272

کشمیریوں کو پناہ دینے والی ہندو صحافی مشکل کا شکار

پلوامہ حملے کے بعد کشمیری نوجوانوں کو پناہ دینے والی ہندو صحافی کی اپنی جان پر بن گئی، انہیں سوشل میڈیا پر بھی بدتمیزی اور بدزبانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

26 سالہ ساگریکا کسو صحافی ہیں جن کا تعلق جموں کے پنڈت گھرانے سے ہے۔

پلوامہ میں ہوئے حملے کے بعد جب اتراکھنڈ، راجستھان اور ہریانہ میں انتہا پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے کشمیری مسلمان نئی دہلی پہنچنا شروع ہوئے تو ساگریکا نے ان کی بھرپور مدد کی تھی۔

کشمیریوں کی مدد کرنے پر خاتون صحافی ساگریکا کو بے ہودہ جملے اور تنقید بھی سہنا پڑی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں