325

فنکاروں کوآرٹسٹ ہیلتھ انشورنس کارڈ کی نہیں فنانس کارڈ کی ضرورت ہے۔پیر سید سہیل بخاری

فنکاروں اور تخلیق کاروں کو آرٹسٹ ہیلتھ انشورنس کارڈ کی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ روزگار کارڈ اور فنانس کارڈ کی ضرورت ہے۔
آج ہم پیارے ملک پاکستان کے ایک “غیر اہم” طبقہ کا ذکر کر ہی لیتے ہیں۔ہمارے ملک پاکستان میں فن و ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد جو کہ کسی بھی سطح پر ملک کی پہچان ہوتے ہیں، آج کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔فلم انڈسٹری کی زبوں حالی ایسی ہے کہ اس کا ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہے۔ نئی حکومت نے آتے ہی فنکاروں کا ما ہانہ وظیفہ بھی بند کر دیا ہے اور “لالی پاپ” کی صورت میں “ہیلتھ انشورنس کارڈ”مبلغ 4 لاکھ روپے جاری کرنے کا علان کیا ہے۔ اور فنکاروں ، تخلیق کاروں سے اس ضمن میں فارم جمع کروانے کے لئے لاکھوں روپے کے اشتہارات، سٹیشنری اور عملہ مخصوص کیا گیاہے اور اس فارم کو پر کرنے والے فرد کو تصاویر ، شناختی کارڈ اوراسکی کارکردگی کا ثبوت بھی پیش کرنا شامل ہے۔جبکہ دوسری جانب حکومت نے عام افراد کے لئے 7لاکھ 20ہزار روپے تک مالیت کا صحت کارڈجوکہ سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتال میں کار آمد ہوگا ، جاری کیا جا رہا ہے۔
میں حکومت وقت کی توجہ اس طرف دلانا چاہتا ہوں کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں تمام ادویات فری ہیں اور حتیٰ کہ اگر دل کا بائی پاس یا سٹنٹ بھی ڈالنا پڑ جائے وہ بھی عام آدمی کے لئے فری ہے۔یہ اس ضمن میں فن کی خدمت کرنے والوں کے لئے 4لاکھ ہیلتھ کارڈ کی صورت میں مذاق ہے جوکہ اپنی ساری زندگی فن کی خدمت کرتے گذار دیتے ہیں۔ فنکار ملک کا سفیر ہوتا ہے اور ہم اپنے سفیر سے ایسا ناروا سلوک کرتے ہیں جسکی مثال ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
دنیا کے دوسرے ملکوں میں بڑے بڑے فنکاروں تخلیق کاروں کے مجسمے بنائے جاتے ہیں۔ انکی پوجا کی جاتی ہے مگر ہمارے اس پیارے پاکستان میں جس میں اب ہم ” نیا پاکستان ” بنانے جا رہے ہیں ایسی فنکارانہ تضحیک ناقابل برداشت ہے۔
ہمارے سابق صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب بڑے بڑے بلند و بانگ دعوے کرتے رہے جس سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ فنکاروں کے لئے دودھ کی نہریں بس بہنے کو ہیں اور اب کوئی فنکار بھوک سے نہیں مرے گا۔
حضور والا! فنکار اور تخلیق کار ہمیشہ معاشرے کی بے رخی اور ناروا سلوک سے مرتا ہے۔ فنکار کو کھانے کے لئے دو وقت کی روٹی تن ڈھاپنے کے لئے دو سوٹ اور اپنی سفید پوشی کے بھرم کو رکھنے کے لئے ماہانہ چند ٹگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کا یہ ہیلتھ انشورنس کارڈ صرف اسی وقت کار آمد ہوگا جب کو ئی فنکار یا تخلیق کار بیمار ہوگا۔ اگر آرٹسٹ انشورنس کارڈ کو صحت انصاف کارڈ میں بدل دیا جائے تو یہ فنکاروں اور تخلیق کاروں پر احسان ہوگا۔
جناب والا! یہ وزارت کا احسان عظیم تھاکہ ا س نے ایسا سوچا اور اسکو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن میںیہاں عرض کرتا چلوں کہ حال میں جو فنکار، تخلیق کا ر مالی مشکلات کا شکار ہیں وہ آپکے اس ہیلتھ کارڈ کو چاٹیں گے جب کہ اس کا پیٹ بھوکا ہوگا۔اس کے پاس گھر کا کرایہ دینے کے لئے پیسے نہیں ہونگے ۔ اہل و عیال بھوکے ہونگے۔بچوں کی تعلیم کے لئے پیسے نہ ہونگے اور وہ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہونگے۔
