ عبادت رب کی بارگاہ میں حاضری اور بندہ پروری کا اقرار نامہ ھے۔ جب کہ اُس کا قرب پانے اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اُس کی مخلوق کی دلجوئی کرنی پڑتی ھے ۔وہ اپنے معاملات کو معاف کر دیتا ھے مگر بندوں کے ایک دوسرے کی طرف حقوق پر کوئی بچت نہیں۔ اسی لئے اہل نظر خدمت خلق کے رستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر میں انسان کی فلاح سے جُڑی تنظیموں اور اشخاص سے گہری عقیدت اور وابستگی محسوس کرتی ھوں ۔ یہ وہ عظیم لوگ ھیں جو زندگی کے اصل مقصد کو لے کر آگے بڑھ رہے ھیں۔ انسان کی بقا اور وقار کو قائم رکھنے کے لئے بنیادی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اُسے تعلیم و تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بطور انسان اپنی اہمیت ، حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہو کر اپنی شخصیت کو سنوار سکے ۔ ھم خوش قسمت ھیں کہ ھمارے پاس انسانیت کے ایسے پرچارک موجود ھیں جنکی خدمات کو عالمی سطع پر سراہا جاتا ھے ۔
سید لختِ حسنین مسلم ہینڈز انٹرنیشنل کے چیئرمین ھیں ۔ان کے تعارف میں بہت سارے لفظ لکھنے کی بجائے انھیں ایک نظر دیکھ لینا کافی ھے ۔ انکی شخصیت سے مرتعش ہونے والی اخلاص ،حلیمی، مہربانی ، اپنائیت اور مثبت سوچ کی کرنیں سب احوال ظاہر کر کے انسان کو انکا گرویدہ بنا لیتی ھیں۔ اب تو دنیا کے مختلف ملکوں سمیت پاکستان کے ہر صوبے میں جہاں جہاں پراجیکٹس شروع ھیں اُس سے اُن کا گہرا تعلق جُڑ چکا ھے مگر آبائی علاقے سوھدرہ وزیرآباد کو مرکزی مقام حاصل ھے۔ جس طرح زکوات میں خویش کو اولیت حاصل ھے اسی طرح ہر فرد پر اپنے علاقے اور اُس کے لوگوں کا قرض ھوتا ھے ۔ احساس والے تمام عمر مٹی کا قرض ادا کرتے گزار دیتے ھیں۔
1993 میں گاؤں سوھدرا سے شروع ھونے والی تحریک میں تعلیم صحت، صفائی ،خوراک اور زندگی کو بچانے والے پروگراموں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ نیک نیتی اور اخلاص سے دی گئی دستک پر دردمند در وا ھوتے گئے اور خدمت کا دائرہ کار وسیع ہوتا گیا ،
وزیرآباد ایجوکیشنل کیملیکس کے بارے میں بہت سُن رکھا تھا ، حاضری کا پکا ارادہ کیا تو موسم کی شدت بھی باز نہ رکھ سکی۔ ایکٹروں ہر پھیلا یہ تعلیمی کیملیکس ایک خوبصورت تفریحی مقام کی سی حیثیت رکھتا ہے ۔ کھلے ھوا دار کمرے ، کشادہ صحن۔ برآمدے ، کھیل کے میدان , ہر سکول کالج کے ساتھ وسیع سر سبز لان ۔ قسم قسم کے پھلدرا درخت ، سانئسی تعلیم کے لئے جدید لیبارٹریز ، فائن آرٹس ، فیشن ڈیزائنگ ادارے کے ساتھ طلبا اور دیگر لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے مختلف ہنر سکھانے کا انتظام، سکول ،کالجز میں معیاری ہاسٹلز کی سہولت، قابل اور کمٹڈ سٹاف اور دیگر جدید لوازمات دیکھ کر دنگ رہ گئی ۔ حال ہی میں یہاں ایک بہت خوبصورت آڈیٹوریم بنایا گیا ھے جس میں بہت عمدہ سٹیج ، ساؤنڈ سسٹم اور جدید آرام دہ فرنیچر نصب کیا گیا ھے ۔ اس آڈیٹوریم کا نام ،،عطا الحق قاسمی آدیٹوریم، رکھا گیا ھے۔ عالمی سطع پر شہرت رکھنے والے ادیب عطاء الحق قاسمی کا تعلق بھی وزیرآباد سے ھے اور قدرشناس دھرتی کی شان بڑھانے والوں کو اعزاز دے کر نئی نسل کو جدوجہد کی تحریک دیتے ہیں۔امید ہے اس آدیٹوریم میں باقاعدگی سے اہم شخصیات کے لیکچر ، مذاکرے ، مباحثے ،مشاعرے اور صوفیانہ گائیکی کے پروگرام منعقد ھوں گے اور لوگوں کی ثقافتی تربیت ھوتی رھے گی ۔اس کا افتتاح بھی عطا ءالحق قاسمی صاحب سے کروایا گیا۔ ادب اور فنون کی ترویج سے پنجاب کی ثقافت اور مثبت رویے پروان چڑھیں گے ۔
اس کمپلیکس میں سکول اور کالج کی سطح پر کام کرنے والی کئی عمارتیں اور ہاسٹلز ھیں اور حیرت و خوشی کی بات یہ ھے کہ تعلیمی کیملیکس کی بیشتر عمارتیں مختلف مخیر افراد کی طرف سے بنا کر دی گئی ھیں۔ ان کا حوالہ اور نام ہر عمارت کی پیشانی پر چسپاں ھے ۔ تمام ڈونرز اس تعلیمی کیملیکس کے انتظام و انصرام اور معاملات میں گہری دلچسپی رکھتے ھیں۔اور وقتا فوقتاً اس کا دورہ کرتے رہتے ھیں۔ وہ وقت دور نہیں جب وزیرآباد تعلیمی کیملیکس میں ایک جدید علوم کی تدریس کے حوالے سے پہچان رکھنے والی منفرد یونیورسٹی بھی موجود ھوگی ۔ یہ علاقہ علم، فنون اور خدمت خلق کی آماجگاہ کہلائے گا ۔ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے والے طالبعلم یہاں سے حاصل کردہ دانش کی کرنوں سے دنیامیں خیر کو اُجاگر کریں گے۔
پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں ابھی بھی بہتری کی بہت گنجائش ھے۔ ابھی تک کروڑوں بچے سکول سے باہر ھیں۔ یر علاقے میں سکول سے باہر سولہ سال تک کی عمر کے بچوں کے لئے ہنر اور تعلیم کا کوئی مفت پروگرام شروع کیا جائے گا تو بات بنے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں