اگر کراچی کی تاریخ دیکھی جائے تو کراچی پاکستان کا دارالحکومت اور ایک پرامن اور کاروباری شہر ہوا کرتا تھا ۔چونکہ یہ ایک کاروباری حب تھا اس لیے پاکستان بھر سے لوگ اپنے روزگار کے لیے کراچی کا رخ کیا کرتے تھے ۔پاکستان سے لاکھوں لوگوں کے چولہے کراچی کے روزگار سے چلتے تھے پھر رفتہ رفتہ کراچی کو پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ۔روشنیوں کا شہر کراچی ایک تاریخ اور ایک کھنڈر بن کے رہ گیا ۔لوگ اب کراچی جانے پر 100 بار سوچتے ہیں پتہ نہیں واپس انا ہوگا یا نہیں ۔پتہ نہیں ان کے جان و مال محفوظ رہے گا یا نہیں ۔ائے دن وہاں پہ قتل و غارت ہوا کرتے ہیں ۔گھر سے بندہ پیسے لے کر باہر نہیں نکل سکتا موبائل لے کے نہیں نکل سکتا پتہ نہیں واپسی پر وہ محفوظ رہیں گے یا نہیں ۔یہاں تک تو بات سمجھ میں اتی تھی کہ شاید کچھ جرائم پیشہ لوگ اس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔
لیکن چند سالوں سے کراچی سانحہ پہ سانحہ کی ایک تاریخ بن گیا ۔انسانوں میں ہزاروں لوگ کی جان جا چکی ہے جس کا ابھی تک کوئی پرسان حال نہیں
کراچی میں 12 مئی 2007ء کے فسادات جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے مابین تصادم کے تتیجے میں تقریباً 40 افراد مارے گئے پھر
کراچی دھماکا 18 اکتوبر 2007 کو پاکستان کے شہر کراچی میں سابق وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو کے قافلہ پر ہوا۔ یہ دھماکا ان کی شہادت کے دو مہینے پہلے ہوا۔ اس دھماکا کے نتیجہ میں 139 افراد ہلاک اور 450 کے قریب زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان کی تھی
11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری علی انٹرپرائیز میں لگنے والی آگ کے کیس کا نہ تو ٹرائل شروع ہوا اور نہ ہی اب تک کوئی بیان ریکارڈ کرایا گیا ہے۔
اس عرصے میں تین دفعہ تحقیقات ہوچکی ہیں اور اب تک واقعے میں جھلس کر مرنے والوں کے خاندان ٹرائل شروع ہونے کے منتظر ہیں۔
ابھی لوگ ایک سانحہ کو بھول ہی نہیں پاتے ہیں کہ ایک نیا سانحہ سامنے آ جاتا ہے اور اب کراچی کے سانحہ گل پلازا میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس سانحہ میں 67 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل، 16 لاشوں کی شناخت ہوگئی، اور پتہ نہیں کتنے والدین اپنے پیاروں کی راہ تک ریے ہیں اور نہ جانے کب تک انکو اس کرب سے گزرنا ہو گا-
ایک سینئر فائر آفیسر ظفر خان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ سانحے کے بعد ملبے سے لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں۔
گل پلازا 8124 گز اور 1102 دکانوں پر مشتمل پلازا ہے اور اوپر سے المیہ تو یہ ہے کہ کہ گل پلازا مارکیٹ ایسوسی ایشن مینٹیننس کی مد میں ماہانہ سوا کروڑ روپے لیتی تھی۔ اتنی بھاری رقم کے باوجود انتظامات نہ ہونے پر مارکیٹ ایسوسی ایشن جواب دے۔ اور انتظامیہ سے بھی پوچھا جائے کہ گل پلازا کی عمارت کے دروازے کیوں بند تھے تحقیقات بھی ہونی چاہیں-
گل پلازہ جن کی ذمہ داری تھی وہ گل پلازہ پر تھے ہی نہیں، بتایا جائے یہ خون کس کے ہاتھ پر ہے، سیاست کرنیوالوں کراچی کے لوگوں کے دلوں میں نفرت آچکی ہے، بےحسی کی انتہا، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، ذمہ داروں کا تعین کرکے سزا دی جائے- لوگ کبھی گٹر میں گر کر مر رہیں ہین اور کبھی ٹینکرون کی ٹکر سے کوئی پوچھنے والا نہیں لوگ کس کے سامنے جا کر اپنا رونا روئے؟
لوگ کبھی لاکٹ اور کبھی کبھی انگھوٹھی اور کبھی اپنے پیارون کو پہنائی ہوئی چیزوں سے پہچان کر کے لاشوں کی شناخت کر رہیں ہیں. اور سیاست دان صرف سیاست کو چمکانے مین لگے ہوئے ہیں انکو کوئی پرواہ نہیں کی غریب کے ساتھ کیا ہو رہا ہے کیونکہ ان سانحہ مین انکا تو کوئی نہیں بچھڑا اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے جو انکو بھی درد ہو انکو کیا پتی کہ اپنون کے بچھڑنے کا درد کیا ہوتا ہے-
لگتا ہے کہ اب تو کراچی کے باسیوں کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ظلم مزید برداشت کرنا ہے، مزید لاشیں اٹھانی ہیں، اب وہ بیٹھ کر فیصلہ کریں ذمہ داروں کو سزا دلوائیں گے۔
میری تو یہ دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ سانحہ گل پلازا کے شہداء کی مغفرت فرمائے۔ لیکن سوال تو بنتا ہے کہ کتنا کراچی کی عوام کتنا اور خون دیں اور کتنے حادثات برداشت کریں گے انسانوں کی تسلیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں ہمیں کوئی ٹائم بتادیں، بتادیں کہ اب شہر میں اتنے لوگ مزید مریں گے، تاکہ ہمیں صبر آ جائے؟
159