جناب وزیر اطلاعات و ثقافت صمصام بخاری صاحب ،حکومت پنجاب کو تحریک انصاف پاکستان کی خیبر پختونخواہ میں گذشتہ 5 سال دور اقتدار کے بارے میں یاد دلا دوں کہ وہاں پر حکومت کی جانب سے اداکار، گلوکار، شاعر، موسیقار، ادیب اور دیگر ہنر مندوں کو ماہانہ 30 ہزار روپے وظیفہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو انکے اکاونٹ میں منتقل کر دیا جاتا تھا۔ جہاں سے وہ اپنی ضرورت کے مطابق رقم نکلوا لیتے تھے۔ جبکہ پنجاب میں )ن( لیگ کی حکومت اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے وظائف کے نام پر فنکاروں کو بھکاری بنا رکھا تھا انکی عزت نفس مجروع ہوتی تھی پنجاب میں کسی فنکار کو5ہزار ،8ہزار اور کسی کو10،15، 20،اور25 ہزار روپے ملتے تھے ۔ فنکارو ں کے فنڈز میں لاکھوں روپے کے گھپلے ہوئے ان لوگوں کو بھی وظائف اور مالی امداد دی گئی جن کا فن و ثقافت سے دور کا کوئی واسطہ نہ تھا۔ پنجاب اور سندھ کی نسبت فنکاروں کو وظائف دینے کا طریقہ کار خیبر پختونخواہ حکومت کا انتہائی شفاف تھا وہاں پر تو موسیقی کے آلات بنانے والوں کو بھی وظائف ملتے رہے ہیں ۔
صدارتی فنڈز میں بھی رقوم ان لوگوں کو ملتی رہی ہیں جو پہلے ہی کوٹھی کار کے مالک ہیں اور ممبران نے اپنے جاننے والوں کو لاکھوں روپے کے فنڈز مالی امداد کے طور پر دے کر ان کو نوازا۔صدارتی فنڈز میں سے ان لوگوں کو لاکھوں روپے ادا کئے جو ممبران کے قریبی تعلق دار تھے ۔
کمرشل تھیٹر کو ختم کرنے سے ہزاروں فنکار، تخلیق کار اور اس شعبے سے وابستہ سینکڑوں افراد بے روزگار ہوجائیں گے ۔ کمرشل تھیٹر میں اگر ڈانس پرفارمنس ہوتی ہے اور ساتھ ہی آخر میں ایک عمدہ پیغام بھی چھوڑ ا جاتا ہے جو کہ اصلاحی ہوتا ہے اور یہ کہنا مبا لغہ آرائی ہے کہ فیملیز کمرشل تھیٹر نہیں دیکھتی ۔ اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔سابق صوبائی وزیر ثقافت نے 34رکنی تھیٹر بحالی کمیٹی بنائی تھی اور جس شخص کو اس کمیٹی کا چئیرمین بنایا اس کو تھیٹر کا کیا علم تھااور اس کمیٹی کے ممبران میں سینئر فنکاروں اور تخلیق کاروں کو اس نو مولود بچے سے رہنمائی لینے کے لئے کمیٹی کا چئیرمین اور ڈرامہ سنسر کرنے کے لئے ممبر بنایا گیا تھا۔ وہ اداکاراؤں کو بلیک میل کرتا اور بین کرنے کی دھمکی بھی دیتا ۔اور جس کا علم سابق وزیر موصوف کو علم بھی تھا مگر فیاض الحسن چوہان جیسے شخص کی کیا مجبوری تھی کہ وہ اس نا بالغ اور نومولود بچے کے ہاتھوں کھلونا بنے رہے اور تمام افسران کو بھی یہ ہدایت تھی کہ ان کے بنائے ہوئے کمیٹی کے چئیرمین کی ہدایات مانی جائیں ۔ میں یہاں پر بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سابق صوبائی وزیراطلاعات وثقافت پنجاب نے جس اداکارہ کو 300روزے رکھوانے کا دعوی کیا تھا اسکے لئے ایک میوزک کنسرٹ کا اجراء کیا اور پھر اس کو روزے رکھوانے کے لئے وزرات سے استعفا دینے کے بعد اس اداکارہ کے دولت خانہ ہمراہ اپنے چمچوں تشریف لے گئے اور یہ سب ان لوگوں کا مشورہ تھا جن کے ہاتھوں وزیر موصوف کھلونا بنے ہوئے تھے سابق صوبائی وزیر جس شخص کو سٹیج کا مافیا کہتے رہے اسکے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھے اس کا علم ہمیں نہیں ہو سکا کہ وہ کیا مجبوری تھی کہ سابق وزیر کو ایسا کرنا پڑا۔ بات ہورہی تھی ہیلتھ انشورنس کارڈ کی تو اس سلسلے میں گزارشات پیش کرتا ہوں کہ ہیلتھ انشورنس کارڈ کی بجائے فنکاروں اور تخلیق کاروں کو تین لاکھ روپے سالانہ کا مالی امداد کا فنانس کارڈ دیا جائے اورجس کی ماہانہ 25ہزار روپے کی حد مقر ر کی جائے تاکہ وہ ہرماہ 25ہزار سے زیادہ کی رقم نہ نکال سکے اور ایک لاکھ روپے کا ہیلتھ انشونس کارڈ جاری کیا جائے تا کہ وہ وقت ضرورت اسکو استعمال کر سکے اس طرح انکی عزت نفس مجروع نہیں ہوگی اور فن اور فنکاروں کی پذیرائی کا صاف اور شفاف عمل جاری ہوگا۔ ایک حساس فنکار نے اس ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے کہا کہ ڈسپرین کے اشتہار میں یہ انتباہ کیا جاتا ہے کہ خالی پیٹ نہ کھائی جائے ۔ جبکے فنکار تو خالی پیٹ ہیں انکی صحت کی بحالی چاہتے ہیں تو اسے راشن کارڈدیں جوکہ اس وقت فول پروف طریقے سے دئے جاسکتے ہیں۔بجائے پیسے دینے کے دو بڑے ملٹی نیشنل سٹور ہیں ۔ ہائپرسٹار اور میٹرو جنکو حکومت کے تعاون سے ٖصرف راشن کے حصول کے لئے کارڈز کا اجرا کیا جائے تاکہ فنکار فاقہ کشی سے خودکشی کی جانب جانے سے روک سکیں ۔ یہ ہی ایک فلاحی ریاست کا کردار ہے۔ فنکاروں اور تخلیق کاروں کو آرٹسٹ ہیلتھ انشورنس کارڈز سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ جو کمپنی انشورنس کرے گی اس کو بے پناہ فائدہ ہوگا اور اس سے زیادہ کمیشن وہ کھائیں گے جو انشورنس کمپنی سے معاہدہ کرائیں گے۔ یہ وہ رقم ہے جو فنکاروں اور تخلیق کاروں کو ماہانہ کی بنیاد میں تقسیم کی جاتی تھی جس کو ہیلتھ انشورنس کارڈ کا لالی پاپ دے دیا گیا ہے۔ جناب عمران خان وزیر اعظم پاکستان، جناب عثمان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب اور پیر سید صمصام بخاری صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ہیلتھ انشورنس کارڈ کو فی الفور ختم کریں۔ بے روزگار فنکاروں، تخلیق کاروں کو خیبر پختونخواہ کی طرز پر ماہانہ مقرر کیا جائے۔ اور جو آٹھ کروڑ ہیلتھ انشورنس کارڈ کے لئے مختص کیا گیا ہے وہ فنکاروں اور تخلیق کاروں میں فی الفور تقسیم کیا جائے۔ تاکہ انکے گھر کا چولہا جوکہ عرصہ سے ٹھنڈا پڑا ہوا ہے گرم ہو جائے۔
پاکستان میں پرانے پاکستان کی طرح ہی تمام سلسلے جاری و ساری ہیں۔کسی بھی محکمہ میں ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ پر گرایجویٹی ملتی ہے ماہانہ پنشن دی جاتی ہے اور ایک پلاٹ بھی رہائش کے لئے دیا جاتا ہے۔ لیکن شوبز سے وابستہ افراد کے لئے کوئی گرایجویٹی نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ اگر ٹی۔وی میں کام کرے تو ٹیکس دیتے ہیں۔سٹیج پر کام کرے تو ٹیکس، فلم میں کام کریں تو ٹیکس۔ صرف انکے لئے ٹیکس ہی ٹیکس ہیں۔
خدارا حکومت شوبز سے وابستہ افراد پر احسان نہ کرے کیونکہ یہ ان کا حق ہے کہ اگر وہ بے روزگار ہوگئے ہیں تو ریاست کا اولین فرض ہے کہ انکی ہر طرح دیکھ بھال کی جائے۔ ان کو عزت سے زندگی کزارنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ایک حساس فنکار ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے کہا کہ ڈسپرین کے اشتہار میں یہ انتباہ کیا جاتا ہے کہ خالی پیٹ اور بد ہضمی کی صورت میں نہ کھائیں جبکہ فنکار تو خالی پیٹ ہیں انکی صحت کی بحالی چاہیے تو انہیں ماہانہ وظیفہ خیبر پختون خواہ کی طرز پر فنانس کارڈ فوری جاری کیا جائے ۔
ہمارا سید صمصام علی بخاری صوبائی وزیر اطلاعات وثقافت پنجاب کو مشورہ ہے کہ وہ الحمراء میں اپنا دفتر ہرگز نہ بنائیں وہ ایک جہاندیدہ سیاست دان اور ایک صوفی مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں الحمراء انکی ڈومین نہیں ہے کیونکہ وہ الحمراء کے وزیر نہیں ہیں بلکہ وہ پورے صوبے کے وزیر ہیں اور انکا دفتر صرف اور صرف سول سیکرٹریٹ میں ہی ہونا چاہیے سننے میں آرہا ہے کہ سید صمصام بخاری بھی فیاض الحسن چوہان کی طرح الحمراء میں اپنا آفس بنا نے کی تیاری کر رہے ہیں ان کا یہ فیصلہ سراسر غلط ہوگا ۔
لاہور آرٹس کونسل (الحمراء) اور دیگر ثقافتی اداروں میں کیا ہوتا ہے اور ما ضی میں کیا ہو تا رہا ہے آئندہ کالم میں سنسنی خیز اور حیرت انگیر انکشافات کیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں